’’ کسی ایک اتحادی پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوگا‘‘۔یہ شق ناٹو کے میثاق میں بھی آرٹیکل پانچ کے نام سے انیس سو انچاس سے موجود ہے۔تاہم چالیس سالہ سرد جنگ سے آج تک یہ شق متحرک کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
چھ رکنی خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی ) انیس سو بیاسی سے فعال ہے۔جی سی سی ممالک کے درمیان بھی جو دفاعی معاہدہ ہے اس کے مطابق ایک اتحادی پر حملہ تمام پر تصور ہوگا۔یہ شق بس ایک ہی بار حرکت میں آئی جب ایک رکن کویت پر ایک غیر رکن عراق نے اگست انیس سو نوے میں قبضہ کیا تھا۔یہ قبضہ چھڑوانے کے چار برس بعد انیس سو پچانوے سے امریکا نے خلیجی ریاستوں کے تحفظ کے نام پر فوجی اڈوں کی ایک دفاعی زنجیر کی مانند تعمیر شروع کی۔یہ اڈے اس سال فروری کے بعد میزبان ممالک کو تو خیر کیا تحفظ دیتے الٹا خود عدم تحفظ کا شکار ہو گئے۔
گذشتہ ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوطرفہ دفاعی تحفظ کا سمجھوتہ ہوا اور اب میثاقِ مکہ پر پاکستان ، ترکی اور سعودی عرب نے دستخط لیے ہیں اور اس معاہدے کو مسلمان ممالک کے مشترکہ دفاع کے ممکنہ ڈھانچے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد ریاض ، انقرہ اور اسلام آباد سے وضاحت بھی ہوئی کہ یہ معاہدہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی ہے۔تاہم جس جس کو بھی محسوس ہوا کہ ممکن ہے آگے چل کے میں ہی ہدف بنوں تو اس ملک نے محتاط روی کا مظاہرہ کیا۔
مثلاً اسرائیلی حکومت نے کہا کہ وہ اس پیش رفت کا دلچپسی سے جائزہ لے رہی ہے۔مودی حکومت کے خارجہ ترجمان نے بھی کم و بیش یہی الفاظ دوہرائے۔ البتہ گودی میڈیا نے حسبِ توقع اس معاہدے کو بھارت اور اس کے دوستوں کا گھیرا تنگ کرنے کا منصوبہ قرار دیا۔
بھارتی میڈیا کا بنیادی فوکس یہ تھا کہ یہ معاہدہ تین مسلمان سنی ریاستوں کے درمیان طے پایا ہے۔مگر ایک سرکردہ بھارتی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے مشورہ دیا کہ بہت زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ۔یہ کوئی شیعہ سنی چکر نہیں بلکہ امریکا کے ممکنہ فوجی انخلا سے خالی ہونے والی جگہ پر کرنے کے لیے اگر اسرائیل اور ایران سینگ پھنساتے ہیں تو میثاقِ مکہ مغربی ایشیا کے تلاطم خیز خطے کو متوازن رکھنے کے لیے لنگر کا کام دے گا۔
ایرانی سیکریٹری خارجہ اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاک سعودی ترک دفاعی معاہدہ ایران مخالف نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ علاقائی ممالک کو اب امریکا کی جانب سے تحفظ کی ضمانتوں پر اعتبار نہیں رہا۔ امریکا کے خلا کو بقول ایران مختلف علاقائی الائنز سسٹم سے بھرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کر کے معاہدے کی تفصیلات اور مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ہم خیال ملک اس اتحاد میں شامل ہو سکتا ہے۔
توقع تھی کہ مصر معاہدے کا چوتھا ستون ہوگا۔ تاہم مصر کے سعودیوں کے علاوہ امارات سے بھی گہرے اقتصادی و سیاسی تعلقات ہیں اور امارات اور سعودی اس وقت بالخصوص یمن اور سوڈان کے معاملات پر ایک دوسرے سے کھچے کھچے سے ہیں۔ مصر اگرچہ فروری میں ایران پر امریکی اسرائیلی چڑھائی کے بعد سے پاک ، سعودی ، ترک صلاح مشوروں اور مصالحانہ کوششوں میں شریک رہا ہے تاہم وہ خطے میں اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ملک بھی ہے۔
دو ہزار تئیس کے بعد سے مصر اور ترکی کے درمیان تعلقات تیزی سے بہتر ہوئے ۔دونوں ممالک کو مشرقی بحیرہ روم میں اسرائیلی عزائم پر بھی تشویش ہے۔دونوں ممالک کو اسرائیل بھی خطے میں ایک ممکنہ طاقتور حریف سمجھتا ہے۔
اگرچہ پاکستان سے قربت کے سبب ترکی سے بھارت کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں مگر پاکستان کی نسبت بھارت سے مصر کے سیاسی و اقتصادی تعلقات خاصے بہتر ہیں۔لگ بھگ سات سو بھارتی کمپنیاں مصر میں رجسٹرڈ ہیں۔ان میں پچاس ہزار مقامی باشندے کام کرتے ہیں۔دوطرفہ تجارت کا حجم سات ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
بھارت کا ایک چوتھائی تیل سعودی عرب سے آتا ہے۔آرامکو کی بھارت میں بھاری سرمایہ کاری ہے۔ چنانچہ بھارت کھل کے تو میثاقِ مکہ کی مخالفت نہیں کر سکتا البتہ بھارت اس معاہدے کا سٹرٹیجک جواب متحدہ عرب امارات ، اسرائیل ، قبرص اور یونان کے ساتھ کسی دفاعی ہم آہنگی میں پرو کر ضرور دینا چاہے گا۔
اٹھائیس فروری کے بعد اگرچہ خلیجی دفاعی نظام متزلزل ہو گیا ہے اس کے باوجود خطے کے ممالک کو امریکا کی سیاسی ، سفارتی و تجارتی ضرورت تو رہے گی۔البتہ سلامتی کے تقاضوں کے لیے امریکا پر پہلے کی طرح مکمل انحصار نہیں ہو سکتا۔ یعنی اب دفاع کے لیے خطے سے باہر نہیں دیکھا جائے گا بلکہ مقامی طور پر ہی اپنی مدد آپ کا بندوبست کرنا پڑے گا۔
اس سہہ رکنی معاہدے کے سبب اگرچہ ایران کو خطے کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر خود کو معتدل رکھنا پڑے گا مگر جائز ایرانی مفادات کا خیال رکھے بغیر علاقائی امن بھی قائم نہیں رہ سکتا۔اسرائیل کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ اس کی طاقت اور سٹرٹیجی بے لگام نہیں ہو سکتی۔اسے گریٹر اسرائیل منصوبے کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں اب پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر سوچنا پڑے گا۔
دو ہزار چھبیس کی گلوبل پاور انڈیکس کے مطابق میثاقِ مکہ میں شامل تینوں ممالک کی مشترکہ فوج لگ بھگ چودہ لاکھ ہے۔ان کے پاس مجموعی طور پر تین ہزار چار سو طیارے ، چھ ہزار ٹینک اور تین سو چالیس بحری اثاثے ہیں۔ ترکی کا دفاعی بجٹ اکیاون اعشاریہ چار بلین ڈالر ہے اور وہ ناٹو اتحاد میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوج رکھتا ہے۔سعودی دفاعی بجٹ چونسٹھ ارب ڈالر اور پاکستان کا دفاعی بجٹ نو اعشاریہ ایک بلین ڈالر ہے۔
سعودی عرب کے پاس وسیع جغرافیہ ، جدید انفراسٹرکچر ، علاقائی اثر و رسوخ ، تیل اور سرمایہ ہے۔ترکی دفاعی صنعت میں خودکفیل ہے۔وہ ڈرونز ، میزائل ، سنسرز ، الیکٹرونک وارفیر ٹیکنالوجی، نیول سسٹم اور ناٹو کی فوجی مہارت سے مالامال ہے۔ایٹمی پاکستان کے پاس سب سے بڑی تجربہ کار پروفیشنل آرمی بھی ہے اور دفاعی سازوسامان کی تیاری کی صلاحیت بھی۔ سعودی سرمایہ ترک دفاعی صنعتوں اور پاکستانی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے۔ واشنگٹن کو اس لیے تشویش نہیں کہ وہ اس انتظام کو امریکی اتحادیوں کی جانب سے دفاعی بوجھ بانٹنے کے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔
دنیا میں جتنے بھی ایسے اتحاد بنے ہیں ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ حریف پر کل ہی چڑھ دوڑیں۔ بلکہ وہ کسی خطے کی مخصوص صورتِ حال میں توازنِ طاقت برقرار رکھنے کے لیے تشکیل پاتے ہیں اور حریفوں کو بھی جتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی آڑا ترچھا سوچنے سے پہلے ممکنہ نتائج پر دس بار غور فرما لیں۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)