کراچی:
منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کی 3 مقدمات میں بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
اس حوالے سے پراسیکیوشن نے فیصلے کی تصدیق شدہ نقول حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کروا دی ہے۔ پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ انمول عرف پنکی کی بریت سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نہ ملزمہ پر فرد جرم عائد ہوئی ہے اور نہ ہی کسی گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پراسیکیوشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ نقول ملنے کے بعد عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد قانونی چارہ جوئی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے منشیات کے 3 مقدمات میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
دریں اثنا پولیس نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اور غیر قانونی اسلحہ کے مقدمات میں اپنا چالان عدالت میں جمع کرادیا۔
ذرائع کے مطابق پراسیکیوٹر سفران ایڈووکیٹ نے دونوں مقدمات کے چالان کی اسکروٹنی کی۔ عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق انمول عرف پنکی، سہیل، ذیشان اور عاقب گرفتار ہیں۔ 2 خواتین ملزم سمارہ اور صبا مفرور ہیں۔
چالان کے مطابق مقدمات میں 7 گواہوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمہ انمول عرف پنکی کو اس کے فلیٹ واقعہ گارڈن سے گرفتارکیا گیا تھا۔ ملزمہ سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کیں تھی۔ ملزمہ سے غیرقانونی اسلحہ بھی پرآمد کیا گیا۔
سفران ایڈووکیٹ کے مطابق منشیات اور غیر قانونی اسلحہ کے الگ مقدمات رجسٹرڈ کیے گئے۔ ملزم سہیل اور ذیشان سگے بھائی ہیں۔ دونوں ملزم انمول عرف پنکی کے مالی اور دیگر معاملات دیکھتے تھے۔ ملزم عاقب اور مفرورخواتین ڈرگ ڈیلر کے سہولت کار تھے۔ ملزمہ انمول عرف پنکی کا منشیات کی سپلائی کے لیے ایک مضبوط گینگ تھا۔