آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ انتخاب کیلئے دو نام سامنے آگئے

سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا


خالد محمود August 15, 2026
فوٹو فائل

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے 3 مرحلے مکمل ہوچکے ہیں، جن میں اب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 24 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل کرلی، جس کے بعد نئے وزیراعظم کے لیے مشاورت جاری ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، حمزہ شہباز، وفاقی وزرا،شاہ غلام قادر، چوہدری طارق فاروق، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدرسمیت نومنتخب اراکین آزاد کشمیر اسمبلی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) پاکستان اور آزاد کشمیر کے سینیئررہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی، قائد ایوان کے انتخاب اور دیگر اہم پارلیمانی عہدوں کے لیے انتخاب کے حوالے سے تفصیلی غورکیا گیا، اجلاس میں قائد ایوان کے ساتھ اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب پر بھی غور کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ آزاد کشمیر حکومت کے اہم آئینی و پارلیمانی عہدوں کے لیے ناموں پر مشاورت کی گئی اورمسلم لیگ (ن) کی قیادت نے آزاد کشمیرمیں حکومت سازی کا آئندہ لائحہ عمل طے کرلیا۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر اور سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق قائد ایوان کے لیے فیورٹ کے طور پر سامنے آگئے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے دونوں رہنماؤں کے بارےمیں سوچ و بچار کے بعد نئے وزیراعظم کا نام سامنے لایا جائے گا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے قائد ایوان کے انتخاب کا حتمی اختیار نواز شریف کو سونپ دیا اور نواز شریف آئندہ چند روز میں آزاد کشمیر کے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔

اجلاس میں حکومت سازی کے لیے پارلیمانی پوزیشن اورمطلوبہ سیاسی حمایت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، آزاد ارکان اور دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

مزید بتایا گیا کہ اجلاس میں حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی اور پارلیمانی صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حکومت سازی کے بعد گڈ گورننس، تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیحات میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آزاد کشمیر میں روزگار، بنیادی سہولیات اورعوامی فلاح کے منصوبوں سے متعلق مجوزہ حکومتی ترجیحات کا جائزہ بھی لیا گیا، مؤثر اور فعال حکومت کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔

نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں مخصوص نشستوں کے امیدواروں کے ناموں پر بھی پارٹی قیادت کی سطح پر مشاورت کی گئی، خواتین، ٹیکنوکریٹ، اوورسیز اور علما کی نشستوں کے لیے موصول نام بھی زیر غور آئے۔

قبل ازیں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرست نواز شریف کو ارسال کی گئی، فہرست میں خواتین کی نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا عمل آئندہ ہفتے مکمل ہونے کا امکان ہے، نواز شریف کی منظوری کے بعد آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

نواز شریف نے اجلاس میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے فلیٹ میں سے وزیراعظم آزاد کشمیر کو ہیلی کاپٹر دیں تاکہ وزیراعظم آزاد کشمیر آسانی سے دور دراز حلقوں میں جا سکیں اور لوگوں کے مسائل حل کریں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی آزاد جموں کشمیر کی حکومت سے تعاون کرنے کی ہدایت کی۔