متحدہ کی قیادت صوبے کو نہیں، کراچی کے عوام کو یرغمال بنانے کی بات کر رہی ہے، ناصر حسین شاہ

سندھ کے عوام سمیت تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ سندھ میں کوئی نیا صوبہ نہیں بننا چاہیے، سعید غنی


ویب ڈیسک August 16, 2026

صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس سے واضح ہے کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، خالد مقبول صدیقی کا ذہنی دباؤ قابلِ فہم ہے، لیکن اس کا علاج صرف وفاقی وزیرِ صحت کے پاس ہے۔ متحدہ کی خود ساختہ قیادت جب بھی پریس کانفرنس کرتی ہے، شدید ناراض اور فرسٹریٹڈ نظر آتی ہے، یہ فرسٹریشن ان کی سیاسی تنہائی اور سیاسی بے بسی کی عکاسی کرتی ہے۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی خود ساختہ اور نام نہاد قیادت نہ کراچی کے عوام کی منتخب کردہ ہے، نہ ہی حقیقی سیاسی نمائندگی رکھتی ہے۔ متحدہ کی نام نہاد قیادت صوبے کو نہیں، کراچی کے عوام، تجارت، امن اور خوشحالی کو یرغمال بنانے کی بات کر رہی ہے۔ کراچی کے عوام ان کے چہرے اور ماضی کو خوب پہچانتے ہیں، اسی لیے شہریوں نے انہیں مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جو ان کی سوچ، سمجھ، فہم اور سیاسی قد سے بالاتر ہوں۔ فاروق ستار موجودہ متحدہ کے بارہویں کھلاڑی ہیں، جو اب متحد نہیں رہی۔ سندھ تقسیم نہیں ہوگا، لیکن میں متحدہ کو تقسیم ہوتا ہوا ضرور دیکھ رہا ہوں۔

ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ سے ’م‘ اور ’خ‘ الگ ہو جائیں گے، باقی ’ف‘ فیتے کی طرح گھومتا رہے گا۔ متحدہ کے غیر متحد افراد کو سمجھ لینا چاہیے کہ کراچی کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ کراچی کی عوام محبت، بھائی چارے، امن اور ترقی کے سفر کے ساتھ ہیں، اب ان کا متحدہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔

سعید غنی نے کہا  کہ صوبہ سندھ کے عوام سمیت تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ سندھ میں کوئی نیا صوبہ نہیں بننا چاہیے۔ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار یا مصطفیٰ کمال اپنے علاقے کے کونسلر تک منتخب نہیں ہوسکتے، وہ صوبے بنانے کی باتیں کررہے ہیں۔ کچھ دن پہلے آپس میں ایک دوسرے پر گولیاں برسانے والے آج سندھ کے عوام میں تفریق پیدا کرنے کی سازش کررہے ہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس کرکے ایک مرتبہ پھر یہ راگ الاپنا شروع کیا کہ صوبہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی کوئی تجویز لائیں۔ کراچی میں ہفتوں تک ہڑتالیں، بھتہ لینے والے، روزانہ سو سو بے گناہ لوگوں کی جانیں لینے والے، فیکٹریوں میں مزدوروں کو زندہ جلانے والے آج کراچی شہر کی سڑکوں اور گٹر پر ڈھکن نہ ہونے کی بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کا آئینی اختیار یہاں کے عوام کا ہے اور جب وہ چاہیں تب ہی نئے صوبے بن سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، ان حالات میں اگر کسی صوبے میں رہنے والے لوگوں کے درمیان نفرتیں اور دوریاں پیدا کی جائیں گی اور خدانخواستہ لسانی فسادات کی سازش کی جائے گی تو اس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے نہیں بلکہ صوبہ سندھ میں جتنی مختلف سیاسی جماعتیں مختلف اوقات میں منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آتی رہی ہیں، انہوں نے مختلف اوقات میں سندھ اسمبلی کے ذریعے کئی قراردادیں منظور کیں، جن میں کہا گیا کہ صوبہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے آئین میں صوبے بنانے کے اختیارات کو کنفلیکٹ آف انٹرسٹ قرار دینا حیرت انگیز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ شاید یہ چاہتے ہیں کہ صوبہ سندھ میں صوبے بنانے کا اختیار پنجاب اسمبلی اور پنجاب یا دیگر صوبوں میں صوبے بنانے کا اختیار کسی دوسری صوبائی اسمبلی کو ہو۔ خالد مقبول صدیقی کے مطابق جن صوبوں میں کوئی نیا صوبہ بننا ہے وہاں کے لوگ یہ فیصلہ نہ کریں بلکہ یہ فیصلہ کوئی اور کرے۔ یہ تو ایک کامن سینس کی بات ہے کہ جس صوبے میں اس قسم کا فیصلہ ہونا ہے وہاں کی عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے، ہم اپنے منتخب لوگوں کے ذریعے یہ فیصلہ کریں اور اس سے بہتر طریقہ نہیں ہوسکتا۔

سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کا مقدمہ مختلف اس لیے ہے کہ پنجاب اسمبلی نے ایک نہیں دو نئے صوبوں کی قرارداد منظور کی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں نفرت کی سیاست کی ہے اور اس وقت دوبارہ وہ نفرت کی سیاست کی طرف شہر کو دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم بغض پیپلز پارٹی میں سندھ کے اندر نفرتیں پیدا نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سے اختلاف ہے، ہم پر لاکھ تنقید کرلیں، ہم سے جو حساب کتاب کسی طرح کرنا چاہتے ہیں وہ کرلیجئے، لیکن صوبہ سندھ کے امن کو اور صوبہ سندھ میں رہنے والے لوگوں کے درمیان محبت کو اپنی اس سیاسی نفرت کی بھینٹ مت چڑھائیں۔ اس وقت ایم کیو ایم کی سیاست مردہ گھوڑے کی ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کلی طور پر صوبہ سندھ میں رہنے والے لوگوں کا اختیار ہے، اس کے علاوہ کوئی شخص یہ فیصلہ نہیں کرسکتا۔ آئین میں طریقہ کار درج ہے، کسی کو شوق ہے آئیں وہ طریقہ کار آزما کر دیکھ لیں۔ صوبہ سندھ میں کسی اور صوبے کے لوگوں کو یا کسی اور علاقے کے لوگوں کو یہ بالکل اختیار نہیں دے سکتے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ یہاں مزید صوبے بننے چاہئیں یا نہیں بننے چاہئیں۔