بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے

یہ پہلی بار سامنے آیا ہے کہ اس مہلک دماغی بیماری کی رفتار کو ممکنہ طور پر متاثر کیا جا سکتا ہے: تحقیق


ویب ڈیسک August 17, 2026

نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹرز کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کے علاج میں استعمال ہونے والی پرانی دوا گوانابینز بچوں میں ایک نایاب اور جان لیوا دماغی بیماری کی پیش رفت سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کا مرکز Vanishing White Matter (VWM) نامی نایاب موروثی دماغی بیماری ہے، جو زیادہ تر کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں دماغ کے سفید مادے کو نقصان پہنچنے کے باعث بچوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں بتدریج متاثر ہوتی ہیں، جبکہ شدید صورتوں میں بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

محققین نے گوانابینز استعمال کرنے والے بچوں کی بیماری کی تقریباً تین سال تک نگرانی کی اور ان کے نتائج کو بین الاقوامی رجسٹری میں شامل اسی نوعیت کی بیماری کی شدت رکھنے والے 66 ایسے بچوں سے موازنہ کیا جنہیں یہ دوا نہیں دی گئی تھی۔

نتائج کے مطابق گوانابینز لینے والے بچوں میں وہیل چیئر پر انحصار کم اور نسبتاً دیر سے پیدا ہوا۔ مزید یہ کہ مطالعے کے دوران دوا لینے والے کسی بچے کی موت نہیں ہوئی جبکہ موازنے کے گروپ میں شامل 66 بچوں میں سے پانچ بچے انتقال کر گئے۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق یہ پہلی بار سامنے آیا ہے کہ اس مہلک دماغی بیماری کی رفتار کو ممکنہ طور پر متاثر کیا جا سکتا ہے۔

ایمسٹرڈم یو ایم سی پہلے ہی VWM کے لیے گوانابینز پر کلینیکل تحقیق کر رہا ہے اور اس بیماری کے لیے مؤثر علاج تیار کرنے پر کام جاری ہے۔

تاہم، دوا کے کچھ مضر اثرات بھی سامنے آئے، جن میں غنودگی، قبض، کم بلڈ پریشر اور بعض صورتوں میں ہیلو سینیشنز شامل تھے۔ یہ اثرات زیادہ تر علاج کے ابتدائی مہینوں میں دیکھے گئے جبکہ تقریباً چار سے چھ ماہ بعد بچوں نے دوا کو عموماً بہتر طور پر برداشت کیا۔

یہ تحقیق دی لانسٹ نیورولوجی میں شائع ہوئی ہے۔