نیدرلینڈز کے یونیورسٹی میڈیکل سینٹر گروننجن (یو ایم سی جی) کے ماہرینِ قلب کی قیادت میں ہونے والی تین نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائیگوکسن کی کم خوراک ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے سے بچانے اور موت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ان مطالعوں کی رہنمائی کرنے والے ادارے کے ماہرینِ قلب ڈرک جین وین ویلڈوزین، کیوین ڈیمن اور پیٹر وین ڈر مِیر کے مطابق ان نتائج سے مستقبل میں ہارٹ فلیئر کے علاج کے رہنما اصول متاثر ہو سکتے ہیں اور ایک نسبتاً سستی دوا مزید مریضوں کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔
ہارٹ فیلیئر ایک سنگین اور بڑھتا ہوا طبی مسئلہ ہے۔ نیدرلینڈز میں اندازاً پانچ لاکھ سے زائد افراد اس بیماری کا شکار ہیں جبکہ آنے والے برسوں میں یہ تعداد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
اس بیماری میں دل جسم کو مطلوبہ مقدار میں خون مؤثر انداز سے پمپ نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں شدید سانس پھولنے، تھکن اور بار بار اسپتال جانے جیسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ہارٹ فیلیئر کے موجودہ علاج میں عموماً چار اہم ادویات کا مجموعہ استعمال کیا جاتا ہے، جسے ماہرین غیر رسمی طور پر ’فنٹاسٹک فور‘ کہتے ہیں۔
ماہرین طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ڈائیگوکسن کو ان ادویات کے ساتھ پانچویں علاج کے طور پر شامل کرنے سے مریضوں کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
یو ایم سی جی کی تین نئی تحقیقات اس امکان کے حق میں شواہد فراہم کرتی ہیں۔
ایک تحقیق میں نیدرلینڈز کے 43 طبی مراکز سے ہارٹ فیلیئر کے شکار تقریباً 1000 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ نصف مریضوں کو معمول کے علاج کے ساتھ کم خوراک میں ڈائیگوکسن دی گئی، جبکہ باقی نصف کو پلیسبو دیا گیا۔
مریضوں کی تقریباً تین سال تک نگرانی کے بعد محققین کو معلوم ہوا کہ کم خوراک والی ڈائیگوکسن لینے والے گروپ میں دل کی کمزوری کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کے واقعات میں تقریباً 25 فی صد کمی ہوئی۔
محققین کے مطابق یہ نتائج اس پرانے اور کم قیمت علاج کو دوبارہ اہمیت دے سکتے ہیں۔ البتہ، دل کی کمزوری کے ہر مریض کے لیے ڈائیگوکسن موزوں ہونے کا فیصلہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی کیا جانا چاہیے۔
ان مطالعوں کے نتائج جرنل نیچر میڈیسن اور جرنل آف امیریکن میڈیکل سمیت دیگر سائنسی جرائد میں شائع ہوئے جبکہ تحقیق کے نتائج بارسلونا میں منعقد ہونے والی ای ایس سی ہارٹ فیلیئر کانگریس میں بھی پیش کیے گئے۔