ایچ آر سی پی کا لاہور کے تھانے میں دو خواتین کی ہلاکت پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

رپورٹ میں اہل خانہ کے اس مؤقف اور سرکاری ریکارڈ میں موجود تضاد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے


آصف محمود August 16, 2026

لاہور:

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین آمنہ اور انمول کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں آزاد عدالتی ٹربیونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

16 اگست کو جاری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ایچ آر سی پی نے دونوں خواتین کی ہلاکت سے متعلق سرکاری مؤقف اور اہل خانہ کے بیانات میں متعدد تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات اور حالات تاحال واضح نہیں ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کو مبینہ چوری کے الزام میں 4 اگست کو پولیس نے حراست میں لیا تھا اور چند گھنٹوں کے اندر ان کی ہلاکت ہوگئی۔ واقعے کے بعد ہلاکت کے وقت، واقعات کی ترتیب، خواتین کی عمروں اور اسپتال منتقل کیے جانے کے وقت ان کے زندہ یا مردہ ہونے سے متعلق مختلف سرکاری بیانات سامنے آئے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر دونوں خواتین کی موت کو دل کا دورہ قرار دیا، تاہم حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹس تاحال سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

رپورٹ میں اہل خانہ کے اس مؤقف اور سرکاری ریکارڈ میں موجود تضاد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس کے مطابق اہل خانہ نے خواتین کے جسموں پر چوٹوں اور خشک خون کے نشانات دیکھنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سرکاری دستاویزات میں کسی بیرونی چوٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ایچ آر سی پی نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رپورٹس میں طبی مشاہدات غیر معمولی حد تک ایک جیسے ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن نے خواتین کو حراست میں رکھے جانے کے دوران لیڈی پولیس اہلکاروں کی مبینہ عدم موجودگی، اہل خانہ کو اطلاع دینے میں تاخیر اور پوسٹ مارٹم، تدفین اور بعد ازاں قبروں تک رسائی کے معاملے میں پولیس کے غیر معمولی کنٹرول پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں دونوں خواتین کو منشیات استعمال کرنے والی قرار دینے کے پولیس کے دعووں پر بھی سوال اٹھایا گیا اور کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد ان الزامات کی تائید نہیں کرتے۔

ایچ آر سی پی نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت عدالتی انکوائری شروع کیے جانے کے باوجود کیس میں موجود مجموعی تضادات زیادہ قابل اعتماد اور آزاد تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں۔

تنظیم نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں بااختیار عدالتی ٹربیونل قائم کیا جائے، جو گواہوں کو طلب کرنے، شواہد پیش کرنے کا حکم دینے اور مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔

ایچ آر سی پی نے تجویز دی ہے کہ ٹربیونل ضرورت پڑنے پر لاشوں کا آزاد فرانزک معائنہ اور دوبارہ پوسٹ مارٹم یا تدفین شدہ لاشوں کی قبر کشائی کا حکم دے، مکمل سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ کرکے اس کا جائزہ لے اور واقعات کی سرکاری ٹائم لائن کی آزادانہ طور پر تصدیق کرے۔

رپورٹ میں خواتین کے اہل خانہ کو فوری تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق خاندان کے کمزور معاشی حالات انہیں انصاف کے حصول کے دوران دباؤ یا دھمکیوں کا زیادہ سامنا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ کے مطابق معاملے میں موجود تضادات کے پیش نظر شفاف اور آزاد تحقیقات ضروری ہیں۔