پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں پی پی کو مطلوبہ کامیابی نہ ملنے کے بعد الٹی گنتی کے جو بیانات دینے شروع کیے ہیں ،اس پر بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہر حکومت کے دو تین سال بعد ملک میں بھونچال آ جاتا ہے اور تین سال بعد حکومت کے گرنے کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ایک اور تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ جب سے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک مشہور ہوئی ہے ہر بندہ دانشور بن گیا ہے اور تبصرے شروع کر دیتا ہے جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور افواہیں پھیل جاتی ہیں۔
پی پی چیئرمین کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیر اعظم سے کوئی شکایت نہیں، لڑائی لاہور اور اسلام آباد میں ہے۔ اس تقریر سے لگتا ہے کہ بلاول بھٹو پنجاب حکومت کی کارکردگی تسلیم کرتے ہیں جس کا دعویٰ ہے کہ (ن) لیگ پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں اقتدار میں آ کر وہاں بھی پنجاب کی طرح ترقیاتی کام کرائے گی۔
لاہور اور اسلام آباد میں لڑائی کا بیان اس لیے غلط ہے کہ ن لیگ کے رہنماؤں کے پاس آزاد کشمیر کے الیکشن میں عوام کے پاس جا کر وفاقی حکومت کی کارکردگی بتانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں اور وہ وہاں جا کر صرف دعوے کر سکتے تھے کہ ان کی حکومت نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اکثر مطالبات پورے کر دیے تھے جس کا کریڈٹ (ن) لیگ لے سکتی تھی مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔
وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر والوں کو بلاشبہ بجلی اور آٹے کے نرخوں میں بہت ریلیف دیا ہے جو دیگر پاکستانیوں کو میسر نہیں ، حکومت کی غلط پالیسی سے ملک میں پہلے آٹا مزید مہنگا ہوا اور اب سب سے مہنگی بجلی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے مزید 75 پیسے مہنگی کر دی ہے جو جون کے مہینے کی مد میں ہے حالانکہ جون میں پٹرول کے نرخ کم تھے مگر جولائی میں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر کرنے کی غلط پالیسی اختیار کی گئی۔پی ٹی آئی حکومت کے وزیر اعظم نے 2021 کے آزاد کشمیر الیکشن میں بھرپور مہم اس حد تک چلائی تھی کہ حد سے زیادہ مداخلت اور قابل اعتراض تقاریر پر اس وقت کے وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کے داخلے پر آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے پابندی لگائی تھی جس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان انھیں اپنے جہاز میں آزاد کشمیر لے گئے تھے اور وفاقی اثر و رسوخ استعمال کرکے پی ٹی آئی کی مصنوعی حکومت بنوائی تھی جس کے ساڑھے چار برس میں دو وزیر اعظم خود تبدیل کیے تھے اور تیسرے کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی اور (ن) لیگ کی مدد سے صرف 6 ماہ کے اقتدار کے لیے پیپلز پارٹی نے وہاں اپنا وزیر اعظم منتخب کرایا تھا جہاں اب بھی پی پی کی حکومت ہے جس کی موجودگی میں پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ وہاں مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کرائی اور اتحادی ہوتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی ہی کے ووٹ چوری کیے۔
جی بی کے الیکشن میں بلاول بھٹو نے وہاں موثر انتخابی مہم چلا کر پیپلز پارٹی کو زیادہ نشستیں دلائی تھیں اور (ن) لیگ کی حمایت سے اپنا وزیر اعظم منتخب کرا لیا تھا ،اس لیے وہاں الٹی گنتی کی بات نہیں کی تھی مگر اب وہ مسلسل الٹی گنتی کا واویلا اس لیے کر رہے ہیں کہ (ن) لیگ کی قیادت نے جی بی الیکشن میں دلچسپی نہیں لی تھی مگر اب آزاد کشمیر جا کر میاں نواز شریف اور مریم نواز نے بھرپور انتخابی مہم چلائی اور پنجاب حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر وہاں بھی ترقی کے وعدے کیے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ ہر دور میں حکومت نے ڈھائی تین سال گزرنے یا نصف مدت کے بعد اپوزیشن کی طرف سے الٹی گنتی شروع ہونے کے دعوے شروع ہو جاتے تھے مگر اس بار الٹی گنتی کے دعوے حکومتی اتحادی کی طرف سے شروع ہوئے جس کی تائید چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے بھی اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر واقعی الٹی گنتی شروع ہوتی تو قومی اسمبلی میں آواز اٹھتی اور پنجاب اور کے پی کے میں پی پی کے دونوں گورنر مستعفی ہو جاتے مگر ایسا نہیں ہوا اور بلوچستان میں (ن) لیگ کی مدد سے قائم کرائی گئی پیپلز پارٹی کی حکومت بھی مستعفی ہو جاتی مگر پی پی نے ایسا نہیں کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ الٹی گنتی شروع ہوئی ہے نہ لڑائی لاہور، اسلام آباد میں ہے بلکہ پریشانی آزاد کشمیر میں حکومت نہ بنائے جانے کا ہے۔
پاکستان میں 1985 کے بعد جنرل پرویز مشرف تک کوئی حکومت نصف مدت اقتدار میں کبھی نہیں رہی اس لیے کبھی الٹی گنتی کی بات ہی نہیں ہوئی تھی اور 1999 تک کسی کو آئینی مدت پوری کرنے نہیں موقع نہیں دیا گیا مگر جنرل مشرف دور کی 2002 کی (ق) لیگی حکومت اور اسمبلی نے آئینی مدت پوری کی اور یہ سلسلہ 2023 تک جاری رہا جس میں وزیر اعظم تبدیل ہوئے مگر اسمبلیاں برقرار رہی تھیں۔
سابقہ حکومتوں کی انتقامی پالیسی، ناقص کارکردگی اور عوام کو حکومتی ریلیف نہ دینے پر عوام ضرور حکومت وقت سے بے زار ہو جاتے ہیں اور اپوزیشن حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی اپنے سیاسی مفاد کے لیے کرتی ہے مگر اس بار حکومتی اتحادی پارٹی پیپلز پارٹی کی طرف سے الٹی گنتی کی باتیں ضرور ہو رہی ہیں مگر حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سیاسی مخالفت میں صرف پی ٹی آئی کر رہی ہے جو اس کا سیاسی حق ضرور ہے۔