مینا خان کا نام پی سی ایل سے نہ نکالنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ کو توہین عدالت کے نوٹسز

عدالت نے 24 جولائی کو مینا خان آفریدی کا نام متعلقہ لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا تھا ابتک عمل نہ ہوا، وکیل


کورٹ رپورٹر August 17, 2026

پشاور:

پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے تین روز میں جواب طلب کرلیا۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے  بشیر وزیر ایڈووکیٹ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ عدالت نے تحریری حکم نامے میں 24 جولائی کو مینا خان آفریدی کا نام متعلقہ لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا تھا اس پر اب تک عمل نہ ہوا، ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور ریجن اور اسلام آباد کو عدالتی احکامات ارسال کیے متعلقہ خطوط موجود ہیں۔
 
وکیل نے بتایا کہ مینا خان آفریدی 18 اگست 2026ء کو سرکاری دورے پر برطانیہ روانہ ہونا چاہتے ہیں جبکہ انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دعوت نامہ بھی موصول ہوچکا ہے اور سفری ٹکٹ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔
 
عدالت نے سماعت کے دوران موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آیا درخواست گزار کا نام تاحال پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب کے لیے کچھ وقت طلب کیا، جس کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ مینا خان آفریدی کا نام اب بھی متعلقہ لسٹ میں موجود ہے۔
 
عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کی جانب سے عدالتی احکامات کی بار بار خلاف ورزی کی گئی ہے، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو توہین عدالت کے معاملے پر شوکاز نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔
 
عدالت نے دونوں افسران کو تین روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں 21 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔