ایران کے متحدہ عرب امارات پر میزائل حملے؛ الرٹ جاری

آبنائے ہرمز میں 13 اگست کو بھی ایران نے متحدہ عرب امارات کے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا


ویب ڈیسک August 18, 2026
ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے 2 بیلسٹک میزائل داغے گئے جن میں سے ایک سمندر میں اور دوسرا ساحل کے نزدیک زمین پر گرا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کو بتایا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے یو اے ای کی سمت آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا ہے۔

اماراتی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلا میزائل متحدہ عرب امارات کے سمندر میں گرا جب کہ دوسرا ساحل کے نزدیک زمین پر گرا جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

اماراتی حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دونوں میزائلوں کو ملک کے فضائی دفاعی نظام نے تباہ کیا یا وہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے سمندر میں جا گرے تھے۔

ان حملوں سے قبل متحدہ عرب امارات کے حکام نے شہریوں کو ممکنہ میزائل خطرے کے حوالے سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا جس میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اماراتی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور ملک کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ دفاعی ادارے ریاست کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر اس خطرے کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔

تاحال ایران نے ان دو میزائلوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں بھی خلیجی ممالک کی جانب سے ایرانی میزائل یا ڈرون حملوں کے دعووں کے بعض مواقع پر ایران نے حملوں کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ 13 اگست کو بھی متحدہ عرب امارات نے ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

اس سے ایک روز بعد یو اے ای نے ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔