صحت کے کئی مسائل کو دور کرنے والی ہلدی کے بے شمار فوائد جانیے

ہلدی میں موجود قدرتی اجزا جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے سمیت مختلف مسائل کےلیے مفید ہوسکتے ہیں


ویب ڈیسک August 19, 2026
ہلدی کا روزانہ استعمال آپ کو بے شمار فوائد پہنچا سکتا ہے ( فوٹو: فائل)

جنوبی ایشیائی کھانوں کی پہچان سمجھی جانے والی ہلدی صدیوں سے صرف رنگ اور ذائقے کے لیے نہیں بلکہ روایتی علاج میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں موجود قدرتی اجزا جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے سمیت صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔

ہلدی کا استعمال جنوبی ایشیا میں قدیم زمانے سے جاری ہے، جبکہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ اسے اپنی غذا کا حصہ بنا رہے ہیں۔ روایتی طور پر ہلدی کو پیٹ، جلد، جگر، معدے اور گردوں سے متعلق مسائل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ہلدی کو ڈپریشن، سردرد، برونکائٹس، زکام، شدید درد، تھکاوٹ، پھیپھڑوں کے انفیکشن، جلد کی خارش اور سرجری کے بعد بحالی جیسے مسائل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہلدی کے ان ممکنہ فوائد کی وجہ اس میں موجود مختلف غذائی اجزا اور خاص طور پر کرکیومین کو قرار دیا جاتا ہے۔

کرکیومین سوزش کم کرنے میں مددگار

ہلدی میں پایا جانے والا کرکیومین ایک اہم مرکب ہے جس میں اینٹی انفلیمیٹری یعنی سوزش کم کرنے والی خصوصیات موجود ہیں۔ مختلف مطالعات میں کرکیومین کے ان اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے اور بعض تحقیق میں اسے سوزش کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات سے مشابہ خصوصیات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

جسم میں مسلسل سوزش موٹاپے، دل کی بیماری، کینسر اور الزائمر سمیت مختلف دائمی امراض کے خطرے سے منسلک کی جاتی ہے، اسی لیے ہلدی میں موجود کرکیومین کو ان بیماریوں کے حوالے سے بھی تحقیق کا موضوع بنایا گیا ہے۔

طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات

کرکیومین کو اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل بھی سمجھا جاتا ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں فری ریڈیکلز کے باعث ہونے والے خلیاتی نقصان سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں۔

ہلدی میں موجود کرکیومین آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔ شریانوں کے ٹشوز پر آکسیڈیٹو اسٹریس میں اضافہ مختلف دائمی بیماریوں کے خطرے سے وابستہ ہوسکتا ہے۔

دل کی صحت کے لیے ممکنہ فوائد

ہلدی کے ممکنہ فوائد میں دل کی صحت بھی شامل ہے۔ تحقیق میں کرکیومین کے خون کی شریانوں کے اندرونی حصے کے افعال پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے، جو دورانِ خون اور قلبی صحت کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

ہلدی بلڈ پریشر اور خون جمنے کے عمل سے متعلق بعض عوامل پر بھی ممکنہ اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض مطالعات میں اس کے استعمال کو خراب کولیسٹرول، یعنی ایل ڈی ایل، میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

دماغی صحت اور یادداشت

کرکیومین کے دماغی صحت پر ممکنہ اثرات بھی سائنسی تحقیق کا حصہ رہے ہیں۔ بعض مطالعات میں اس مرکب کے دماغی افعال اور ڈیمنشیا سے متعلق ممکنہ کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اسی بنیاد پر ہلدی کو یادداشت اور ذہنی کارکردگی کے حوالے سے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے، تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

نظامِ ہاضمہ کے لیے روایتی استعمال

ہلدی کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ سے متعلق مختلف شکایات کے لیے روایتی طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پیٹ کے درد، قبض اور آنتوں کے مسائل میں اس کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔

ہلدی نظامِ ہاضمہ میں جلن کم کرنے اور السر کے امکانات سے متعلق بھی زیرِ تحقیق رہی ہے، جس کے باعث اسے معدے اور آنتوں کی صحت کے لیے ممکنہ طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔

روزمرہ کھانوں میں استعمال ہونے والی ہلدی محض ایک مصالحہ نہیں بلکہ کرکیومین جیسے قدرتی مرکبات کی موجودگی کے باعث صحت کے کئی پہلوؤں میں دلچسپی کا باعث بھی ہے۔ تاہم کسی بیماری کے علاج کے لیے اسے باقاعدہ دوا کا متبادل سمجھنے کے بجائے طبی ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔