بیورو کریسی میں اصلاحات

بیورو کریسی کے لیے مشہور ہے کہ وہ ہر حکومت میں فٹ ہو جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر قانونی کام طریقے اور خود کو محفوظ سمجھ کر کرتے ہیں


[email protected]

وزیر مملکت عقیل ملک نے کہا ہے کہ بیورو کریسی کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے اور بیورو کریسی میں موثر ریفارمز کے بغیر ملک کی سمت درست نہیں کی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ جب تک بیورو کریسی میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ تجویز مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے دی ہے جن کی پارٹی کی وفاق اور پنجاب میں حکومت ہے اور ماضی میں بھی متعدد بار رہی ہے۔

وزیر مملکت عقیل ملک نے بیورو کریسی میں اصلاحات کی جو بات کی ہے ویسی ہی بات ایک سینئر اینکر نے بھی کی کہ ہمیشہ فوجی اور سول حکمرانوں پر تنقید اور سیاسی حکمرانوں کا محاسبہ ہوتا آ رہا ہے مگر بیورو کریسی کے بڑوں پر کبھی تنقید ہوئی نہ محاسبہ جب کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان بیورو کریسی کو حاصل غیرمعمولی اور بے جا اختیارات نے پہنچایا۔آمر ہوں یا جمہوری حکمران، انھیں غلط یا درست مشورے بھی اعلیٰ بیوروکریٹس ہی دیتے آتے ہیں۔

قانون اور سرکار قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے ذاتی و خاندانی مراعات و فوائد کیسے حاصل کرنے ہیں، یہ بھی بیوروکریٹس ہی حکمرانوں کو بتاتے ہیں۔ مختلف سرکاری ٹھیکوں، پرمٹوں پرگھر بیٹھے قانونیکمیشن کیسے ملتا ہے، یہ بھی سرکاری افسر ہی بتاتے ہیں۔ سرکاری خریداری میں سستا مال خرید کر سرکاری کاغذات میں اسے مہنگا ظاہر کرنے کا طریقہ بھی سرکاری افسروں کو ہی آتا ہے، مگر کمال ہوشیاری سے وہ خود کو محفوظ رکھنے کی خانہ پری ضرور کر لیتے ہیں تاکہ بعد میں ان پر کوئی الزام ثابت نہ ہو۔

 ہر حکمران کا انحصار بیورو کریسی پر رہا ہے اور اب بھی ہے کیونکہ حکومتی احکامات پر عمل درآمد بیورو کریٹس ہی کراتے ہیں ، لیکن پکڑ سیاسی حکمرانوں کی ہوتی ہے۔سیاسی حکمرانوں سے پارٹی ورکرز اور ارکان اسمبلی کی ہمیشہ یہ شکایات رہی ہیں کہ حکمران بیورو کریسی پر انحصار اور اعتماد کرتے ہیں اور اپنے ارکان اسمبلی، وزیروں اور پارٹی رہنماؤں پر اعتماد نہیںکرتے ہیں، نہ اہم معاملات میں مشورہ کرتے ہیں بلکہ مہینوں ان سے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ارکان اسمبلی سے ملاقاتوں کا ان کے پاس وقت نہیں ہوتا اور صرف بیورو کریسی کو وقت دیتے ہیں۔

جمہوری حکمران اسمبلی اجلاسوں میں بھی بہت کم آتے اور کابینہ کے اجلاس بھی بہت کم منعقد کرتے ہیں۔ ہردور میں چند بااعتماد وزیروں پر مشتمل ایک کچن کیبنٹ مشہور ہوتی، اب بھی یہی کلچر ہے ۔ اسی کچن کابینہ کے بعض وزیر برا وقت آنے پرساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کابینہ کے متعدد وزیر جمہوری حکومتوں میں دوبارہ وزارتیں لیتے رہے ہیں۔

 بیورو کریسی کے لیے مشہور ہے کہ وہ ہر حکومت میں فٹ ہو جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہر قانونی کام طریقے اور خود کو محفوظ سمجھ کر کرتے ہیں اور ان کے مشوروں پر عمل کرکے زیادہ تر پھنستے سیاسی عہدیدار ہیں جنھیں سرکاری معاملات کا زیادہ علم نہیں ہوتا اور سیاسی وجوہات پر بعد میں پھنس جاتے ہیں اور بعد میں انتقامی احتساب بھی انھی کا ہوتا آیا ہے۔ بیورو کریسی میں اصلاحات کا وزیر مملکت کا بیان وقت کی ضرورت سہی مگر بیورو کریسی سے قبل سیاسی سسٹم کی بھی اصلاحات ضروری ہیں جو بیورو کریٹس کا محتاج ہے اور اسی لیے احتساب بھی سیاستدانوں کا ہی ہوتا ہے۔