پاکستان رائفل ٹیم نے ساتویں ایف کلاس عالمی چیمپئن شپ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انفرادی عالمی چیمپئن اور ٹیم مقابلے کی رنر اپ قرار پائی۔
تفصیلات کے مطابق بسلی برطانیہ میں منعقدہ ساتویں ایف کلاس عالمی چیمپئن شپ میں 24 ممالک کے 207 بہترین لانگ رینج شوٹرز نے شرکت کی۔
پاکستان ٹیم نے احسن گلریز کی قیادت میں عالمی معیار کے حریفوں کا سامنا کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انفرادی عالمی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ اور ٹیم مقابلے میں چاندی کا تمغہ اپنے نام کرلیا۔
12 سے 13 اگست کو 800، 900 اور 1000 یارڈز کے انفرادی مقابلوں کے بعد 15 اور 16 اگست کو ایف ٹی آر ٹیم کا مقابلہ ہوا۔
12 رکنی پاکستانی ٹیم نے انفرادی مقابلوں میں 4 طلائی، 4 چاندی اور 5 کانسی کے تمغے جیت کر چیمپئن شپ میں سب سے زیادہ ایف ٹی آر تمغے اپنے نام کیے۔
پاکستانی ٹیم نے ایف ٹی آر کیٹیگری میں چیمپئن شپ کے دوران سب سے زیادہ تمغے جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔
جنید علی نے 207 حریفوں کو پیچھے چھوڑ کر انفرادی ایف ٹی آر عالمی چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔
جنید علی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
انفرادی ایف ٹی آر عالمی چیمپئن کا اعزاز پاکستان کی بین الاقوامی ایف کلاس شوٹنگ کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی کامیابی ہے۔
محمد ولید نے ایک طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ جیت کر پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
انڈر 25 کیٹیگری میں حذیفہ گل نے 3 چاندی اور 2 کانسی کے تمغے حاصل کرکے شاندار کارکردگی دکھائی جبکہ احسن گل نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
احسن گلریز، جنید علی، ولید، عبید، قاسم، حزیفہ گِل، جنید وقاص سمیت پاکستانی ٹیم کے 7 شوٹرز عالمی مقابلے کے ٹاپ 100 کھلاڑیوں میں شامل رہے۔
15 اور 16 اگست کو ایف کلاس عالمی چیمپئن شپ کا ٹیم مقابلہ 800، 900 اور 1000 یارڈز پر منعقد ہوا۔
عالمی چیمپئن شپ کے ٹیم مقابلے میں سابق عالمی اور یورپی چیمپئنز سمیت 11 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔
چیمپئن شپ کے ٹیم مقابلوں میں پاکستان نے انتہائی سنسنی خیز اور سخت مقابلے کے بعد رنر اپ پوزیشن اپنے نام کرلی۔
پاکستانی ٹیم نے معمولی فرق سے کامیابی کا فاصلہ طے کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
پاکستان نے صرف تین سال میں ایف کلاس شوٹنگ میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔
پاکستانی شوٹرز کی عالمی سطح پر شاندار کامیابیاں قومی ٹیلنٹ اور کھیلوں میں بڑھتی ہوئی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔