اسلام آباد:
پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف سے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کی درخواست کردی ساتھ ہی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کو خوش آئند اور جمہوری روایت قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد نے اپوزیشن سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر بات کی گئی۔
اپوزیشن چیمبر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی، ملاقات میں سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، مصطفی نواز کھوکھر، عامر ڈوگر اور عادل بازئی بھی موجود تھے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور حزب اختلاف کے قائدین کے درمیان پارلیمانی امور اور ملکی سیاست پر تبادلہ خیال ہوا۔
اپوزیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو نے حزب اختلاف کے قائدین سے پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر فعال کردار ادا کرنے کی درخواست کی، اپوزیشن رہنماؤں نے کہا بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد پارلیمانی کمیٹیوں کے حوالے سے فیصلہ کریں گے، پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کے قائدین نے پارلیمان میں قانون سازی کے حوالے سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا، پیپلز پارٹی نے انتخابات میں شفافیت کے لیے انتخابی اصلاحات میں کردار ادا کرنے پر زور دیا، پیپلز پارٹی نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی اور علاج کو خوش آئند قرار دیا، پیپلز پارٹی نے کہا بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی ایک جمہوری روایت ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں اسد قیصر نے کہا کہ ہمارے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں، وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں، لانگ مارنگ موخر کرنے سے متعلق فیصلہ مشاورت سے ہوگا۔
چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی تمام جماعتیں کم ازکم پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں، بلاول
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ کے جو عہدے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی ان عہدوں کی عزت کرتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان میں ان کا کردار فعال ہو، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے ادارے اور پارلیمان کی کمیٹیاں کام کرنا شروع کردیں، اس وقت ایک ایسا عجیب دور ہے کہ چاہے اپوزیشن میں ہوں یا اتحاد میں سب کی شکایات ہیں الیکشن پروسس پر۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں کم ازکم پارلیمان میں الیکٹورل ریفارمز پر اپنا کردار ادا کریں، پاکستان پیپلزپارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے، یہ نہیں کہ میں اتحادی بنچ پر بیٹھا ہوں اور مجھے اپنے کارکن کی لاش اٹھانی پڑے، آج جو ہماری سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز سے ملاقات ہوئی ہے یہ ایک اچھا آغاز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو بہت سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ایک خطرہ یہ ہے کہ جو پارلیمنٹ میں موجود ہو اس کو اس وقار کے مطابق نہ چلانا ہے، اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی پراسیس سے خود کو دور رکھ رہی ہیں یہ عمل ختم ہونا چاہیے، ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں ہوں، میں چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے۔