اسرائیل 5 سالہ بچی ہند اور 15 رضاکاروں کی دردناک اموات پر تحقیقات کرانے پر مجبور

اسرائیلی فوج کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے فلسطینیوں پر ظلم و بریریت کو تسلیم کرلیا


ویب ڈیسک August 19, 2026
اسرائیلی فوج کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے غزہ میں ظلم و بربریت کو تسلیم کرلیا

اسرائیلی فوج کی فیکٹ فائنڈنگ اینڈ اسیسمنٹ میکانزم نے فلسطینیوں کی ہلاکت سے متعلق پانچ واقعات کا جائزہ لیا۔ ان میں ہند رجب، 15 امدادی کارکنوں اور ورلڈ سینٹرل کیچن کے سات کارکنوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی شامل تھے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں 5 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب اور 15 طبی و امدادی کارکنوں کی اموات پر اندرونی فوجداری تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کردیا تاہم ورلڈ سینٹرل کیچن کے واقعہ سرد خانے کی نذد کردیا گیا۔

ان واقعات پر یہ فیصلے اسرائیلی فوج کے اپنے فیکٹ فائنڈنگ اینڈ اسیسمنٹ میکانزم کی ابتدائی تحقیقات کے بعد کیا گیا جس میں اس بربریت کو تسلیم کیا گیا تھا۔

معصوم بچی ہند رجب کا واقعہ کیا تھا؟

ہند رجب جنوری 2024 میں غزہ شہر میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک گاڑی میں سفر کر رہی تھیں جس پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کردی۔ تمام اہل خانہ گاڑی میں ہی شہید ہوگئے لیکن معصوم ہند رجب گاڑی میں اکیلی بچ گئی تھی۔

اپنے اہل خانہ کی خون میں لت پت لاشوں اور اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ کی گھن گھرج کے دوران یہ معصوم بچی موبائل پر کئی گھنٹے تک فلسطینی ہلال احمر کے اہلکاروں سے رابطے میں رہی تھیں۔

ہند رجب کی فلسطینی ہلالِ احمر کے ایمرجنسی مرکز سے گفتگو کی آڈیو منظرعام پر آئی تھی جس نے ہر نرم دل انسان کو رلا دیا تھا۔ اس آڈیو میں وہ معصوم بچی شدید خوف کے عالم میں امدادی کارکنوں سے اپنی جان بچانے کی التجائیں کرتی سنائی دیتی ہے۔

ہند رجب کو بچانے کے لیے ایک ایمبولینس بھی روانہ کی گئی لیکن پھر اس امدادی ٹیم سے ہی ہلال احمر کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا جب کہ معصوم بچی کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔

اس واقعے کے تقریباً 12 روز بعد ہند رجب ان کے اہل خانہ اور امدادی ٹیم کے دو ارکان کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ جس سے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا اور اسرائیل پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس علاقے میں اپنی موجودگی یا فائرنگ میں ملوث ہونے کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی تھی تاہم بعد کی تحقیقات میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی موجودگی سے متعلق شواہد سامنے آگئے۔

اسرائیلی فوج کے جھوٹ کا بھانڈہ واشنگٹن پوسٹ نے پھوڑا جس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کے علاقے میں موجود ہونے کی نشاندہی کی تھی۔

اس واقعے نے جہاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا وہیں عالمی فلم انڈسٹری میں حساس دل رکھنے والے فلم سازوں نے اس دل گداز واقعے پر فلمیں بنائیں جس سے یہ واقعہ مزید اجاگر ہوگیا۔

اس موضوع پر سب سے معروف فلم تیونس کی فلم ساز کاؤثر بن ہانیہ  کی The Voice of Hind Rajab تھی جس میں ہند رجب کی حقیقی آخری فون کال کی آڈیو استعمال کی گئی ہے اور ہلالِ احمر کے امدادی مرکز میں موجود کارکنوں کے نقطۂ نظر سے واقعہ پیش کیا گیا ہے۔ فلم کا دورانیہ 89 منٹ ہے۔

فلم کا پریمیئر 2025 وینس فلم فیسٹیول میں ہوا جہاں اسے گرینڈ جیوری پرائز، سلور لائن ملا۔ بعد میں یہ آسکر کے لیے بھی نامزد ہوئی۔

اس کے علاوہ 2025 میں Close Your Eyes Hind نامی ڈچ مختصر فلم بھی بنی جبکہ Hind Under Siege نامی اردنی مختصر فلم نے بھی اسی واقعے کو موضوع بنایا۔

15 امدادی کارکنوں کی ہلاکت

دوسرا واقعہ جس کی نہ صرف ذمہ داری تسلیم کی گئی بلکہ تحقیقات کا بھی آغاز کرنے کا اعلان سامنے اایا ہے وہ 23 مارچ 2025 کو جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے تل السلطان میں پیش آنے آیا تھا۔

اس روز فلسطینی ہلال احمر، شہری دفاع اور دیگر امدادی اداروں سے وابستہ اہلکار زخمیوں کی مدد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوجیوں نے متعدد ایمبولینسوں اور امدادی گاڑیوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 15 امدادی اور طبی کارکن شہید ہوگئے تھے۔ بعد میں ان کی لاشیں ایک اجتماعی قبر سے برآمد ہوئیں۔

اس واقعے پر بھی ابتدائی طور پر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ مشتبہ گاڑیاں بغیر ہیڈلائٹس اور ایمرجنسی سگنلز کے فوجیوں کی جانب بڑھ رہی تھیں تاہم بعد میں سامنے آنے والی ویڈیو اور دیگر شواہد کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے ابتدائی بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے واقعے میں فوجیوں کی غلط فہمی کا اعتراف کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے کے بعد اپنے ایک نائب کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹایا تھا جبکہ ایک بریگیڈ کمانڈر کی سرزنش بھی کی گئی تھی۔ اب اسی معاملے میں بھی باقاعدہ فوجداری تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ورلڈ سینٹرل کیچن کے کارکنوں کا معاملہ مختلف

اسرائیلی فوج نے اپریل 2024 میں غزہ میں ورلڈ سینٹرل کیچن کے 7 امدادی کارکنوں کی اموات کا بھی جائزہ لیا لیکن اس واقعے میں فوجداری تحقیقات شروع کرنے سے انکار کردیا۔

اسرائیلی فوج کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے موقف اختیار کیا کہ اس واقعے میں مجرمانہ بدعنوانی یا مجرمانہ طرزعمل کا معقول شبہ نہیں ملا اس لیے فوجداری کارروائی کی ضرورت نہیں۔

یاد رہے کہ ورلڈ سینٹرل کیچن کے 7 رضاکاروں کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ غزہ میں امدادی سرگرمیوں کے بعد واپس جارہے تھے۔

ابتدا میں اسرائیل نے اس حملے کو غلطی قرار دیا تھا لیکن بعد میں اسرائیلی فوج کی تحقیقات میں سنگین عملی غلطیوں اور فوجی طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی اور دو افسران کو برطرف کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل

اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین نے فوجی تحقیقات کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی شکایات کی تعداد کے مقابلے میں فردِ جرم عائد ہونے کے واقعات انتہائی کم اور سزائیں تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔