متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی لین دین غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کردیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اماراتی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایسے واقعات کے بعد کیا گیا ہے جو علاقائی و عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تمام تجارتی تبادلے اور مالی معاملات تاحکم ثانی روک دیے گئے ہیں۔ جو ایران کے رویے میں تبدیلی، مثبت اقدامات اور عزائم کو دیکھتے ہوئے جاری کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کا چین کے بعد اہم ترین تجارتی شراکت دار سمجھا جاتا ہے اور طویل عرصے سے دباؤ اور امریکی پابندیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارت جاری رہی ہے۔
امارات ایران کے لیے درآمدات، دوبارہ برآمد اور مالیاتی لین دین کا ایک اہم مرکز بھی رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 28 سے 30 ارب ڈالر کے قریب رہی ہے۔
ایران سے تجارتی تعلقات کی معطلی کا اقدام اس وقت سامنے آیا جب اماراتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا جو سمندر میں گرے تھے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
دوسری جانب ایران نے متحدہ عرب امارات کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے میزائل داغنے کی تردید کی تھی۔
تجارتی پابندی کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پہلے ہی شدید متاثر ہے۔ آج 18 اگست کو صرف 6 تجارتی مال بردار جہاز آبنائے سے گزرے جبکہ حالیہ اوسط تقریباً 11 جہاز روزانہ رہی ہے۔
امریکا ایران جنگ سے قبل عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور ایل این جی گزرتا تھا۔