برطانیہ میں پکنک مناتے فلسطینی خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی

فلسطینی خاندان کے سربراہ بطور پناہ گزین برطانیہ آئے تھے


ویب ڈیسک August 19, 2026
فلسطینی خاندان کے سربراہ بطور پناہ گزین برطانیہ آئے تھے

برطانیہ میں پکنک منانے کے لیے آنے والے فلسطینی خاندان ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق شہر شورہم بائی سی کے ساحل کے قریب پیش آنے والے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے میاں بیوی اور ان کی 14 سالہ بیٹی کی شناخت ہوگئی جبکہ ایک کم سن بیٹی تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔

سسیکس پولیس نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں 55 سالہ حسن الخواس، ان کی شریک حیات 37 سالہ زینا علین اور ان کی 14 سالہ بیٹی سارا الخواس شامل ہیں۔

فلسطینی سفارتخانے نے بتایا ہے کہ خاندان کے سربراہ حسن الخواس فلسطینی نژاد اور برطانوی شہری تھے۔

پولیس، طبی امدادی ٹیموں، کوسٹ گارڈ اور ریسکیو کشتی نے مشترکہ آپریشن کے دوران سمندر میں سے چار افراد کو نکالا تھا۔

جن میں سے ایک مرد، ایک خاتون اور ایک لڑکی کو موقع پر ہی مردہ قرار دیا گیا جبکہ چوتھی لڑکی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا اور تب تک ان کی شناخت نہیں ہوئی تھی۔

سسیکس پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر اسے ایک المناک حادثہ تصور کیا جارہا ہے۔ کسی تیسرے فریق کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

حکام نے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی کہ 14 سالہ سارا مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنس گئی تھی۔ تاہم برطانیہ میں فلسطینی فورم کے چیئرمین عدنان حمیدان کے مطابق دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان سمندر میں تیز لہروں اور پانی کے شدید بہاؤ کی زد میں آیا۔

ان کے بقول سارا ممکنہ طور پر مچھلی پکڑنے کے جال میں پھنس گئی تھی جسے بچانے کے لیے اس کے والد پانی میں گئے وہ بھی ڈوبنے لگے تو بیوی نے بھی چھلانگ لگادی ان کے پیچھے دوسری بیٹی بھی کود گئی۔

برطانیہ میں رواں موسم گرما کے دوران شدید گرمی کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد ساحلوں، دریاؤں اور دیگر آبی مقامات کا رخ کررہی ہے جس کے نتیجے میں پانی میں حادثات بھی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔

لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق رواں سال برطانیہ میں کم از کم 35 افراد ڈوبنے کے واقعات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 8 اموات صرف جولائی میں ہوئیں۔