پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات سے منسلک ایک آئل ٹینکر کو روک کر قبضے میں لے لیا۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز میں ایرانی مقرر کردہ بحری راستہ اختیار نہ کرنے، سروس فیس ادا نہ کرنے اور ضروری اجازت حاصل نہ کرنے پر روکا گیا اور اب آئل ٹینکر کو جزیرہ قشم کی جانب لے جانے کی اطلاع ہے۔
ایرانی حکام کے بقول آبنائے سے محفوظ گزرنے والے جہازوں کے لیے مخصوص راستے کی پابندی اور متعلقہ اجازت نامہ ضروری ہے اور متعلقہ آئل ٹینکر نے اس کی خلاف ورزی کی تھی۔
تاہم ابتدائی طور پر اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی تھی تاہم بعد کی بحری نگرانی کی معلومات میں لائبیریا کے پرچم بردار ٹینکر امارا کی نشاندہی کی گئی جو 17 اگست کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد قشم کے قریب رک گیا تھا۔
ایرانی میڈیا نے اسے اماراتی کمپنی سے منسلک قرار دیا تاہم جہاز کی ملکیت کے بارے میں مختلف معلومات سامنے آئی ہیں اور اماراتی حکومت نے قبضے کے دعوے پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
اماراتی جہاز پہلے بھی نشانہ بنے
یاد رہے کہ قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک سے منسلک بحری جہاز پہلے ہی آبنائے ہرمز میں حملوں کا سامنا کرچکے ہیں جن الزام امارات نے ایران پر عائد کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے 14 اگست کو الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے ADNOC کے ایک جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خیال رہے کہ یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں متحدہ عرب امارات کے جہازوں سے متعلق تیسرا ایسا واقعہ تھا جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً رک گئی
حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ شپ ٹریکنگ کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق 15 اگست کو صرف پانچ مال بردار جہاز آبنائے سے گزرے جبکہ 16 اگست کو کسی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں ہوئی۔
اس کے مقابلے میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 31 تجارتی جہاز آبنائے سے گزرے تھے۔ کچھ جہاز اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے خفیہ انداز میں سفر کرسکتے ہیں اس لیے سرکاری اعداد و شمار مکمل بحری آمدورفت کی عکاسی نہیں کرتے۔
اس کے باوجود مجموعی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
اماراتی آئل ٹینکر کے ایرانی فورسز کے ہاتھوں پکڑے جانے کی اطلاعات نے عالمی تیل منڈی کو بھی متاثر کیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 17 اگست کو تقریباً 2.7 فیصد اضافے کے بعد 90.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔
واضح رہے کہ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا کو ہماری شرائط تسلیم کرنا ہوں گی جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ آبنائے میں آمدورفت جاری ہے۔