ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کیلیے چین ہمارا ساتھ دے؛ امریکا

چین امریکا کی اس مہم کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے


ویب ڈیسک August 20, 2026
چین امریکا کی اس مہم کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین اور دیگر ممالک کو ایران کی معاشی مدد پر متنبہ کرنے کے بعد وزیر خزانہ نے بھی دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا کا اپنے اتحادیوں اور دیگر ممالک کو یہ واضح پیغام ہے کہ آپ سب کو ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے امریکی پالیسی کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

اس موقع پر امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے خاص طور پر چین سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں مزید کہا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات جاری رکھیں گے انھیں امریکا کے سخت اقدامات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

جب ان سے جب پوچھا گیا کہ چین کے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے پر کیا امریکا،  چین کے خلاف بھی کارروائی کرے گا تو انھوں نے کہا کہ بعض معاملات پر بات چیت نجی سطح پر کرنا زیادہ مناسب ہے تاہم چین کو ’’پروگرام کا حصہ بننا‘‘ چاہیے۔

خیال رہے کہ چین امریکا کی اس مہم کے لیے سب سے اہم ہے کیونکہ وہ ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے۔ اس طرح چین اس وقت ایرانی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی ایران کے تیل، شپنگ اور مالیاتی نیٹ ورکس سے منسلک چین اور ہانگ کانگ کی متعدد کمپنیوں اور افراد کو پابندیوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔

جون میں بھی امریکا نے ایران کے عسکری سازوسامان کی خریداری میں معاونت کرنے والے چین اور ہانگ کانگ سے وابستہ افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

علاوہ ازیں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اب ایران کے خلاف ایسی مربوط معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو تاریخ میں کسی ملک کے خلاف سب سے بڑی معاشی تنہائی ثابت ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا کا مقصد ایرانی حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود کرکے اس کی طاقت اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی معاونت کرنے کی صلاحیت ختم کرنا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے کہا کہ نئی معاشی مہم کی تفصیلات پیر کو ایک پریس کانفرنس میں سامنے لائی جائیں گی۔ اس مرحلے میں ایسی کارروائیاں شامل ہوسکتی ہیں جن سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف امریکا ’’زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ‘‘ استعمال کرنا چاہتا ہے اور اگر یہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہوتی ہے تو فی الحال ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

بیسنٹ کے بقول معاشی دباؤ میں اضافہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ امریکا فی الوقت فوجی کارروائی کے بجائے ایران کی معیشت کو کمزور کرنے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ یہ صورتِ حال ’’فی الحال‘‘ ہے اور فوجی آپشن کو مستقل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف نئی معاشی کارروائی کو انتہائی سخت اقتصادی مہم قرار دیتے ہوئے ایسے ممالک کو بھی نتائج کی دھمکی دی تھی جو تہران کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط برقرار رکھتے ہیں۔