بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف نے فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ میں ریتھک روشن کے ساتھ بولڈ منظر کی عکس بندی کے لیے ہدایت کارہ زویا اختر کے اصرار کے بعد رضامندی ظاہر کی تھی۔ یہ کترینہ کیف کی جانب سے کسی فلم میں اس نوعیت کا پہلا منظر تھا۔
زویا اختر نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کی کترینہ کیف سے اس فلم کے سلسلے میں ملاقات ہوئی تو اداکارہ اس سے قبل کسی فلم میں ایسا سین نہیں کرچکی تھیں۔
ہدایت کارہ کے مطابق کترینہ نے اسکرپٹ پڑھنے کے بعد خود اس بات کو تسلیم کیا کہ مذکورہ منظر فلم کی کہانی کے لیے ضروری ہے۔ اس سمجھ بوجھ کے بعد اداکارہ نے سین کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
زویا اختر نے فلم میں کترینہ کیف کے کردار ’لیلیٰ‘ کی خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق لیلیٰ ایک ایسی لڑکی ہے جو حال میں جینا پسند کرتی ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے اپنی مرضی سے کرنے سے نہیں گھبراتی۔
ہدایت کارہ کا کہنا تھا کہ کردار کی اسی بے باک اور بے ساختہ شخصیت کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے فلم میں ایک ایسا لمحہ شامل کرنا ضروری تھا جہاں لیلیٰ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی مرضی کا فیصلہ کرتی ہے۔
واضح رہے کہ 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ میں ریتھک روشن، کترینہ کیف، فرحان اختر، ابھے دیول اور کلکی کوچلن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ فلم کو ناظرین کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی تھی۔
دوسری جانب زویا اختر نے حال ہی میں فلم کے ممکنہ سیکوئل کی تیاری کا بھی عندیہ دیا ہے، جس کے بعد مداحوں میں فلم کے اگلے حصے کے حوالے سے دلچسپی بڑھ گئی ہے۔