روزانہ میٹھے مشروبات پینا معدے کے کینسر کا خطرہ دگنا کردیتا ہے

تحقیق میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے


ویب ڈیسک August 21, 2026

روزمرہ زندگی میں میٹھے اور کاربونیٹیڈ مشروبات کا استعمال صحت کے لیے ایک اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ جو افراد روزانہ کم از کم ایک مرتبہ میٹھا مشروب پیتے ہیں، ان میں معدے کے کینسر کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہوسکتا ہے جو مہینے میں ایک بار سے بھی کم ایسے مشروبات استعمال کرتے ہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق یہ تحقیق طبی جریدے ’گیسٹرو ہیپ ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مصنف اینڈریو چان کے مطابق یہ پہلی تحقیق ہے جس میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔

تحقیق میں یہ اشارہ بھی ملا کہ مصنوعی مٹھاس یا کم کیلوریز والے مشروبات معدے کے کینسر کے اضافی خطرے سے منسلک نہیں تھے۔ محققین کے مطابق مصنوعی مٹھاس والے کاربونیٹیڈ مشروبات کا استعمال اس حوالے سے خطرہ بڑھاتا ہوا دکھائی نہیں دیا، بلکہ ابتدائی نتائج میں اس کے ممکنہ طور پر کم خطرے کی جانب اشارہ بھی ملا ہے۔

اس سے قبل مختلف تحقیقات میں میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال کو بڑی آنت، چھاتی اور جگر کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جاچکا ہے، تاہم معدے کے کینسر کے ساتھ اس تعلق کے بارے میں شواہد نسبتاً محدود تھے۔ نئی تحقیق نے اس حوالے سے مزید اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

محققین نے کئی دہائیوں پر محیط 112 ہزار افراد کے صحت اور طرز زندگی سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تجزیے کے دوران معلوم ہوا کہ ان افراد میں سے 278 کو معدے کا کینسر لاحق ہوا، جبکہ یہ بیماری مردوں اور خواتین دونوں میں پائی گئی۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق میٹھے مشروبات کے روزانہ استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق نمایاں رہا۔ تاہم تحقیق کسی حتمی وجہ اور اثر کو ثابت نہیں کرتی، بلکہ مشروبات کے استعمال اور بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔

تحقیق کے مصنف اینڈریو چان نے کہا کہ معدے کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔ ان نتائج کے بعد میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال اور صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کو مزید سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔