آئی ایم ایف کی گورننس شرائط، 19 میں سے صرف 4 پر عملدرآمد

اپنی رپورٹ میں اقتصادی گورننس کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی


شہباز رانا August 20, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ ترجیح دیے جانے کے باوجود حکومت جون کی مدت کے لیے مقرر کردہ 19 میں سے صرف 4 اقدامات مکمل کر سکی، جن کا مقصد ملکی کمزور اقتصادی گورننس نظام کو بہتر بنانا تھا۔

اقتصادی گورننس سسٹمز کے حوالے سے قائم 3وزارتی کمیٹیوں میں سے ایک کی کارروائی کے مطابق جنوری تا جون 2026 کے عرصے کے لیے حکومت صرف 4اقدامات مکمل کر پائی۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اقتصادی گورننس سسٹمز کمیٹی کا چوتھا اجلاس رواں ہفتے ہوا جس میں انھوں نے مذکورہ اقدامات پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

اعلیٰ حکومتی حکام کے مطابق احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی نگرانی میں 19 ترجیحی اور تکمیلی اقدامات میں سے، جنھیں رواں سال جون تک مکمل ہونا تھا، 12 اقدامات پر جزوی عملدرآمد ہوا جبکہ 3 اقدامات تاخیر کا شکار رہے۔

آئی ایم ایف نے اپنی پاکستان گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ میں اقتصادی گورننس کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس میں منصوبے کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ حکومتی گورننس پلان کے تحت 59 ترجیحی اور 83 تکمیلی اقدامات 3سال کے دوران اقتصادی گورننس بہتر بنانے کے لیے نافذ کیے جائیں گے۔

احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی کے 59 اقدامات میں سے 19 کی تکمیل کی آخری تاریخ جون 2026 مقرر کی گئی تھی۔ ان میں زیادہ تر نسبتاً آسان اقدامات تھے، جن کا تعلق قواعد و ضوابط میں تبدیلی اور رپورٹس کی اشاعت سے تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق معاملات وزارت خزانہ دیکھتی ہے۔حکومت نے نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 کی منظوری سے متعلق اہم اقدام پر جزوی عملدرآمد کیا۔ اس کے تحت سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کو حاصل ترجیح ختم کرنے اور واضح طور پر یہ درج کرنے کی تجویز دی گئی کہ سرکاری معاہدوں کی فراہمی میں ریاستی ملکیتی اداروں کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔

موجودہ نظام کے تحت سرکاری ملکیتی اداروں کو بعض اوقات مسابقتی بولی کے بغیر ٹھیکے دیے جاتے ہیں، حالانکہ ان اداروں میں ان منصوبوں کو مکمل کرنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے اور آزادانہ قیمت کا تعین بھی نہیں ہو پاتا۔

اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں SOEs کو دیے گئے سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں بھی تاخیر سامنے آئی ہے۔وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کے مطابق وزیراعظم آفس نے مجوزہ قواعد کی توثیق کر دی ہے اور یہ معاملہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے پاس وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔

ایک اور اہم شرط کے تحت مقدمات میں اضافے، تاخیر اور زیر التوا کیسز کی بڑی تعداد کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کیا جانا تھا تاکہ زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے پالیسی وضع کی جا سکے۔ حکومت نے اس شرط پر بھی جزوی عملدرآمد قرار دیا ہے۔

عدالتوں میں زیر التوا مقدمات سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی شرط بھی جزوی طور پر مکمل ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق اس طریقہ کار کی تیاری جاری ہے۔اسی طرح عدالتوں اور عدالتی گورننس کی کارکردگی جانچنے کے لیے جامع معیار اور فریم ورک وضع کرنے کا ایکشن پلان بھی جزوی طور پر مکمل ہوا ہے۔

حکام کے مطابق زیر التوا مقدمات، مقدمات نمٹانے کی شرح اور کیس کی مدت جیسے اشاریوں کی بنیاد پر نیا فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔142 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے 3اصلاحاتی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں اقتصادی گورننس سسٹمز، ٹیکس انتظامیہ اور انسداد بدعنوانی و انسداد منی لانڈرنگ کمیٹیاں شامل ہیں۔

ہر 6ماہ بعد پیش رفت رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جانی ہے جبکہ شفافیت اور احتساب کے لیے اہم مانیٹرنگ اشاریوں پر پیش رفت بھی عوام کے سامنے لائی جائے گی۔تاہم وزارت خزانہ نے تاحال ان تینوں کمیٹیوں میں سے کسی کی رپورٹ جاری نہیں کی۔

آڈٹ اعتراضات کے زیر التوا بیک لاگ میں کمی کی شرط پر بھی جزوی عملدرآمد ہوا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق کام کی وسیع نوعیت کے باعث اس کی آخری تاریخ پہلے ہی تبدیل کرکے جون 2027 کر دی گئی ہے۔

پبلک پروکیورمنٹ مانیٹرنگ رپورٹس متعارف کرانے کی شرط بھی جزوی طور پر مکمل ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2024-25 کی پہلی پبلک پروکیورمنٹ مانیٹرنگ رپورٹ تیار کرلی گئی ہے اور جلد شائع کی جائے گی جبکہ مالی سال 2025-26 کی رپورٹ تیاری کے مرحلے میں ہے۔

اعلیٰ ترجیحی مشین ریڈیبل ریگولیٹری ڈیٹا بیس تیار کرنے کی شرط بھی مکمل طور پر پوری نہیں ہوسکی۔ حکومت نے اب یہ شرط پوری کرنے کے لیے اگست کے آخر کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

آئی ایم ایف نے ترجیحی قوانین، ایس آر اوز اور نوٹیفکیشنز کو مشین ریڈیبل فارمیٹ میں تبدیل کرکے ڈیجیٹل ریگولیٹری ڈیٹا بیس کا حصہ بنانے کی ہدایت کی تھی۔

حکام کے مطابق مشین ریڈیبل قانون سازی کا معیار مکمل کرلیا گیا ہے اور تمام فعال قوانین سسٹم میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ 2016 کے بعد جاری ہونے والے ثانوی قانونی آلات، جن میں قواعد و ضوابط شامل ہیں، کی مکمل جانچ کرکے انہیں بھی سسٹم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

کاروباری شعبے کے لیے غیر ضروری ضوابط ختم کرنے کی شرط بھی حکومت نے جزوی طور پر مکمل قرار دی ہے،حکومت کو جون 2026 تک بدعنوانی سے متعلق قومی خطرات کا جائزہ (National Risk Assessment) مکمل کرنا اور تین ماہ کے اندر قومی انسداد بدعنوانی ٹاسک فورس تشکیل دینا تھی۔

نئے ایکشن پلان کے مطابق حکومت کو جون 2026 تک اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) کا قانون سازی جائزہ لے کر اس میں موجود ابہامات دور کرنا بھی تھا۔تین اہم اقدامات پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی ہے۔

حکومت جون تک پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے نئے قواعد نافذ نہیں کرسکی۔حکام کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کی جانب سے نئے قواعد کی منظوری تک انھیں نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ PPRA نے حکومت سے ڈیڈ لائن بڑھا کر دسمبر 2026 کرنے کی درخواست کی ہے۔نئے پروکیورمنٹ قواعد کی منظوری اور نوٹیفکیشن میں تاخیر کے باعث نئے اسٹینڈرڈ بڈنگ ڈاکیومنٹس جاری کرنے کی شرط بھی تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔