جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے کیس میں ڈی جی نادرا کو گواہ کا شناختی کارڈ بلاک کرنے اور آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو گواہ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو ڈاکٹر عامر لیاقت کی نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
ایف آئی اے پراسکیوشن مقدمہ کے گواہ کو پیش کرنے میں ناکام رہی۔ وکیل صفائی لیاقت علیخان گبول نے موقف دیا کہ دانیہ شاہ 3 سال سے عدالت میں باقاعدگی سے حاضر ہورہی ہے۔
ایف آئی اے پراسکیوشن عدالت میں گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ پراسکیوشن 3 سال عدالت میں اپنا مقدمہ دانیہ شاہ کیخلاف ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر ایف آئی اے کے پاس دانیہ شاہ کے خلاف شواہد نہیں ہیں تو پھر جھوٹا مقدمہ کیوں بنایا۔
ایف آئی اے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ دانیہ شاہ کے موبائل سے کوئی ویڈیو بناکر ٹراسمنٹ کی گئی ہے یا نہیں۔ جب ایف آئی اے کو پتہ تھا کہ ہم پر جھوٹا مقدمہ بنارہے ہیں اس کو ثابت نہیں کرسکتے تو جھوٹا مقدمہ کیوں بنایا گیا۔ دانیہ شاہ 3 سال سے لودھراں سے کراچی کی عدالت آرہی ہیں۔ ہر تاریخ پر میں اور دانیہ شاہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں لیکن ایف آئی اے گواہان کو پیش کرنے میں ناکام ہے۔
دانیہ شاہ کو عامر لیاقت کے ساتھ شادی کرنے اور اس کی سابقہ بیوی ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔ عدالت نے ڈی جی نادرا کو گواہ کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے ایف آئی اے کو 27 اگست کو گواہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔