کیا، کیوں، کیسے، کتنا، کہاں تک؟

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں علم معلومات سے، معلومات فہم سے اور فہم ذمے داری سے جڑتی ہے


ڈاکٹر عبید علی August 22, 2026

سائنس کی تاریخ کو اگر صرف دریافتوں کی تاریخ سمجھا جائے تو اس کا ایک اہم حصہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ سائنس صرف نئے جوابات تلاش کرنے کا نام نہیں بلکہ اس عمل کا نام بھی ہے جس میں ہم بار بار یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا سوال پوچھنا ہے، کس مشاہدے کو معتبر سمجھنا ہے، کس ثبوت کو کافی ماننا ہے اور کس مقام پر اپنے یقین پر نظرِثانی کرنی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Epistemology، سائنسی طریقۂ کار اور جدید مصنوعی ذہانت ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ 

طب اور ادویات میں یہ تعلق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ یہاں علم کبھی محض علمی سرمایہ نہیں ہوتا۔ ایک غلط مفروضہ مریض کی تشخیص بدل سکتا ہے، ایک کمزور ثبوت کسی دوا کے بارے میں غلط فیصلہ کروا سکتا ہے، ایک نظر انداز کیا گیا سیفٹی سگنل مریض کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، اور ایک غلط اعتماد ہزاروں مریضوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے طبی سائنس کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کیا جانتے ہیں؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم کیسے جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، کیا وہ واقعی قابلِ اعتماد ہے؟ یہی فرق معلومات اور فہم، سائنسی پختگی اور محض یقین کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔

ایک نئی دوا کے کلینکل ٹرائلز میں دس ہزار مریض شامل ہوں اور نتیجہ شماریاتی طور پر مضبوط نکلے تو بظاہر ہمارے پاس ایک بہت اچھا ثبوت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی سوال باقی رہتے ہیں۔ ان مریضوں کا انتخاب کیسے ہوا؟ کن مریضوں کو شامل نہیں کیا گیا؟ کیا مطالعے کی مدت اتنی طویل تھی کہ دیر سے ظاہر ہونے والے نقصانات سامنے آسکتے؟ کیا دوا کا اثر وہ تھا جو مریض کے لیے واقعی اہم تھا یا صرف وہ جسے آسانی سے ناپا جاسکتا تھا؟ کیا منفی نتائج بھی پوری طرح سامنے آئے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا کلینکل ٹرائلز میں حاصل ہونے والا علم حقیقی دنیا کے ان لاکھوں مریضوں پر بھی اسی طرح لاگو ہوگا جو عمر، بیماریوں، دوسری ادویات، خوراک اور طرزِ زندگی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے؟

یہ سوال تحقیق کے نتائج کو رد نہیں کرتے بلکہ انہیں ان کے درست مقام پر رکھتے ہیں۔ یہی سائنسی ذہن کی اصل طاقت ہے۔ ثبوت کو قبول کرنا مگر ثبوت کے ساتھ اس کی حدود کو بھی دیکھنا۔ کلینیکل ٹرائل ہمیں مضبوط ثبوت دے سکتا ہے مگر حقیقی دنیا میں دوا کے استعمال کا تجربہ اس علم میں ایک نئی تہہ کا اضافہ کرتا ہے۔ اسی لیے منظوری کسی دوا کے بارے میں علم کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ وسیع پیمانے پر استعمال کے بعد ایسے غیر معمولی ایڈورس ایفکیٹ یا پیشنٹ پاپولیشن سامنے آسکتے ہیں جو پری اپروول اسٹڈی میں دکھائی نہ دیے ہوں۔ فارماکو ویجیلینس اسی لیے محض ایڈروس ایونٹ رپورٹ جمع کرنے کا انتظامی عمل نہیں، یہ طبی علم کی مسلسل اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔ محفوظ دوا وہ نہیں جس کے بارے میں کوئی خطرہ معلوم نہ ہو ، بلکہ محفوظ نظام وہ ہے جو خطرے کے ظاہر ہوتے ہی اسے پہچاننے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اس پوری علمی کوشش میں ایک اور مسئلہ خاموشی سے کام کرتا ہے۔ ہم اکثر انہی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جنہیں آسانی سے ناپ سکتے ہیں۔ جو چیز ہمارے اسپریڈشیٹ میں آجائے، وہ ہمیں زیادہ سائنسی محسوس ہوتی ہے۔ جو چیز تجربے یا پیچیدہ انسانی مشاہدے سے متعلق ہو، اسے بعض اوقات کم اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی اسٹریٹ لائٹ ایفکیکٹ کی ایک شکل ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی مینوفیکچرنگ پروسیس میں ٹیبلٹ ڈیزولوشن، Assay، اور کانٹینٹ یونیفارمیٹی مسلسل اسپیسیفکیشن کے اندر ہوں تو اطمینان فطری ہے۔ لیکن اگر پروسیس میں کوئی ایسا معمولی تغیر پیدا ہورہا ہو جو ابھی اسپیسیفکیشن کی خلاف ورزی نہیں کرتا مگر مستقبل میں انسٹابلیٹی کرسکتا ہے تو صرف اسپیسیفکیشن کو دیکھنے والا نظام اسے شاید نہ پکڑ سکے۔ اسپیسیفکیشن ضروری ہیں مگر یہ حقیقت کا مکمل متبادل نہیں۔ اسی طرح تین کامیاب بیچز کسی پروسیس کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں لیکن انہیں پروسیس کی مکمل فطرت کا مترادف سمجھ لینا ایک علمی غفلت ہے۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ ویری ایشن کہاں سے آتا ہے، کون سے ویری ایبل کریٹیکل ہیں، ان کے درمیان انٹرایکشن کیا ہے اور مختلف حالات میں پروسیس کس طرح برتاؤ کرسکتا ہے۔ یہی کوالٹی بائی ڈیزائن کی گہری روح ہے۔ معیار کو آخر میں ٹیسٹ کرنے کے بجائے پروسیس کی فہم میں شامل کرنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرانے ریگولیٹری اصول غلط ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں ان کے مقصد، حدود اور موجودہ سائنسی علم کے تناظر میں استعمال کر رہے ہیں یا صرف اس لیے کہ وہ ہمیشہ سے ایسے ہی کیے جاتے رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے اسی مسئلے میں ایک نئی پیچیدگی شامل کر دی ہے۔ ایک بڑا لسانی ماڈل لاکھوں صفحات، تحقیقی مقالات، ریگولیٹری دستاویزات اور تاریخی فیصلوں سے سیکھ سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان میں موجود ایزمپشن اور انسٹیٹیوشنل ہیبٹ سے خودبخود آزاد بھی ہوجاتا ہے۔ اگر ماضی کے فیصلوں میں کسی خاص تصور کو بار بار درست سمجھا گیا ہو تو ماڈک اس رجحان کو بہت تیزی سے دوبارہ پیش کرسکتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب حالات بدل چکے ہوں۔ 

یہاں مصنوعی ذہانت کی ایک اہم پیراڈوکس سامنے آتی ہے۔ جس رفتار سے اے آئی علم کو جمع اور دوبارہ ترتیب دے سکتا ہے، ضروری نہیں کہ اسی رفتار سے وہ علم اور فہم میں فرق بھی کرسکے۔ وہ ماضی کا بہترین خلاصہ پیش کرسکتا ہے مگر سائنس کی حقیقی پیش رفت اکثر اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی شخص یہ پوچھتا ہے کہ اگر ہم اب تک غلط سوال پوچھتے رہے ہوں تو؟ یہ سوال ڈیٹابیس میں موجود کسی ایک دستاویز کا جواب نہیں ہوتا؛ اس کے لیے کانٹیکسٹ، انٹلیکچول انڈیپینڈینس اور تنقیدی سوچ درکار ہوتی ہے۔ اس لیے اے آئی کا سب سے بڑا امتحان شاید یہ نہیں کہ وہ کتنے اچھے جواب دے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیں کتنے اہم سوالات دکھا سکتا ہے جو ہم نے ابھی تک پوچھے ہی نہیں۔

فرض کیجیے کسی دوا کے کلینکل ڈیٹا میں مجموعی فوائد واضح ہے۔ ایک روایتی اینالیٹکل سسٹم پوچھے گا کہ ٹریٹنمنٹ ایفکیٹ کتنا ہے۔ ایک زیادہ میچور سسٹم اس کے ساتھ یہ بھی پوچھے گا کہ کون سے مریض فائدہ نہیں اٹھا رہے، کیا کسی خاص سب گروپ میں نقصان بڑھ رہا ہے، کیا فالو اپ کی مدت ناکافی ہے، کیا اینڈپوائنٹ حقیقی کلینیکل بینیفٹ کی نمائندگی کرتا ہے، کیا کوئی ایسا سگنل موجود ہے جو اسٹیٹسکل سگنیفکینس تک نہیں پہنچا مگر بائیولوجیکل یا کلینیکل سگنیفکینس رکھتا ہے اور کیا ڈیٹا جنریشن پروسیس میں ایسی کوئی لمیٹیشن ہے جو نتیجے کو متاثر کرسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اے آئی محض کیلکیولیٹر یا سرچ انجن سے بڑھ کر ایک انٹلیکچول چینلجر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اسے سرٹینیٹی پیدا کرنے والی مشین نہیں بلکہ اَن سرٹینیٹی کو نمایاں کرنے والا نظام بننا ہوگا۔ سائنسی اداروں کو صرف کنکلوژن محفوظ کرنے کے بجائے اَن سرٹینیٹی بھی محفوظ کرنی ہوگی۔ ہمیں کیا معلوم ہے، کیا معلوم نہیں، کس بات کے ثبوت مضبوط ہیں، کون سی بات کمزور شواہد پر قائم ہے، کون سے سوال ابھی اَن ریزولوڈ ہیں اور کن نئے آبزرویشن کی صورت میں ہمارا موجودہ نتیجہ تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ رویہ سائنس کو کمزور نہیں کرتا، اسے زیادہ مضبوط بناتا ہے کیونکہ میچور سائنس سرٹینیٹی کا دکھاوا نہیں کرتی بلکہ اَن سرٹینیٹی کو پہچانتی، ناپتی اور مینیج کرتی ہے۔

اس مرحلے پر انسانی تجربہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی اہمیت ایک نئی شکل اختیار کرتی ہے۔ ایک ایکسپیرئینسڈ فارماسسٹ یا مینوفیکچرنگ سائنٹسٹ کسی پروسیس میں معمولی تبدیلی محسوس کرسکتا ہے جسے روٹین ڈیٹا ابھی سگنیفکینس نہیں سمجھتا۔ ایک کلینیشیئن مریض کے رویے، علامات یا فنکشنل اسٹیٹ میں ایسی تبدیلی دیکھ سکتا ہے جو کسی الگورتھمیٹک تھریشولڈ سے باہر ہو۔ یہ مشاہدات حتمی ثبوت نہیں، لیکن انہیں نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ انسانی الہام کو ثبوت کا متبادل بنانا غلط ہے، اسے ثبوت کےلیے ایک ابتدائی سگنل سمجھنا زیادہ درست ہے۔ بصیرت سوال پیدا کرسکتی ہے، تحقیق اسے جانچ سکتی ہے، ڈیٹا اسے مضبوط یا کمزور کرسکتا ہے اور انڈیپینڈنٹ ویریفکیشن اسے قابلِ اعتماد بنا سکتی ہے۔ یہی انسان اور مشین کے درمیان بہتر شراکت داری کا راستہ ہے۔ اے آئی کو انسان کی جگہ لینے کے بجائے انسان کی دیکھنے، سوال اٹھانے اور غلطی پکڑنے کی صلاحیت کو بڑھانا چاہیے۔ اگر کوئی نظام صرف وہی چیزیں واپس لاتا رہے جو پہلے سے معلوم ہیں تو وہ انفارمیشن ریٹرائیول تو ہے مگر ضروری نہیں کہ انٹیلی جنس بھی ہو۔ حقیقی آرٹیفیشل انسائٹ شاید وہاں پیدا ہوگی جہاں مشین پیٹرنز دیکھنے کی اپنی غیر معمولی صلاحیت کو انسانی کانٹیکسٹ، تجربے اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ سکے۔

آخرکار یہ پوری بحث ایک بنیادی سوال پر واپس آتی ہے، ہم یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟ ریگولیٹری سائنس، کلینکل ٹرائلز، کوالٹی بائی ڈیزائن، فارماکوویجیلنس، حقیقی دنیا کے شواہد، بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت سب ذرائع ہیں، مقصد نہیں۔ مقصد مریض کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور مناسب علاج فراہم کرنا ہے۔ اگر ایک اے آئی سسٹم ہزاروں ریگولیٹری دستاویزات کا خلاصہ چند سیکنڈ میں بنا دے لیکن کسی اہم سیفٹی سگنل کو اس لیے نظر انداز کردے کہ وہ ہسٹوریکل پیٹرن سے مختلف ہے تو وہ تیز ضرور ہے مگر لازماً ذہین نہیں۔ اگر ایک مینوفیکچرنگ سسٹم اسپیسیفکیشن سے پہلے کسی میننگ فل ڈیوی ایشن کو پکڑ لے، اگر فارماکوویجلینس سسٹم کسی نایاب ایڈورس ایونٹ کے سگنل کو معمول کے شور سے الگ کرسکے، یا اگر ریگولیٹری فریم ورک اپنے ہی مفروضوں کو وقتاً فوقتاً چیلنج کرنے کی گنجائش پیدا کرے، تو ہم ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہوں گے جو صرف کمپلائنٹ نہیں بلکہ جینئونلی لرننگ سسٹم ہے۔ 

مستقبل میں معلومات کی کمی شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نہیں رہے گی، اصل مسئلہ معلومات کے سیلاب میں قابلِ اعتماد علم اور معنی خیز شواہد اور حقیقی فہم کو الگ کرنا ہوگا۔ کل کا بہترین سائنس دان شاید وہ نہیں ہوگا جسے سب سے زیادہ معلومات یاد ہوں بلکہ وہ جو یہ جانتا ہو کہ کس معلومات پر اعتماد کرنا ہے، کس کو چیلنج کرنا ہے، کس خلا کو پہچاننا ہے اور کس مقام پر دیانت داری سے کہنا ہے کہ ہم ابھی نہیں جانتے۔ یہ جملہ کمزوری نہیں، سائنسی دیانت کی علامت ہے۔ طب میں حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ہم اپنے علم کو آخری منزل نہیں بلکہ ایک عارضی نقشہ سمجھتے ہیں۔ ہر نیا مشاہدہ اس نقشے میں تبدیلی لا سکتا ہے اور ہر اَن ایکسپیکٹڈ فائنڈنگ کبھی کبھی اس علم کی طرف دروازہ بن جاتی ہے جس تک ہم ابھی پہنچے ہی نہیں۔ اسی لیے مستقبل کی کوالٹی بائی ڈیزائن صرف پروڈکٹ کوالٹی کو ڈیزائن کرنے کا نام نہیں ہوگی۔ ہمیں کوالٹی آف نالج بائی ڈیزائن کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔ ایسا علمی نظام جس میں ثبوت کے ساتھ اس کی حدود، فیصلے کے ساتھ اس کی اَن سرٹینیٹی اور انٹیلی جنس کے ساتھ اس کی قابل صلاحیت بھی شامل ہو۔

مصنوعی ذہانت ہمیں بے مثال رفتار دے سکتی ہے، بڑے ڈیٹا ہمیں بے مثال وسعت دے سکتے ہیں اور جدید اینالیٹکس ہمیں حساسیت دے سکتے ہیں، لیکن سمت کا فیصلہ اب بھی ایک بنیادی انسانی سوال سے ہوگا، ہم واقعی کیا جاننا چاہتے ہیں اور اگر ہمارا موجودہ جواب غلط ہو تو ہمیں اسے پہچاننے کا طریقہ کیا ہے؟ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں علم معلومات سے، معلومات فہم سے اور فہم ذمے داری سے جڑتی ہے۔ طب میں، آخرکار، یہی ذمے داری سب سے اہم علم ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
ڈاکٹر عبید علی
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔