اسلام آباد:
حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کو ریلیف دینے کے نام پر عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کو ریلیف دینے کے لیے منظور کردہ مارجن حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویز کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر پہلے سے عائد ڈیلرز مارجن 8 روپے 64 پیسے سے بڑھا کر 9 روپے 98 پیسے مقرر کردیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق دونوں مصنوعات پر ڈیلرز مارجن میں ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح مارجن میں اضافے کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل ہوگیا، جبکہ اضافہ نہ ہوتا تو عوام کو قیمت میں 1.34 روپے کا ریلیف مل سکتا تھا۔
اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات پر عائد دیگر ٹیکسز اور چارجز کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔ دستاویز کے مطابق 22 اگست کے لیے ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 231 روپے 30 پیسے فی لیٹر رہی۔
ڈیزل پر پہلے ہی پیٹرولیم لیوی کی مد میں 80 روپے اور کاربن سرچارج لیوی کی مد میں 5 روپے فی لیٹر عائد ہیں۔ مزید یہ کہ ڈیزل پر آئی ایف ای ایم چارجز 3 روپے 94 پیسے فی لیٹر بھی عائد ہیں۔
دستاویز کے مطابق ڈیزل پر ڈسٹری بیوٹر مارجن کی مد میں 7 روپے 87 پیسے فی لیٹر الگ سے عائد ہیں۔ مجموعی طور پر صرف ڈیزل پر 106 روپے 79 پیسے کے ٹیکسز اور متعلقہ چارجز عائد ہیں۔
علاوہ ازیں دستاویز کے مطابق 22 اگست کے لیے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت بھی 231 روپے 30 پیسے فی لیٹر رہی۔ پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی کی مد میں 80 روپے فی لیٹر عائد ہیں۔
پیٹرول پر کاربن سرچارج لیوی کی مد میں 5 روپے فی لیٹر بھی شامل ہیں، جبکہ آئی ایم ایف ای چارجز کی مد میں 7 روپے 44 پیسے فی لیٹر عائد ہیں۔ علاوہ ازیں ڈسٹری بیوٹر مارجن 7 روپے 87 پیسے فی لیٹر ہے۔
دستاویز کے مطابق پیٹرول پر مجموعی طور پر 110 روپے 29 پیسے کے ٹیکسز اور متعلقہ چارجز عائد ہیں۔ حالیہ قیمتوں میں ڈیلرز مارجن کا اضافہ بھی شامل ہونے سے صارفین پر فی لیٹر ایک روپے 34 پیسے کا اضافی بوجھ منتقل ہوا ہے۔