وفاقی کابینہ میں نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کی اب تک کوئی بات زیر غور نہیں، مصطفیٰ کمال

انتظامی یونٹس سندھی مہاجر کی نہیں نظام کی بات ہے، بھارت نے صوبوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 38 کردی مگر ہم چار پر ہیں


احتشام مفتی August 22, 2026
فوٹو: فائل

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال  نے کہا ہے کہ صوبوں کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں بلکہ انتظامی یونٹس کو صوبے میں تقسیم کرنے کی بات ہورہی ہے، یہ سندھی اور مہاجر کی بات نہیں، بات نظام کی ہو رہی ہے۔

آباد ہاؤس میں تعمیراتی شعبے کے نمائندوں سے خطاب  کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس بنانے کی اب تک کوئی بات زیر غور نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین میں صوبے بنانے کا ذکر موجود ہے، آئین پاکستان میں ترامیم ہوسکتی ہیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ کراچی سندھ کی آبادی کا 38 فیصد اور حیدرآباد 5 فیصد ہے، یہ مردم شماری کوئی تسلیم نہیں کرتا۔ آصف علی زرداری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں تسلیم کیا کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے۔ ان کے مطابق کراچی کی حقیقی آبادی کی شرح سندھ میں 55 فیصد ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پاکستان کا پہلا شہر ہے جو مسلسل بڑھ رہا ہے مگر مردم شماری میں تعداد کم ہو رہی ہے۔ وفاق میں بیٹھ کر شور مچایا تو 73 لاکھ لاپتہ لوگوں کا ریکارڈ درست کرکے 2 کروڑ 3 لاکھ کردیا۔

مصطفیٰ کمال نے این ایف سی ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2010 میں ڈسٹرکٹ ٹیکس کو این ایف سی میں شامل کرکے ہڑپ کر لیا گی، ۔کراچی کو ڈسٹرکٹ ٹیکس کی مد میں سالانہ 238 ارب روپے ملتے تھے مگر وہ خرچ نہیں ہوئے۔ اگر یہ پیسہ ملتا تو آج کراچی کو 38 ارب روپے ملتے۔

انہوں نے کہا کہ 2 ہزار ارب روپے کراچی کے حق کا پیسہ تھا جو انفرااسٹرکچر پر لگنا تھا۔ وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ نظام پورے ملک کو خراب کر رہا ہے۔ 18 سالوں میں 22 ہزار ارب روپے ملے، ایک چپڑاسی کی نوکری بھی کراچی ڈومیسائل پر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے 9 صوبوں کو 38 کر دیا اور ہم 4 پر ہی کھڑے ہیں، 28 ویں آئینی ترمیم کا وقت آگیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ متعارف کرانے کی کوشش کی تھی مگر ناکام ہو گیا۔ 22 ارب روپے مالیت کا پلان بنایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اب وزارت صحت کی قومی شناختی کارڈ پر 210 ارب روپے کی لاگت سے ہیلتھ کوریج پلان پر کام جاری ہے۔