برصغیر میں، کامریڈ چارو مجمدار کا شمار ممتاز انقلابی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ 15 جولائی 1919 کوایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد آزادی پسند تھے، جنھوں نے ہندوستان میں برطانوی سامراج مخالف جدوجہد میں حصہ لیا۔
1938 کے دوران جب کالج میں زیر تعلیم تھے، تو آزادی کے پرجوش نعرے ان کے کانوں میں گونجنے لگے۔ اس وقت انھوں نے کالج کو خیرباد کہا اور’’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(CPI)، جو برصغیر کی تیسری بڑی جماعت تھی،اس میں شمولیت اختیار کر لی، جہاں انھیں کسان محاذ پر کام کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔
برطانوی سامراجی حکام کو ان کی سرگرمیوں کا علم ہو گیا اور فوراً کامریڈ چارو مجمدار کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بائیں بازو کے کارکن کے خلاف اس قسم کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ روپوش ہو گئے اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
اگرچہ دوسری جنگ عظیم کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، لیکن کامریڈ چارو نے پارٹی کی سرگرمیاں ترک نہیں کیں اور پارٹی کا کام جاری رکھا۔ 1942ء میں انھیں سی پی آئی کی جلپائی گوڑی ڈسٹرکٹ کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا۔
جب 1943میں شدید قحط پڑا تو انھوں نے اناج کی ترسیل پر برطانوی حکومت کے کنٹرول کے خلاف ایک تحریک شروع کی اور دارجلنگ میں کسانوں اور زرعی مزدوروں کو متحد کیا۔ انھوں نے جاگیرداروں اور ان کے کارندوں کے حوالے سے کسانوں میں شعور بیدار کیا۔
ایک ایسی تحریک جسے تیبھاگا Tebhaga تحریک کے سے یاد کیا جاتا ہے،اس تحریک کا مرکز مشرقی بنگال کا خطہ تھا۔ یہ ایک ایسی تحریک تھی جو جاگیردارانہ نظام میں پنہاں استحصال کے خلاف اٹھی تھی۔ اس تحریک کی قیادت خاتون رہنما ایلا مترا نے کی، ان کے ساتھ، 19 نمایاں انقلابی رہنما،جن میں چارو مجمدار بھی شامل تھے۔
یہ مزاحمت کے میدان میں کامریڈ مجمدار کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ محض ایک سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ گہری فکری اور نظریاتی بصیرت کے حامل مفکر بھی تھے۔ ان کی تحریریں ہندوستان میں مزاحمت کی ایک نئی تاریخ کا وژن پیش کرتی ہیں۔ اپنی ایک تحریر میں وہ بیان کرتے ہیں۔
’’سالیگری میں مقیم ایک نوبیاہتا مسلمان جوڑے کے ساتھ ایک جاگیردار نے زیادتی کی، بے بس شوہر ان جاگیرداروں کا جبر برداشت کرتا رہا اور بالآخر اس کے نتیجے میں خاتون کی موت واقع ہو گئی۔ اس واقعے کی خبر ریاست بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور کھیتی باڑی کے اوزاروں جیسے درانتیوں اور ہنسوؤںسے لیس مزدوروں اور کسانوں نے بغاوت کا علم بلند کر دیا۔‘‘
ہندوستان کی آزادی کے بعد، چارو مجمدار نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) نظریاتی طور پر اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے؛ چنانچہ انھوں نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک نئی راہ تلاش کی۔
اس کے نتیجے میں ’’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)‘‘ کا قیام عمل میں آیا، لیکن جب بعد میں مارکسوادی پارٹی نے بھی موقع پرستانہ روش اختیار کر لی تو مجمدار اس سے الگ ہو گئے۔دوبارہ اپنے ہم خیال ساتھیوں کو یکجا کیا، پہلے ’’آل انڈیا کوآرڈینیشن کمیٹی‘‘ تشکیل دی، 1967 میں ’ ’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ –لیننسٹ) کی بنیاد رکھی۔ کامریڈ چارو مجمدار کو اس پارٹی کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔
نکسل باڑی کا موضوع ہمارے ذہنوں میں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ نکسل باڑی تحریک کا آغاز بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’نکسل باڑی‘ سے ہوا؛ جیسے جیسے یہ تحریک پھیلی، اس گاؤں کے نام کی مناسبت سے اسے ’نکسلائٹ تحریک‘ کا نام دیا گیا۔
’’نکسلائٹ‘‘ سے مراد بھارت میں مسلح انقلابی بائیں بازو (کمیونسٹ) کی تحریک کے اندر موجودایک مخصوص رجحان ہے۔ اس تحریک کا قیام پسماندہ طبقات بالخصوص کسانوں، خواتین اور حاشیے پر دھکیلے گئے آدی واسیوں (مقامی باشندوں)کے خلاف ریاستی جبر کے ردعمل میں عمل میں آیا۔
چارو مجمدار کی جماعت، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ)، اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ مزدوروں، کسانوں، مظلوموں اور آدی واسیوں کی بدحالی کی بنیادی وجہ ریاست کی عوام دشمن پالیسیاں تھیں، وہ نکسلائٹ تحریک کی مسلح جدوجہد کو نجات کا واحد راستہ سمجھتے تھے۔
کامریڈ چارو مجمدار چینی انقلابی ماؤ زے تنگ سے متاثر تھے، اسی لیے اس تحریک کو ’’ماؤسٹ تحریک‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا نقطہ نظر روایتی پارلیمانی کمیونسٹ جماعتوں سے مختلف تھا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) نے مارکسزم، لیننزم اور ماؤازم کی بنیاد پر نچلی سطح پر عوامی تنظیم سازی کی۔
1969 میں، کامریڈ چارو مجمدار اور کانو سانیال نے زمین کی ملکیت کے حصول کی جدوجہد کا نعرہ بلند کیا اور اعلان کیا کہ ’’زمین کاشتکار کی ہے‘‘ اس تحریک کا اثر اتنا گہرا تھا کہ کانگریس پارٹی کی مغربی بنگال پر گرفت کمزور پڑ گئی۔ نتیجے کے طور پر، ریاست میں پہلی بار کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) کی حکومت قائم ہوئی اور جیوتی باسو کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
بھارت کے گاؤں ’ ’ نکسل باڑی‘‘ میں جب مظلوم طبقات نے امتیازی رویوں ، عوام دشمن عناصر اور مزدوروں و محنت کشوں کا استحصال کرنے والے طبقے کے خلاف ہتھیار اٹھائے، تو اس تحریک نے اپنے قوانین اور عدالتیں بھی قائم کر لیں۔جس کا نام ’’جنتانا سرکار‘‘ (عوامی حکومت) رکھا اور کئی جاگیرداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بہت سے نامورادیبوں نے نکسلیوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور وہاں کی صورتِ حال کو تفصیل سے قلم بند کیا ہے۔
نکسل باڑی تحریک،جو بعد میں ’’نکسلائٹ‘‘تحریک کی شکل اختیار کر گئی،اتنی وسعت اختیار کر گئی کہ مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نے اس کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کر دیں۔
1971 میں خاص طور پر ہندوستان کی حکومت نے مغربی بنگال کی حکومت کے ساتھ ملکر اس تحریک کے خلاف آپریشن اسٹیپل چیز (Operation Steeplechase)کے نام سے ایک آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ماؤ باغی مارے گئے۔
بعد ازاں،اس تحریک کو کچلنے کے لیے گرین ہنٹ (2009) اورپرہار(2017) کے نام سے آپریشنز شروع کیے گئے۔ ’’نکسلائٹ‘‘ علاقے آج بھی بجلی اور صاف پانی جیسی سہولیات سے محروم ہیں، یہاں تک کہ اس جدید دور میں بھی عام رہائشی صفائی ستھرائی کے بنیادی نظام سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔
2007 سے اب تک، نکسلائٹ گوریلوں کے مختلف حملوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز سمیت سیکڑوں اہلکار اور سیاست دان ہلاک ہو چکے ہیں۔ کامریڈ چارو مجمدار کو 16 جولائی 1972 کو گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں دوران حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 28 جولائی کو،’’نکسل باڑی‘‘ تحریک کے بانی کامریڈ چارو مجمدار حراست کے دوران ہلاک ہو گئے،ان کے اہل خانہ کو ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔