عہد نو کا جواں فکر شاعر…محمد امین جان ؔ

محمد امین جانؔ کوگوجرانوالہ کے مشاعروں کی دوسری جان بھی کہا جاتا ہے


صدام ساگر August 23, 2026

گوجرانوالہ کی سرزمین بھی کیسی سخن خیز ہے کہ اس زمین میں ہر دور میں کسی نہ کسی شاعر کی تخلیق ہوتی رہتی ہے ، اسی شہر میں علم و فن کا دیدہ ورجانؔ کاشمیری سایہ فگن ہیں اور وہ لکھنے والوں کو ہر وقت شاعری کی طرف بُلاتے رہتے ہیں۔

اب اس علاقے میں محمد امین جانؔ کا ظہور ہُوا ہے، جو ایک عمدہ شاعر، افسانہ نگار اور نظامت کار کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ ان کی شخصیت میں انفرادیت، تخیل میں پختگی، رنگینی، جذبات و احساسات میں رعنائی اور اُمید کی کرن جا بجا نظر آتی ہے۔ جس طرح انسان مشکل وقت سے گزر کر ایک دن امیر بنتا ہے اُسی طرح محمد امین جانؔ بھی شعرو سخن کی پٹھی میں دیر تک تپ کر کندن بنے ہیں۔

آتشِ غم میں بہت دیر تلک تپتے ہیں

تب کہیں صفحہء قرطاس پہ ہم چھپتے ہیں

محمد امین جانؔ کے نزدیک ’’آتش ِ غم‘‘ سے مراد ابتدائی زندگی کے وہ مشکل ترین تجربات اور آزمائشیں ہیں جنھیں بڑی حوصلہ مندی کے ساتھ جھیلتے ہوئے انھوں نے دکھ اور درد کی گرمی سے نکل کر راحت اور امان کی ٹھنڈی چھاؤں تک پہنچنے کی ایک خوبصورت فکری مسافت طے کی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں محض رسمی باتیں نہیں کیں جو آج کل کے فیشن کا حصہ سمجھی جاتی ہیں، بلکہ زندگی کے حقائق کے بارے میں کُھل کر بات کی ہے۔ ان کا اولین شعری مجموعہ ’’انعطاف‘‘ کے نام سے منصہ شہود پر آ چکا ہے۔

اس کتاب میں شامل غزلیات نہایت ہی فکر انگیز، دلگیر و دل پذیر ہیں۔ انھوں نے اپنی غزلیات میں نہ صرف استاد الشعرا کی بحروں سے فائدہ اُٹھایا ہے بلکہ اُن کی بہت سی ردیفوں کا بھی خوب استعمال کیا ہے جو ان کی ایک فنی اور تخلیقی عمل کی داد دیتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

ہم اہل ِ جنوں پیار کے اخلاص کے طالب

ہے اپنے لیے جاہ و حشم ایک مصیبت

……

نو جوانی کی نشانی ہے کہ اُس شوخ نے آج

ناک میں چھید جو کروا کے پرویا تنکا

……

جانؔ میرے شہروں میں اس قدر ہے خاموشی

اب تو دشت شہروں سے سیکھتے ہیں سناٹے

……

وصالِ یار کے گلشن میں جان دی ہو گی

جو آ رہی ہے ابھی تک مزار سے خوشبو

……

اب مشق ِ سخن میں کوئی لغزش نہیں ہوتی

کمرے میں لگا رکھی ہے اُستاد کی تصویر

محمد امین جانؔ نے شاعری کے بنیادی قوانین سے آگاہی اورفن میں انفرادیت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے جانؔ کاشمیری جیسے اُستاد غزل گو شاعر کی شاگردی اختیار کی اورشاعری کے بنیادی رموز اور اسرارسیکھنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں کامیابی کی رہنمائی حاصل کی۔

یہی وجہ ہے کہ وہ مشق سخن کے ابتدائی مرحلے پر ہی اُستاد الشعرا کی توجہ کا خصوصی مرکز بن گئے۔ان کے شعری مجموعے ’’انعطاف‘‘ میں 71 غزلیں شامل ہیں۔ جن کا بنیادی موضوع محبت، سیاست، اخلاقیات، فکری بددیانتی اور دیگر اعصاب شکن مسائل پر آواز اُٹھاتے نظر آتے ہیں۔ جب کہ رومانوی انداز میں کہے ان کے اشعار حضرتِ انسان کے جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے زبان سے ادا ہونے پر سیدھا نہ صرف دل پر وار کرتے ہیں بلکہ انسان کی روح کو تسکین عطا کرتے ہیں۔

کیسے در آئے محبت میں بھلا ذاتی مفاد

کوچہء جاناں میں ہم جاتے ہیں لیکن کام سے

اُستاد اور شاگرد کے خیالات کا اس طرح ملنا کہ شاگرد استاد کے اشعار کو اپنے دل کی آواز سمجھے، شاعری کی دنیا میں بہت خاص مانا جاتا ہے۔ اس تعلق کو فکری ہم آہنگی اور اصلاح کا بہترین روپ تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس کی مثال ہمیں محمد امین جانؔ کے بہت سے اشعار میں دیکھنے کو ملتی ہے۔نمونے کے طور پر ایک شعر:

خشک روٹی کی ہے تصویر سجائی گھر میں

فن بتاتا ہے کہ فنکار کی حالت کیا ہے

اُستاد جان ؔ کاشمیری کے اس خیال اور اس زمین پر طبع آزمائی کرتے ہوئے محمد امین جانؔ نے لاشعوری طور پر انھی مضامین یا لہجے کو اپنے شعر میں دہراتے نظر آتے ہیں-

مدتوں بعد کسی روز جو پائی روٹی

اُس نے تمغے کی طرح گھر میں سجائی روٹی

ان کے ہاں غزلیہ کلام میں بے شمار ایسے اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں جو ان کے اُستاد کے کہے خیالات سے ملتے جلتے معلوم ہوتے ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی اُستاد شاعر کی بحروں اور ردیفوں میں غزل کہنا عروضاََ اور قانوناکوئی عیب نہیں ہے۔

البتہ شعری روایت اور نکتہ آفریں اساتذہ کے نزدیک اس کا شمار ’’فکری یا طبعی عیب‘‘مانا جاتا ہے۔بہرحال محمد امین جانؔ پر کسی بھی فکری یا طبعی عیب کا الزام عائد کرنا درست نہیں ہو گا بلکہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک شاگرد کی شاعری میں اُستاد کے رنگ کی جھلک صاف نظر آتی ہے ۔

’’انعطاف‘‘ کے دیباچہ میں جانؔ کاشمیری لکھتے ہیں کہ’’محمد امین جانؔ ایک عرصہ سے غزل کی وادی کی سیاحت میں مشغول تھا لیکن کتاب سے محروم تھا۔ اب اس کی کتاب ’’انعطاف‘‘ منظرعام پر آگئی ہے گویا وہ اردو ادب کی جنت میں داخل ہو گیا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ وہ جنت کا مالک بن گیا ہے جب کہ جنت میں داخل ہونا بجائے خود ایک اعزاز ہے۔‘‘

محمد امین جانؔ کوگوجرانوالہ کے مشاعروں کی دوسری جان بھی کہا جاتا ہے ،ان کے چاہنے والوں میں ذوق و شوق کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ محمد امین جانؔ عہدِ نو کے جواں فکر شاعر ہے جو مشاعروں میں اپنا تازہ کلام نذرِ شعرا و سامعین کرتے ہیں، ورنہ عام طور پر شعرا مشاعروں میں ایک ہی کلام برسوں سے دہراتے ہیں۔

وہ سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری کا تڑکا بھی لگاتے نظر آتے ہیں۔ان کی مزاحیہ نظمیں ہر عمر کے لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔ وہ گوجرانوالہ میں پرنٹنگ کے کام سے وابستگی رکھے ہوئے ادبی ذوق کو تقویط دینے کے لیے ادبی تنظیم ’’عروض‘‘ قائم کیے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ ابتک چار مختلف ناموں سے ادبی ،تعلیمی،سماجی اور سیاسی اہمیت کے حامل رسالے شائع کر چکے ہیں۔

میں آخر میں یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ محمد امین جانؔ ہمارے عہد کے ان گنے چنے شاعروں میں سے ہیں ،جن کی شاعری عصرحاضر کے مسائل سے آگہی بخشنے کے ساتھ ساتھ قارئین شعرا کو اپنی طرف مائل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ کیوں کہ اُس نے صداقت کی سیاہی سے قلم ڈبو کر اور اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھنے کے لیے آنکھوں کو صاف پانی سے باوضو رکھا ہوا ہے۔