جامعات اور نوجوانوں کا مستقبل

نوجوانوں کی سطح پر ان کی ڈگریوں کو عملی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑنا ہوگا


سلمان عابد August 23, 2026
[email protected]

اہل دانش اور علمی و فکری ماہرین کی سطح پر یہ بحث عمومی طورپر جاری ہے کہ ہماری موجودہ جامعات کا نظام نوجوانوں کی صلاحیتوں ،علم،معلومات اور ان کی تخلیقی پہلووں کو اجاگر کرنے میں کس حد تک معاونت کا کردار ادا کررہا ہے۔

اسی طرح ایک بحث کا نقطہ یہ بھی ہے کہ ہماری جامعات دنیا کی جدید تعلیم کے تقاضوں کے مطابق ہے اور عالمی درجہ بندی میں کہاں کھڑی ہیں۔ان دونوں باتوں کا ایک جواب تو ہمیں یہ مل سکتا ہے کہ ہم سب سے پہلے حکومتی ترحیحات کو دیکھیں ، اعلی تعلیم پر کتنی سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔کیونکہ اس سوال کا تجزیہ کیے بغیر ہم درست تجزیہ نہیں کرسکیں گے۔

جدید تعلیم اور تحقیق سے دوری میں جہاں اعلی تعلیمی نظام قصور وار ہے، وہیں جامعات کے لیے مالی وسائل کا نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہ دلیل دینا آسان ہے کہ جامعات اپنا کردار ادا نہیں کررہی مگر کیا حکومت اور ریاست کا نظام جامعات کی ترقی میں اپنا کردار دیانت داری کی بنیاد پر ادا کررہی ہے تو ہمیں اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔

اس لیے جب ہم جامعات کی سطح پر نوجوانوں کے مستقبل اور ترقی کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو پہلے ہمیں جامعات کے داخلی مسائل کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ سارا الزام نئی نسل پر ڈال کر کہ وہ پڑھنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں درست حکمت عملی نہیں۔

منطق یہ دی جاتی ہے کہ اعلی تعلیم سے جڑے ادارے جن میں وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ہوں یا متعلقہ جامعات یا ہائر ایجوکیشن سے جڑی بیوروکریسی اور حکمران طبقہ جامعات میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کو جدید دور کے تقاضوں کی بنیاد پر نئے نئے اقدامات اور بالخصوص ڈیجیٹل لائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر خصوصی توجہ دی جاری ہے۔

لیکن جب ان سے ان ہی کے اقدامات کے نتائج مانگے جاتے ہیں یا ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس میں کامیابی سے زیادہ مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔جب جامعات کی سطح پر اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے پاس تحقیق کے لیے وسائل ہی نہیں ہیں تو وہ جدید بنیادوں پر اور بالخصوص ریاست کو درپیش موجود چیلنجز پر کیا نئی تحقیق کرسکیں گے۔

اس وقت ریاست اور حکمرانی کے نظام کو جو بحران سیاسی،سماجی اور معاشی بنیادوں پر یا گورننس کے نظام پر درپیش ہیں ان کا کیا حل جامعات تلاش کرسکی ہیں اور اگر تلاش کیا ہے تو اس کی حکومتی سطح پر کیونکر قبولیت نہیں ہورہی۔

یہ بات درست ہے کہ آج کے نوجوانوں کو جامعات کی سطح پر محض ڈگری نہیں درکار بلکہ اس کے لیے اسے مارکیٹ سے جڑی صلاحیتیں درکار ہیں۔میں یہ منطق بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں نئی نسل میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ ڈگری تعلیم کے شعبہ میں ڈسپلن پیدا کرتی ہے اور تحقیق اور تجزیہ یا موازنہ کی عملی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

اصولی طور پر ان دونوں یعنی ڈگری اور صلاحیت کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی بلکہ دونوں کو ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ابھی تو بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں جامعات کی سطح پر ڈیجیٹل لائزیشن کی بہت کمی ہے اور انٹرنیٹ کے بحران کا بھی سامنا ہے اور ایسے میں یہ کہنا کہ ہم جامعات کی ترقی کو آگے بڑھارہے ہیں سنگین مذاق لگتا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ حکومت سمیت وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن سمیت جامعات کے پاس کوئی ایسا واضح لانگ ٹرم ،مڈ ٹرم اورشارٹ ٹرم کی بنیاد ہر روڈ میپ نہیں جو لوگوں کو اور نئی نسل کو مطمن کرسکے کہ ہماری جامعات درست سمت میں چل رہی ہے۔

اسی طرح نئی نسل کو بنیاد بنا کر جامعات اور انڈسٹری کے درمیان جو خلیج ہے اور اس کے جو جدید تقاضے ہیںاس سے ہم بہت دور کھڑے ہیں۔ نئی نسل میں اپنے مستقبل کے حوالے سے امید کم اور مایوسی یا غیر یقینی صورتحال زیادہ ہے ۔

اسی بنیاد پر ماضی کے مقابلے میں آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک چھوڑنے والوںنوجوانوں کی تعدادجو پڑھی لکھی ہے اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔اگرچہ اس کی ذمے داری زیادہ تو حکومت پر عائد ہوتی ہے جو نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔

لیکن اس موجودہ صورتحال میں جامعات کو بھی اپنا ماڈل بدلنے کی ضرورت ہے جو جدید مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کرسکے۔میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اعلی تعلیم سے جڑے ادارے اور ارباب اختیارجو تبدیلی اور سہولیات کے تناظر میں بڑے بڑے یقین سے دعوے کرتے ہیں ان کی عملی شکلیں جامعات کا سطح پر کمزور بنیادوں پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔

اسی طرح اسٹوڈنٹس کونسلوں کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر یا تو ان کی تشکیل نہیں ہوتی یا اگر تشکیل دی جاتی ہیں تو غیر فعال ہوتی ہیں اور جامعات کی سطح سے ان کی کوئی سرپرستی نہیں کی جاتی یا غیر نصابی سرگرمیوں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

اصل میں ہمیں قومی سطح پر جامعات اور نوجوانوں کی سطح پر مشترکہ حکمت اعلی تعلیمی اداروں اور وفاقی یا صوبائی ہائر ایجوکیشن کی سطح پر درکار ہے۔ نوجوانوں میں انتہا پسندی ،پر تشدد سطح پر مبنی رجحانات اور عدم برداشت جیسے معاملات ہیں اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کی سطح پر ان کی ڈگریوں کو عملی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑنا ہوگا اور ان کے انٹرن شپ پروگراموں کی حکمت عملی سمیت اس پر بڑی سرمایہ کاری کا ضرورت کرنا ہوگی۔

اسٹوڈنٹس کونسلوں کو عملی طور پر فعال کرنا ہوگا اور پیشہ وارانہ بنیادوں پر اسے چلانا ہوگا۔یہ جو ہم نے چھوٹے شہروں میں جامعات کے نئے تصورات تشکیل دیے ہیں اور نئی جامعات کی تشکیل ممکن ہوئی۔

لیکن بڑے شہروں کے مقابلے میں چھوٹے شہروں کی جامعات کے مسائل بڑے شہروں کی جامعات سے بہت زیادہ ہیں۔

کیونکہ چھوٹے شہروں میں جو نوجوانوں کو جامعات کی سطح پر مسائل درپیش ہیں اس کا ازالہ کیسے ممکن ہوگا۔ایک ایسے ماحول میں جب ہم جامعات کی ترقی کی بات کررہے ہیں تو پہلا بنیادی سوال جامعات کی سطح پر موجود مالیاتی سطح کا بحران ہے اور جس طرح سے اعلی تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی ہورہی ہے تو اس کی بنیاد پر اعلی تعلیم سے جڑے مسائل کا حل اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔اس لیے اعلی تعلیم سے جڑے ذمے داران اور فیصلہ ساز روائتی طور سوچ یا فکر یا طور طریقوں سے باہر نکل کر دنیا کے جدید ماڈل اختیار کریں ۔