دھمکیاں، مذاکرات کے بیچ مشرق وسطیٰ کا بحران

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی اسی نازک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے


ایڈیٹوریل August 24, 2026

کبھی کبھی جنگ کا سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں ہوتا جب پہلی گولی چلتی ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جب ہر فریق یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگلا قدم اٹھانے کے بعد بھی واپسی کا راستہ اس کے پاس موجود رہے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی اسی نازک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف واشنگٹن معاشی دباؤ، نئی پابندیوں اور فوجی آپشنز کو ایک ہی حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں کے طور پر استعمال کر رہا ہے، دوسری طرف تہران معاشی مشکلات کے باوجود اپنے سیاسی اور دفاعی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ اس کشمکش کی اصل اہمیت یہ نہیں کہ کون زیادہ بلند آواز میں اپنی طاقت کا اعلان کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا آیندہ سیاسی، معاشی اور سلامتی کا نقشہ کس طرح تشکیل پاتا ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدے کا خواہاں ہے، مگر ایسا سمجھوتا قبول کرنے پر تیار نہیں جسے واشنگٹن درست سمجھتا ہے، مذاکرات کی بنیادی رکاوٹ کو نمایاں کرتا ہے۔ دونوں جانب بات چیت کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود مسئلہ شرائط اور اعتماد کا ہے۔ امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو ایران کی جوہری، میزائل اور علاقائی پالیسیوں کے بارے میں اسے قابل قبول یقین دہانی فراہم کرے، جب کہ ایران کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر وہ کسی سمجھوتے پر دستخط کرے تو کیا اسے مستقبل میں دوبارہ اقتصادی محاصرے یا نئے مطالبات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس اعتماد کے فقدان نے ہر سفارتی پیش رفت کو عارضی اور ہر وعدے کو مشروط بنا دیا ہے۔

واشنگٹن کی معاشی پابندیوں نے ایرانی معیشت پر دباؤ ضرور بڑھایا ہے۔ مہنگائی، روزگار، تجارت اور سرمایہ کاری کے مسائل کسی بھی ریاست کے لیے معمولی نہیں ہوتے، لیکن معاشی کمزوری کو سیاسی شکست سمجھ لینا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں۔ پابندیاں ریاست کی صلاحیت کو محدود کرسکتی ہیں، مگر اس کے بنیادی قومی مفادات کو لازماً ختم نہیں کرتیں۔ ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف کا یہ کہنا کہ حکومت معاشی دباؤ کو عوام کے روزگار اور استحکام پر اثرانداز نہیں ہونے دے گی، اسی سیاسی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔ تہران جانتا ہے کہ معاشی مشکلات اگر عوامی بے چینی میں بدلیں تو بیرونی دباؤ کو اندرونی سیاسی چیلنج سے جوڑنا آسان ہوجائے گا۔ چنانچہ معاشی محاذ اب ایران کی قومی سلامتی کا بھی حصہ بن چکا ہے۔ٹرمپ کی طرف سے فوجی آپشنز کھلے رکھنے کا اعلان اس بحران کو مزید حساس بناتا ہے۔

فوجی طاقت کا اظہار مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جاسکتا ہے، لیکن جس لمحے عسکری اختیار عملی اقدام میں بدلتا ہے، صورت حال واشنگٹن کے قابو سے بھی باہر ہوسکتی ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی کا ردعمل صرف ایرانی سرزمین تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں۔ عراق، شام، خلیج، اسرائیل اور دیگر مقامات اس کشیدگی کے فوری یا بالواسطہ مراکز بن سکتے ہیں۔ توانائی کی تنصیبات اور سمندری راستے متاثر ہوں تو بحران کی قیمت عالمی معیشت کو ادا کرنا پڑے گی۔ اسی لیے فوجی برتری کسی کارروائی کو ممکن ضرور بناتی ہے، مگر اسے سیاسی طور پر دانشمندانہ ثابت نہیں کرتی۔

آبنائے ہرمز اس پورے بحران کا سب سے حساس نقطہ ہے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا کو آبنائے اور اس سے متعلق وسیع علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، امریکی عسکری طاقت کی ترجمانی ضرور کرتا ہے، مگر کسی سمندری گزرگاہ پر طاقت رکھنا اور اسے مسلسل پُرامن، محفوظ اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے قابلِ اعتماد رکھنا الگ معاملات ہیں۔ ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ یہاں معمولی خلل بھی تیل، گیس، انشورنس اور عالمی تجارت کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے، لہٰذا اس راستے کو دباؤ کے آلے کے طور پر دیکھنا تمام فریقوں کے لیے خطرناک ہوگا۔ خطے کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اس امر کی ضرورت ہے کہ اس گزرگاہ کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھا جائے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا یہ کہنا کہ علاقائی ممالک نئے سیکیورٹی اور معاشی انتظامات کے خواہاں ہیں، ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگر خلیج کے ممالک یہ محسوس کرنے لگیں کہ بڑی طاقتوں کی کشمکش ان کی قومی سلامتی اور معاشی ترقی کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے تو وہ اپنے لیے متبادل علاقائی بندوبست تلاش کریں گے۔ ایران مقامی اور آزاد سیکیورٹی نظام کی بات اسی لیے کر رہا ہے۔ اس تصور کو تہران اپنے سیاسی اثرورسوخ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار دوسرے ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔ کوئی بھی ریاست اپنی سلامتی مکمل طور پر کسی ایک طاقت کے حوالے کرنے کے بجائے اب زیادہ متوازن اور کثیرالجہتی تعلقات کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔

عراق اس بدلتی صورت حال کی بہترین مثال ہے۔ ایران کی جانب سے عراقی تیل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینا، اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود معاشی ضرورتیں رابطے کے دروازے بند نہیں ہونے دیتیں۔ بغداد کو ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور جغرافیائی تعلقات بھی دیکھنے ہیں اور عالمی تجارت و توانائی کے نظام سے وابستہ مفادات بھی۔ یہی دہری ضرورت عراق کو مستقبل میں کسی ممکنہ علاقائی سفارتی عمل کا اہم کردار بنا سکتی ہے۔

مصر کا فعال ہونا بھی اسی سلسلے کی علامت ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عرب دنیا میں بھی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ دوبارہ کھولنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ترکیہ کی پوزیشن اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بارے میں امریکی نمائندے ٹام بیرک کا یہ امکان ظاہر کرنا کہ شاید ترکیہ کو تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش ہوئی ہو، ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی کشیدگی اب براہِ راست فریقوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، مگر شام، عراق، فلسطین، روس اور خطے کے دیگر معاملات میں اس کے اپنے مفادات ہیں۔

امریکا کی نئی پابندیوں پر ایران کی شدید مذمت نے ایک اور بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ کیا کسی ملک کی داخلی قانون سازی دوسرے خودمختار ممالک کے تجارتی فیصلوں کو بھی عملاً محدود کرسکتی ہے؟ امریکا اپنی مالیاتی طاقت اور عالمی مارکیٹ میں اثرورسوخ کو پابندیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، جب کہ ایران اسے معاشی جنگ قرار دیتا ہے۔ چین جیسے اہم تجارتی شراکت داروں پر دباؤ اس تنازع کو مزید وسیع بناتا ہے، اگر بڑی طاقتیں اپنی اقتصادی قوت کو عالمی تجارت پر سیاسی دباؤ کے لیے زیادہ استعمال کرتی رہیں تو دنیا میں متبادل مالیاتی، تجارتی اور توانائی کے نظام بنانے کی کوششیں بھی تیز ہوں گی، یوں آج کی پابندی کل کے عالمی اقتصادی ڈھانچے کو بدل سکتی ہے۔

ایرانی حکام کا یہ دعویٰ کہ عالمی طاقت کا توازن منتقل ہورہا ہے، مکمل طور پر محض سیاسی نعرہ بھی نہیں۔ چین کی معاشی طاقت، روس کی عسکری موجودگی اور علاقائی ریاستوں کی بڑھتی ہوئی خود اعتمادی نے عالمی نظام کو پہلے کی نسبت زیادہ کثیرالجہتی بنا دیا ہے، تاہم طاقت کا بکھراؤ لازماً امن نہیں لاتا۔ جب متعدد طاقتیں ایک ہی خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوں تو غلط اندازے، محدود جنگیں اور پراکسی تنازعات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے نئے عالمی توازن کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ طاقتور ریاستیں اپنی قوت کو تصادم کے بجائے قواعد، مذاکرات اور باہمی ضمانتوں میں کس حد تک ڈھال سکتی ہیں۔

 ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ بحران کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ عسکری برتری اور سیاسی کامیابی مترادف نہیں۔ امریکا کے پاس وسیع فوجی طاقت ہے، ایران کے پاس جغرافیائی اہمیت، علاقائی روابط اور مزاحمت کی صلاحیت ہے، جب کہ خطے کے دوسرے ممالک کے پاس توانائی، تجارت اور سفارت کاری کی اپنی اپنی قوت موجود ہے۔ کوئی ایک فریق دوسرے کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرسکتا۔ اسی حقیقت کو اگر سفارت کاری کی بنیاد بنایا جائے تو بحران کے اندر موقع بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

ضرورت ایک ایسے وسیع علاقائی سمجھوتے کی ہے جس میں ایران کی خودمختاری، خلیجی ریاستوں کی سلامتی، عراق اور شام کے مسائل، توانائی کی آزادانہ ترسیل اور عالمی تجارت کے تحفظ کو ایک ہی فریم میں دیکھا جائے۔ اگر واشنگٹن اپنی طاقت کو مذاکرات کی میز تک پہنچنے کا ذریعہ بنائے اور تہران مزاحمت کو سفارت کاری سے فرار کا جواز نہ بنائے تو موجودہ بحران نئے علاقائی بندوبست کی بنیاد بن سکتا ہے، لیکن اگر ہر فریق فتح کو صرف دوسرے کی پسپائی سمجھتا رہا تو جنگ شاید کسی ایک دن اچانک شروع نہ ہو، بلکہ پابندیوں، دھمکیوں، عسکری تیاریوں اور غلط فیصلوں کی صورت میں بتدریج معمول بن جائے۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت کسی نئے فاتح کی نہیں، ایسے سیاسی راستے کی ضرورت ہے جس میں کسی کو فاتح یا مفتوح بنائے بغیر سب کو محفوظ رہنے کا امکان مل سکے۔