لانڈھی،چراغ ہوٹل،تھڑا، پریس کلب، مشاعرے اور ادبی تقریبات میں گاہے گاہے شرکت، یہی خالد احمد شاہ کی زندگی گذارنے کا مشغلہ تھا،اسے کیا خبر تھی کہ علی گڑھ یونیورسٹی سے سند لے کر انجینئر بننے کے باوجود مشینوں میں جتنے کے مقابل وہ اپنا رشتہ قلم اور تخلیق سے ایسا جوڑے گا کہ اس کی پہچان ہی عوام اور سماج کے دکھ درد کا بلند آہنگ لہجہ بن جائے گا ،خالد علیگ صرف آہنگ کی بلندیوں کا شہسوار ہی نہ تھا بلکہ وہ کردار کی بلندی کا وہ نشان تھا کہ جس نے عیش و عشرت کی زندگی گذارنے والے خاندان کی ثروت اور جاہ و حشم کو بھی اپنی کمزوری نہ بنایا،جب کہ خالد علیگ کے خاندان میں اعلیٰ درجے کے عہدوں پر فائز افراد اور نوجوان موجود تھے ،خالد علیگ نے اپنے صحافتی دور میں ایک بیباک اور نڈر صحافی کے طور پراپنی شناخت قائم رکھی، خالد علیگ کی زندگی میں اصول بہت اہم تھے۔
انھوں نے اپنی زندگی کو ’’سمجھوتوں‘‘ سے ہمیشہ پرے رکھا، خالد علیگ کے صحافتی دور میں ان کے بڑے بھائی اور معروف صحافی حضور احمد شاہ ان دنوں ایک انگریزی اخبار کے نیوزایڈیٹر تھے جب کہ کراچی پریس کلب کے منتخب صدر بھی تھے اور مالی اعتبار سے خالد علیگ کے مقابلے میں کافی مضبوط تھے۔اس دور کے دوست بتاتے ہیں کہ حضور احمد شاہ کے پاس موٹر کار تھی جب کہ خالد علیگ بسوں میں سفر کرنے والے ایک صحافی تھے،حضور احمد شاہ اپنے چھوٹے بھائی خالد علیگ کو گھر جاتے ہوئے کہتے کہ ’’خالد !چلو میں تمہیں اپنی موٹر میں بس اسٹاپ تک چھوڑ دوں‘‘تو خالد علیگ ان سے معذرت کر لیتے تھے یا کبھی رات کے پہر حضور شاہ اپنے بھائی کو دیکھ کر کہتے کہ ’’خالد چلو رات کافی ہو چکی ہے آج تم میرے گھر ناظم آباد میں سو جاؤ‘‘تو خالد علیگ بڑے بھائی سے احترام کے ساتھ انکار کرکے رات لانڈھی کی بس میں سوار ہو کر اپنے گھر ہی آرام کو ترجیح دیتے تھے۔
خالد علیگ اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی کمیونسٹ نکتہ نظر سے متاثر تھے،جب کہ بعد میں انھوں نے باقاعدہ کمیونسٹ پارٹی کے رسالے ’’منشور‘‘ سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا،اس کے بعد خالد علیگ روزنامہ ’’حریت‘‘ میں فخر ماتری کی نظر میں آکر اخبار کے اجرا سے تین ماہ قبل ہی اخبار سے وابستہ کر لیے گئے،حریت اخبارمیں اپنے سوشلسٹ و کمیونسٹ خیالات کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے خالد علیگ اکثر گویا ہوتے تھے کہ ’’اس زمانے میں اخبار میں اس بات کا بہت خیال رکھا جاتا تھا کہ روشن خیال اور غیر جانبدار سوچ کے فرد کو ٹیم کا حصہ بنایا جائے اور اخباری مالکان دائیں بازو کی سوچ سے اکثر پرے رہا کرتے تھے۔‘‘
اسی طرح خالد علیگ کا حسن ناصر کے بارے میں نکتہ نظر تھا کہ ’’وہ شخص بہت اعلیٰ دماغ،صاف ذہن اور روشن خیال فرد تھا کہ جس میں کام کرنے کی بڑی لگن تھی اور حسن ناصر نے کمیونسٹ لٹریچر بہت پڑھا تھا۔‘‘حریت اخبار کی ملازمت کے دوران جب روزنامہ ’’مساوات‘‘ کا اجرا ہوا تو معروف صحافی ابراہیم جلیس کی ادارت میں خالد علیگ مساوات اخبار کے نیوز ایڈیٹر رہے اور ابراہیم جلیس کی ناگہانی موت کے بعد خالد علیگ روزنامہ مساوات کے اخبار کی بندش تک ایڈیٹر رہے،جنرل ضیا کے جمہوری دور پر شب خون مارنے اور ملک میں مارشل لا نافذ ہونے کے بعد خالد علیگ کی عمیق نگاہ نے بھانپ لیا تھا کہ جنرل ضیا کا جنرلی مارشل لا اس ملک سے صحافت کی آزادی کا قتل عام کرے گا اور تحریر و تقریر کی ہر آواز کو پابند کرے گا اور اسی عمیق نظر اور تجزیے کے بعد خالد علیگ عملی طور سے بلند آہنگ شاعر کے طور پر ادبی دنیا کا مضبوط حوالہ بنے،اس زمانے میں خالد علیگ نے اپنے اشعار سے ملک کی آمرانہ سوچ کو للکارتے ہوئے کہا کہ!
ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے
ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم تمام زبانوں کے ترقی پسند ادیب و شاعر دوستوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی کانفرنس کے اعلان نامے کی روشنی میں انجمن کا احیا کرنا چاہا تو اس میں سب سے بڑی رکاوٹ تین حضرات تھے جو گولڈن جوبلی اعلان نامے کے مطابق دی گئی ذمے داریاں نہ پوری کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی انجمن کو ملکی سطح پر متحرک کرنا چاہتے تھے،محض یہی وجہ تھی کہ 1986سے 1989 تک انجمن ملکی سطح پر فعال نہ ہوسکی۔ اس وقت کے ترقی پسند ادب کی توانا آواز خالد علیگ خم ٹھوک کر عملی طور سے ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اس طرح ہم نوجوان دوست خالد علیگ سمیت پورے ملک کے سینئر ترقی پسند ادبا کی مدد سے ان تین مذکورہ افراد کے عزائم کو خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ۔
خالد علیگ کی عوامی سوچ اور عوام کے ساتھ گھلنے ملنے کا انداز اور عام فرد سے گفتگو کا مشفقانہ لہجہ اس قدر دل کو موہ لیتا تھا کہ خالد علیگ سے ملنے والا شخص ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا،خالد علیگ کی شخصیت میں نہ تصنع نہ بناوٹ اور نہ ہی کسی قسم کا کروفر تھا،کسی بھی تقریب میں وقت پر پہنچنا اور کبھی بھی میزبان کے کسی بھی احسان کا نہ لینا انھوں نے اپنی زندگی کا شعار بنا لیا تھا،اگر کسی کو ملاقات کرنا ہو تو خالد علیگ لانڈھی کے چراغ ہوٹل میں وقت سے پہلے موجود،نہ فرش پر بیٹھنے میں کوئی عار اور نہ تھڑے پر بیٹھ کر عام انداز سے گفتگو کرنے میں کسی بھی قسم کی کوئی شرمندگی،خالد علیگ کی مجھ سے نظریاتی محبت کا یہ عالم تھا کہ ہر دوسرے ہفتے وہ میرے گلشن اقبال کے گھر پر ہوتے اور ہم سب دوست گھنٹوں چبوترے پر بیٹھ کر شعر و سخن اور عوام کے مسائل اور سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے،ایک روز رات کا پچھلا پہر تھا،خالد علیگ کو گھر جانا تھا،میں نے اپنی گاڑی نکالی اور خالد بھائی اور دیگر دوستوں کے ہمراہ ہم لانڈھی کے لیے روانہ ہوگئے،راستے میں خالد بھائی نے ملیر پر چائے پینے کی فرمائش کی،ان دنوں ایک جماعت کے دو دھڑے آپس میں دست و گریبان ہوا کرتے تھے،مگر ملیر کی ہوٹل کے باہر رات تین بجے بے خوف و خطر خالد بھائی چائے پیتے رہے ، مارشل لا اور سماجی نا انصافی کے خلاف لکھی گئی یہ غزل سناتے رہے کہ!
میں ڈرا نہیں، میں دبا نہیں،میں جھکا نہیں،میں بکا نہیں
مگر اہل بزم میں کوئی بھی تو ادا شناس وفا نہیں
میں صلیب وقت پہ کب سے ہوں مجھے اب تو اس سے اتار لو
کہ سزا بھی کاٹ چکا ہوں میں، مرا فیصلہ بھی ہوا نہیں
خالد علیگ کی سماج پرنظر اور عام فرد کو انصاف نہ ملنے کے ظالمانہ نظام پردانش کی سطح پر اس سے بہتر طمانچہ شاید آج نہ ہو،بس کہ اب کہاں ہیں ایسے اعلیٰ کردار اور عوام کے درد رکھنے والے شاعر و ادیب و اہل دانش۔