پاکستان کا ایک قدم مزید آگے بڑھا ہے۔ بھارت سے جنگ جیتنے کے بعد ہم نے عالمی معاملات کام یابی کیساتھ سلجھائے، اب ہماری توجہ داخلی استحکام کی جانب ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی 14اگست کی تقریر میں اس جانب ایک اشارہ موجود تھا۔
وزیر اعظم نے یوم آزادی اور یادگار فتح کے موقع پر قوم سے خطاب میں داخلی سیاسی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو کچھ کہا، اس کا مفہوم یہ تھا کہ مقبولیت ایک نعمت ہے۔ یہ نعمت ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے استعمال ہونی چاہیے نہ کہ کمزور کرنے کے لیے اور اگر کچھ اختلافات ہیں تو انھیں سلجھانے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا ہے۔ پھر اس معاملے میں پیش رفت ہوئی جس کے مظاہر گزشتہ دنوں عمران خان کے علاج کے تعلق سے دیکھنے کو ملے۔
اس قسم کے معاملات میں پیش رفت تیز رفتار نہیں ہوتی۔ فریقین آہستہ آہستہ سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر قدم اٹھاتے ہیں۔ کبھی کبھار جلد بازی بھی ہو جاتی ہے لیکن عام طور پر نہیں ہوتی، ان معاملات میں خاص طور پر نہیں ہوتی جن میں معاملہ کسی فریق کی ساکھ کا ہو جیسے پی ٹی آئی کے بانی کا مؤقف ہے کہ وہ کبھی سیاست دانوں سے بات نہیں کریں گے۔ ایسا مؤقف رکھنے والا فریق بات کرنے کو مجبور ہو جائے پھر معاملات میں پیش رفت بھی دکھائی دینے لگے تو فیس سیونگ کا سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔ عمران خان کے علاج وغیرہ کے ضمن یہی کچھ ہوا۔ پی ٹی آئی نے عدلیہ کو جو یقین دہانیاں کرائی تھیں، شفا انٹرنیشنل کے گرد و پیش میں اس کے برعکس ہوا۔ اس طرز عمل نے حکومت کو موقع فراہم کر دیا اور وہ انھیں پمز لے گئی۔
اس واقعے کے بعد کسی نکتہ اتفاق پر پہنچنے کی جو کوشش کی گئی تھی، کیا دم توڑ گئی ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ بس، اس میں ایک وقفہ آیا ہے۔ ایک مناسب وقفے کے بعد یہ معاملہ پھر آگے بڑھے گا اور اللہ نے چاہا تو نتیجہ خیز ہو گا۔
ایسی ہی ایک پیش رفت بلوچستان کے معاملے میں بھی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ جمعے کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بلوچستان کے بڑے طاقت ور وفود نے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان وفود میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم لوگ موجود تھے۔
اس نشست میں وزیر اعظم نے کھلے دل سے تسلیم کیا کہ بلوچستان کے مسائل ہیں۔ انھوں نے بہت سے مسائل کی نشان دہی بھی کی۔ بتایا کہ صوبے میں تعلیم اور روزگار کے مسائل ہیں۔ طویل فاصلے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اس کے علاوہ زیر زمین خزانوں اور صوبے کے موزوں جغرافیے کا اس خطے کی خوش حالی کے لیے استعمال کا مسئلہ ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی ہے جس میں دشمن ملوث ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ محب وطن اور دانش مند لوگ مسائل کے حل کے لیے بندوق نہیں اٹھا لیتے بلکہ گفتگو کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ پس منظر بیان کرنے کے بعد انھوں نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی پیش کش کی۔
وطن عزیز میں اختلافات کو سلجھانے کے لیے درست راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ طریقہ کار ریاست کے کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کے تمام ذمے دار اداروں نے نہایت سوچ سمجھ کر یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بلوچستان کے وفد کی ملاقات صرف وزیر اعظم پاکستان سے ہی نہیں ہوئی، یہ لوگ فیلڈ مارشل سے ملنے کے لیے بھی گئے۔
بلوچستان کے ضمن میں اسی قسم کی ایک پیش رفت اور بھی ہوئی ہے۔ بلوچستان ورکشاپ کے عنوان سے معاشرے کے مختلف طبقات خاص طور پر نوجوانوں کو مکالمے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک طویل عمل ہے جسے سنجیدگی کے ساتھ چلایا گیا تو اس کے ضرور اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
وزیر اعظم نے بلوچستان کے زعما کے ساتھ گفتگو میں ایک اور جانب بھی اشارہ کیا۔ انھوں نے سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کا ذکر بھی کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بھی بڑے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا اس ضمن میں بھی دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جائیں گے؟ میری رائے میں نہیں کیوں کہ دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہوں یا بھارت سے، اس معاملے میں حکومت کی پالیسی واضح ہے۔ پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی پاکستان کی سالمیت، اس کے آئین اور پرچم کا احترام کرتا ہے، اس سے بات چیت بھی ہو گی اور مسائل کے حل کے ضمن میں اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی، دوسری صورت میں اس سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔ بات چیت اور سخت انتظامی اقدامات، یہی چیز آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں۔ حکومت نے یہ راستہ اختیار کیا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی اور خیر مقدم ہونا چاہیے۔
پاکستان سال دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار بائیس تک مسائل کا شکار رہا۔ اس زمانے کی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گرد افغانستان سے پاکستان منتقل ہوئے اور انھوں نے یہاں بہت مضبوط ٹھکانے بنا لیے۔ اس سے پہلے سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں کام یاب ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ معیشت اور خارجہ تعلقات کے شعبوں میں بھی بڑی خرابی ہوئی۔ پاکستان عالمی برادری میں تنہا ہوا اور شدید معاشی دباؤ کا شکار بھی ہو گیا۔ موجودہ قیادت کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچا اور عالمی برادری میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں اللہ تعالی نے سرخ رو کیا۔
اس کے بعد پاکستان نے ایران امریکا جنگ میں جو مثبت کردار ادا کیا، اس نے ہمارے قد میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد تو صورت حال ہی بدل گئی ہے۔ وہ دنیا جو پہلے تین قطبی یعنی امریکا، چین اور روس میں تقسیم تھی، اب چوتھا عالمی مرکز بھی وجود میں آ چکا ہے۔ یہ مرکز ہے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ۔ اب یہ تین ممالک عالمی طاقت ہیں جنھوں نے مشرق وسطی میں امریکا کی جگہ لی ہے۔ کوئی عالمی طاقت اسی صورت میں زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے، اگر وہ داخلی طور پر بھی مستحکم ہو۔ بیرونی کامیابیوں کا اصل ثمر داخلی استحکام کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ پاکستان اب اسی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔