افغانستان فریڈم فرنٹ: طالبان کا تختہ اُلٹ دے گا؟

لیجئے ، قابض افغان طالبان رجیم نے سرکاری سطح پر بھی اعلان کرکے تسلیم کر لیا ہے کہ افغان طالبان اور بھارت کاڈی این اے ایک ہی ہے۔


[email protected]

لیجئے ، قابض افغان طالبان رجیم نے سرکاری سطح پر بھی اعلان کرکے تسلیم کر لیا ہے کہ افغان طالبان اور بھارت کاڈی این اے ایک ہی ہے۔15اگست 2026ء کو قابض افغان طالبان رجیم کے سینئر حکام نے کابل میں ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے کہا: ’’ آج سے ’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ ہر سال 15اگست کو یومِ فتح منایا کرے گا۔‘‘ معلوم نہیںکہ ’’ ہر سال‘‘ قابض طالبان کو پندرہ اگست منانا نصیب ہوگا یا نہیں، لیکن اِس اعلان میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔

بھارت بھی ہر سال15اگست ہی کو یومِ آزادی مناتاہے۔اب قابض طالبان حکمرانوں نے 15اگست کو ’’یومِ فتح‘‘ کا اعلان کرکے دراصل بھارت اور افغانستان میں ، ڈی این اے کے حوالے سے، ایک اور مشترکہ محبت و قربت کا نیا عنصر دریافت کیا ہے۔

پانچ سال قبل پندرہ اگست ہی کو جنگجو طالبان نے کابل و افغانستان کے دیگر شہروں پر(ناجائز اور اکثریتی افغان عوام کی خواہشات کے برخلاف) قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قابض طالبان کی یہ حکومت پاکستان کے مغربی ہمسائے میں کوڑھ ثابت ہو رہی ہے ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اِس پندرہ اگست کو قابض افغان طالبان رجیم نے اپنے اقتدار کا پنج سالہ جشن منایا ہے۔ دہلی میں موجود طالبان کے سفارتخانے میں منائے گئے جشن میں سینئر بھارتی حکام نے خصوصی شرکت کی ۔

چند ہفتے قبل، اِنہی صفحات پر، راقم کا ایک کالم بعنوان ’’متشدد طالبان حکومت میں دراڑیں اور بغاوتیں‘‘ شائع ہُوا ۔ یہ کالم قابض و متشدد افغان طالبان کے ایک نامور باغی جنگجو ( جمعہ خان فتح) بارے تھا ۔ یہ دراصل جمعہ خان فتح کی قابض افغان طالبان کے خلاف سخت مزاحمت اور کامیابیوں کی جزوی اور نامکمل داستان تھی۔جمعہ خان کی طالبان مخالف مسلح جدوجہد معروف افغان صوبے ’’بدخشاں‘‘ میں جاری ہے۔

بدخشاں کی سرحدیں (چترال) کی طرف سے پاکستان سے بھی متصل ہیں اور چین و تاجکستان سے بھی ۔ کالم شائع ہُوا تو مجھے متعدد ایسی ای میلز موصول ہُوئیں جن میں کہا گیا تھا : ’’ طالبان کا افغانستان پر قبضہ خاصا مستحکم ہو چکا ہے۔ مقتدر طالبان حکام سے اگرچہ اکثریتی افغان ناخوش ہیں اور افغانستان کے کئی ہمسایہ ممالک بھی لیکن جاری حالات میں قابض طالبان رجیم کی گرفت توڑنا اور ان کی رِٹ ختم کرنا سہل نہیں ہے ۔‘‘

یہ درست ہے کہ افغانستان پر تشدد پسند طالبان کی گرفت کڑی ہے اور وہ اپنے رجیم مخالفین کے لیے خاصے بے رحم ثابت ہو رہے ہیں ۔ وہ اپنے کئی مخالفین کو وحشت و بربریت سے کچل بھی چکے ہیں ، لیکن اِس سنگدلی کے باوجود افغانستان میں قابض طالبان کے خلاف مزاحمتیں روز افزوں ہیں ۔

اِس ضمن میں NRFکی مثال بھی ہمارے سامنے ہیں اور ’’ افغانستان فریڈم فرنٹ‘‘ (AFF) کی صورت میں بھی ۔ شمالی افغانستان میں، افغان طالبان کے خلاف بغاوت و مزاحمت کے پرچم لہرانا شروع ہو چکے ہیں ۔ اے ایف ایف کی طالبان مخالف سرگرمیوں کا مرکز ’’ یفتالی‘‘ میں ہے۔ اور مزاحمت کے یہ دائرے وسعت پذیر ہیں۔ اِسی سے یہ توقعات مستحکم کی جارہی ہیں کہ اے ایف ایف کا پرچم سرنگوں نہ ہُوا تو یہ طالبان قبضہ ختم بھی کر سکے گی۔

اے ایف ایف کے طالبان مخالف جنگجوؤں کے ہاتھوں کئی اہم سرکاری عہدیدار قتل بھی کر دیئے گئے ہیں ۔ مثال کے طور پر 28جولائی2026ء کو بدخشاں میں وزارتِ اطلاعات کا سینئر ڈائریکٹر ، ذبیح اللہ امیری، قتل کر دیا گیا ۔ امیری کو اُس وقت قتل کیا گیا  جب وہ صوبائی دارالحکومت( فیض آباد) میں صبح سویرے اپنے دفتر آ رہا تھا ۔ دو موٹر سائیکل سواروں نے اُس پر حملہ کیا ۔ اِن میں سے ایک جوابی فائرنگ میں مارا گیا ۔ طالبان کی وزارتِ داخلہ نے بھی ذبیح اللہ امیری کے قتل کی تصدیق کی ہے ۔

14اگست2026ء کو اِسی ضمن میں ایک اور خبر یوں آئی کہ بدخشاں کے صوبائی دارالحکومت کا میئر ( حبیب الرحمن منصور) بھی طالبان مخالف گروہوں نے قتل کر دیا ہے ۔ اُس کے قتل کی ذمے داری طالبان کے ایک اور مخالف گروہ’’نیشنل ریزسٹنس فرنٹ‘‘(NRF) نے لی۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ 15اگست2026ء کو اِنہی طالبان مخالفین نے کابل کا وہ سرکاری فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جو بدخشاں کے ’’باغیوں‘‘ پر حملہ کرنے آیا تھا۔

طالبان کی کابلی و قندھاری شدت پسند قیادت مخالفین کے اِن پے در پے حملوں سے سخت پریشان ہے۔ امیری کے قتل سے قبل بدخشاں ہی کے ایک علاقے ( زیبک) پر جولائی2026ء کے وسط میںاے ایف ایف کے مسلح جتھوں نے حملے کر کے کئی طالبان فوجیوں کو مار ڈالا تھا ۔ یہ جنگ کئی دنوں تک جاری رہی تھی اور اِس میں طالبان فوجیوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔

حالات کی نزاکت سمجھتے ہُوئے تشدد پسند طالبان کے فوجی سربراہ، فصیح الدین فطرت، نے خفیہ طور پر بدخشاں میں اے ایف ایف کے کئی جنگجوؤں سے میل ملاقات کرکے اُنہیں ’’راہِ راست‘‘ پر لانے کی سعی بھی کی ، لیکن اے ایف ایف میں سے کسی ایک فرد نے بھی فصیح الدین فطرت سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مایوسی کے اِس عالم میں بدخشاں کے گورنر ، محمد اسماعیل غزنوی، نے بدخشانی صوبائی دارالحکومت میں( طالبانی مسلح جتھوں کے حصار میں) ایک جلسہ کیا اور لوگوں سے خطاب کرتے ہُوئے کہا: ’’ (اے ایف ایف) کے جن جنگجوؤں نے افغان طالبان حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھا رکھے ہیں، ہم اُنہیں اور ان کے سرپرستوں کو زمین میں دفن کر دیں گے۔ ہمارے خلاف ہتھیار اُٹھانے اور طالبان حکومت کا تختہ اُلٹنے کا خواب دیکھنے والے یاد رکھیں کہ ہم نے ناٹو اور امریکی فوجوں کا کیا حشر کیا تھا۔ بات چیت کے لیے ، مخالفین پر،ہمارے دروازے اب بھی کھلے ہیں ۔‘‘

مگر اے ایف ایف کے طالبان مخالف جنگجو گورنر محمد اسماعیل غزنوی کی باتوں کے غچے میں آ رہے ہیں نہ ہتھیار ہی ڈالنے پر تیار ہیں ۔ بلکہ ان کی مزاحمت میں روز بروز شدت آ رہی ہے۔ فریقین کی خونریزی بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر 2اگست2026ء کو بدخشاں کے علاقے ، زیبک، ہی میں طالبان اور اے ایف ایف کے مسلح گروہوں میں جو گھمسان کا رَن پڑا ہے۔

 اِس میں اگرچہ اے ایف ایف کے ایک کمانڈر (معروف شاہ) ہلاک کر دیئے گئے ، مگر اے ایف ایف نے بھی ، جواباً، طالبان کے 9فوجی قتل کر دیئے اور اُن کی لاشیں بھی طالبان کو اُٹھانے نہیں دیں۔اِس خونریز جھڑپ نے کابل و قندھار میں پریشانی اور تشویشات کی نئی لہریں دوڑا دی ہیں ۔ طالبان حکومت بھی آن دی ریکارڈ تسلیم کررہی ہے کہ’’زیبک‘‘ میں اے ایف ایف کے جنگجوؤں کے خلاف طالبان افواج کا تصادم بروئے کار ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ 2اگست کو اے ایف ایف کے ان ہلاکت خیز حملوں میں طالبان کے15ویں بارڈر بریگیڈ کے کمانڈر، مُلا عبدالجمیل رحمانی، کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے ۔

افغان میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں بھی اے ایف ایف کی پیش قدمیوں کی خبریں نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اے ایف ایف کا میڈیا غیر ملکی میڈیا تک اپنی آواز اور موقف پہنچانے میں بھی کامیاب ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر12اگست 2026ء کو اے ایف ایف کے سیاسی امور کے چیف ترجمان ، داؤد ناجی ، نے کسی نا معلوم مقام سے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا:’’زیبک میں ہمیں متشدد قابض طالبان کے خلاف جو مسلسل عسکری کامیابیاں مل رہی ہیں، یہ اِس امر کا سندیسہ ہیں کہ عنقریب افغان عوام کو آزادی کی فضاؤں میں سانس لینے کے مواقع ملنے والے ہیں۔

طالبان کے خلاف اے ایف ایف کی جنگ ایک بالکل نئے فیز میں داخل ہو چکی ہے۔‘‘ افغان میڈیا کے ایک معروف نام ’’افغانستان انٹرنیشنل‘‘ نے بھی اِس امر کی تصدیق کی ہے کہ ’’زیبک‘‘ میں اے ایف ایف کے حملے بڑھے بھی ہیں اور یہ حملے طالبان کو بڑا جانی ، عسکری اور مالی نقصان بھی پہنچا چکے ہیں ۔

افغانستان کے دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس بھی، بین السطور، اے ایف ایف کی عسکری کارروائیوں کی رپورٹنگ کررہے ہیں ، مگر ڈرتے ڈرتے کہ متشدد قابض افغان طالبان حکام (جو خود کو امارتِ اسلامیہ افغانستان کے خادم کہلواتے ہیں)نے افغان میڈیا کا گلہ گھونٹ رکھا ہے ۔ آج طالبان کے افغانستان میں نہ میڈیا کو آزادی سے بروئے کار آنے کی اجازت ہے اور نہ ہی افغان خواتین کو آزادانہ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے ۔