جب جب ہم اہرام مصر کو دیکھتے ہیں یا چین کی عظیم دیوار یا ان جیسی تاریخی عمارتوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں اصل میں کیا نظر آتا ہے۔ لوگ اکثر بس ان کی خوبصورتی ہی دیکھتے ہیں۔ کیا یہ صرف انسانی عظمت، فنکارانہ کمال اور ہماری روشن تہذیب کا ثبوت ہے۔ یا پھر ان چمکتی ہوئی تاریخی عمارتوں کے پیچھے ان بڑے بڑے پتھروں کے درمیان ان گمنام غلاموں کا خون اور پسینہ چھپا ہے جنہوں نے اپنی جوانیاں اور اپنی ہڈیاں انھی دیواروں میں دفن کر دیں۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جو سیدھا روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ سوال اٹھانا اس لیے بھی بہت ضروری ہے کہ صدیوں سے تاریخ کی کتابوں میں اس کڑوی حقیقت کو بہت خوبصورتی سے چھپا دیا گیا ہے۔ ہم جب بھی تاریخ پڑھتے ہیں ہمیں صرف فاتحین اور بادشاہوں کی کہانیاں ہی پڑھائی جاتی ہیں۔ فرعون کا نام تو سب کو یاد ہے نا۔ لیکن ان لاکھوں لوگوں کا کیا؟ جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے ان تاریخی عجائبات کو تراشا۔ ان کی آواز آخر کہاں گم ہوگئی…؟
اس گفتگو میں ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹنے جا رہے ہیں جن پر صدیوں کی دھول اور جھوٹ کی تہیں جمی ہیں۔ یہ گفتگو ڈاکٹر علی شریعتی کی نہایت عظیم اور دماغ گھما دینے والی تحریر "ہاں دوست ایسا ہی تھا"۔ پر بنی ہے۔ یہ انسانیت مذہب ، ظلم اور آزادی کی اس کشمکش کی ایسی کہانی ہے جو کل بھی ویسے ہی تھی اور آج بھی شاید ویسے ہی ہے۔ اس کہانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جب شریعتی مصر کی سیاحت کے لیے گئے۔ ان کے گائیڈ نے بہت فخر سے وہاں کے حقائق بتانے شروع کر دیئے۔ اس نے بتایا کہ ان احرام میں آٹھ لاکھ پتھر کی بڑی بڑی سلیں لگی ہوئی ہیں اور ہر ایک کا وزن ڈھائی ٹن ہے۔
ذرا غور فرمائیں ہر ایک سل کا وزن ڈھائی ٹن ہے اور یہ ہزاروں سال پہلے کی بات ہو رہی ہے۔ جب وہاں کوئی کرین یا آج کی جیسی ماڈرن مشینری بالکل موجود نہیں تھی اور اس بات سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ پتھر کسی آس پاس کے پہاڑ سے نہیں لائے گئے تھے۔ گائیڈ نے بڑے فخر سے بتایا کہ ان بھاری سلوں کو آسمان کے مقام سے لایا گیا تھا۔ آسمان نامی مقام وہاں سے 980 کلو میٹر دور تھا۔ سوچیں ذرا 980 کلو میٹر دور سے ڈھائی ٹن کے آٹھ لاکھ پتھر لانا یہ کیسے ممکن ہوا۔ یہاں پر یہ دلچسپ اور گہرا سوال ہے کہ احرام کی عظمت کے پیچھے وہ ایسی کونسی طاقت تھی جو ان پتھروں کو کھینچ رہی تھی۔ کیونکہ تاریخ تو صرف فرعون کو یاد رکھتی ہے لیکن فرعون نے خود تو ایک بھی پتھر نہیں اٹھایا۔ یہاں پر گائیڈ نے ایک ایسی بات کی جو شاید اس کے لیے روزانہ نہ بھولنے والی رٹی رٹائی لائن تھی لیکن اس نے ڈاکٹر شریعتی کی روح کو چیر کر رکھ دیا۔
گائیڈ نے بتایا کہ اس عظیم احرام کی تعمیر میں 30 ہزار غلام استعمال ہوئے ۔وہ بھی مسلسل اور تیس سال تک یہ کام چلتا رہا۔ لیکن سب سے خوفناک اور دل ہلا دینے والی بات یہ تھی کہ 'روزانہ ' سیکڑوں غلام بوجھ اٹھاتے اور کوڑوں کی مار سے مر جاتے تھے۔ جب وہ مر جاتے تو ان کی لاشوں کو عزت کے ساتھ کسی قبرستان نہیں لیجایا جاتا تھا بلکہ انھی احرام کا حصہ بنا دیا جاتا تھا اور انھی احرام کی دیواروں میں انھیں چنوا دیا جاتا تھا۔ یاوہیں برابر میں گڑھوں میں پھینک دیا جاتا تھا۔ 30ہزار لوگ 30سال تک چپ چاپ روزانہ مرتے رہے اور انھیں دیواروں میں چنوا دیا گیا۔ کیا کسی نے بغاوت نہیں کی۔
کیا ان غلاموں نے مل کر فرعون کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ یہ بات عجیب لگتی ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگ بس خاموشی سے ظلم سہتے رہے۔ یہ واقعی بہت ہی اہم سوال ہے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ بغاوت کرنا آسان ہوتا ہے؟ لیکن یہاں ہمیں ظلم کے اس میکنزم کو سمجھنا ہو گا۔ انسانی فطرت کو سمجھنا ہو گا۔ کوئی بھی فرعونی نظام صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر انسان کو توڑ دیتا ہے۔ جب آپ کسی انسان سے اس کی شناخت چھین لیں۔
اسے صبح سے شام تک صرف زندہ رہنے کی فکر میں لگا دیں اور اس کے دماغ میں یہ ڈال دیں کہ وہ پیدا ہی پتھر توڑنے کے لیے ہوا ہے۔ تو اس کے اندر سے بغاوت کی چنگاری ہی مر جاتی ہے۔ یعنی ان کا دماغ ہی غلام بنا دیا گیا تھا۔ یہ منظر کشی انسانی فطرت اور طبقاتی تقسیم کی سب سے کڑی حقیقت کو سامنے لاتی ہے۔ ڈاکٹر شریعتی کو وہاں فنکارانہ حسن نظر آنا بند ہو گیا۔ انھیں دیواروں سے ظلم اور خون کی بدبو آنا شروع ہو گئی۔ واقعی یہ مفکر کی ہی نظر ہو سکتی ہے۔
اس چیز کو اگر ہم آج کے دور میں رکھ کر سوچیں تو کیا آج کے دور کی بڑی کارپوریٹ ایمپائرز اور ان میگا سٹیز کا سٹرکچر یہ بالکل ویسا ہی نہیں ہے۔ بہت حد تک ویسا ہی ہے۔ دیکھنے میں ایک شاندار اور چمکتی ہوئی دنیا لیکن اس سپلائی چین کے بالکل آخری حصے میں اُن اَن دیکھے گمنام لوگوں کی سستی محنت۔ ان کا پسینہ اور ان کی زندگیاں شامل ہیں۔ یہ مثال بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے پیچھے کے میکنزم کو گہرائی میں دیکھتے ہیں۔ اسے ہم خود سے بیگانگی کہہ سکتے ہیں۔ پرانے دور کا غلام ایک ایسی قبر بنا رہا تھا جس میں وہ خود کبھی دفن نہیں ہو سکتا تھا۔ آج کا ماڈرن ورکر بھی ایسے ٹیک پلیٹ فارم ایسی ایپس اور ایسی دولت پیدا کر رہا جس کا اصل مالک وہ کبھی نہیں بن سکتا۔ واقعی یہ تو بہت گہری بات ہے۔
وہ CEO کو ارب پتی بناتا ہے اور خود اپنے رینٹ کے لیے پریشان رہتا ہے۔ فرعون بدل گئے ہیں احرام کی شکل بدل گئی ہے لیکن وہ 30 ہزار گمنام غلام آج بھی ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ انسانیت کی تاریخ دیکھیں تو دو الگ الگ صفوں پر لکھی گئی ہے۔ ایک محلوں اور فاتحین کی تاریخ دوسری گمنام غلاموں کی خاموشی کی تاریخ۔ ڈاکٹر شریعتی کا کمال یہ تھا کہ انھوں نے پہلے صفحے کو پھاڑ کر دوسرے صفحے کو پڑھنا اور سمجھانا شروع کیا اور سورس مٹیریل کے مطابق یہاں سفر ایک نیا بہت ہی جذباتی رخ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سین بہت جذباتی ہے۔
جب گائیڈ اپنی فخر بھری کہانیاں سنا رہا تھا تو ڈاکٹر شریعتی اس گائیڈ کو اور اس چمکتے ہوئے احرام کو وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ آگے بڑھتے ہیں اور وہ مٹی کے گھڑھوں اور قبروں کے پاس جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جہاں ان غلاموں کی باقیات اور ان کی ہڈیاں دفن تھیں۔ وہاں بیٹھ کر وہ ایک عجیب اور گہرا بیان دیتے ہیں۔ کہتے ہیں ان فرعونوں سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔ میرا رشتہ ان مٹی میں دبے ہوئے غلاموں سے ہے۔ یہ غلام ہی میرے سلسلہ نسب ، آباؤ اجداد ہیں۔ ہمیں تو بچپن سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ ہم کامیاب اور طاقتور لوگوں سے رشتہ جوڑیں۔ کوئی اپنی شناخت مٹی میں دبے ہوئے غلاموں سے کیوں جوڑنا چاہے گا۔
کیا یہ خود کو نیچا دکھانے والی بات نہیں ہے؟ یہی تو ایک عظیم مفکر اور عام انسان کی سوچ کا فرق ہے۔ جو لوگ کن فور ازم کا شکار ہوتے ہیں۔ یعنی جو بس بھیڑ کے پیچھے چلتے ہیں وہ طاقت کو ہی حق سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن جب ایک مفکر کے اندر روحانی بیداری آتی ہے۔ جب وہ سکھائے گئے سبق سے بغاوت کرتا ہے تو اسے اچانک یہ نظر آتا ہے کہ جن عظیم لوگوں کے وہ گیت گاتا تھا۔ وہ دراصل قاتل تھے۔
شریعتی کا یہ کہنا ہے کہ فرعونوں سے میرا کوئی رشتہ نہیں۔ یہ کوئی احساس کمتری نہیں تھا۔ یہ خود کو دریافت کرنے کا بہت بڑا مقام ہے۔ یہ دراصل شناختی بحران سے نکلنے کا اور سچائی کو قبول کرنے کا بہت بڑا اقدام تھا۔ انھوں نے طاقت کی بجائے مظلومیت اور حق سے اپنا ناطہ جوڑ لیا۔ کیونکہ انھیں سمجھ آ گئی تھی کہ اصل طاقت انسانیت اور اس پسینے میں ہے ۔ اس فرعونی تاج میں نہیں۔