افغانستان کے ایک فوجی اڈے پر 11 طالبان اہلکار کی زہر خورانی کے بعد حالت تشویشناک ہوگئی اور انھیں طبی امداد کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بڑے اسپتال منتقل کیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ بادغیس میں طالبان کی تھرڈ انفنٹری بریگیڈ کے فوجی اڈے پر پیش آیا جہاں اہلکاروں کے کھانے میں مبینہ طور پر زہریلی چیز ملائی گئی تھی۔
طالبان فوجی اہلکاروں کی حالت بگڑنے پر انھیں صوبے بادغیس کے فوجی اڈّے سے دوسرے صوبے ہرات کے ایک جدید اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
زہر خوانی کے اس واقعے کے بعد طالبان حکام نے فوجی اڈّے کے باورچی کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مبینہ زہر خورانی کس وجہ سے ہوئی اور آیا باورچی پر اس حوالے سے کوئی الزام ثابت بھی ہوا ہے یا نہیں۔
طالبان حکومت نے تاحال واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی متاثرہ اہلکاروں کی موجودہ طبی حالت یا واقعے کے محرکات سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں۔
مقامی میڈیا نے طالبان اہلکاروں کی ہرات منتقلی اور اسپتال میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔