بنگلا دیشی وزیراعظم کے دورہ بھارت کے التوا سے مودی سرکار کی  سفارتی ناکامی نمایاں

بھارت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بنگلا دیش کی موجودہ حکومت اس کے لیے حسینہ واجد دور جیسی گرمجوشی نہیں رکھتی، ماہرین


ویب ڈیسک August 26, 2026

بنگلہ دیشی وزیراعظم کے دورہ بھارت کے التوا سے مودی حکومت کی  خطے میں سفارتی ناکامی نمایاں ہو رہی ہیں۔

ہندو انتہا پسندمودی سرکارکو ناقص پالیسیوں کے باعث عالمی سطح کے ساتھ ساتھ خطے میں بھی سفارتی پسائی کا سامنا ہے۔ بھارتی پراکسی مفرور حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور بھارت میں پناہ لینے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

معروف عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق حسینہ واجد حکومت کےخاتمے کے بعد بنگلا دیشی وزیراعظم  کے پہلے دورہ بھارت کے التوا  نے باہمی تعلقات میں تناو واضح کردیا ہے۔ مفرور وسزایافتہ  حسینہ واجد کی بھارت میں  پریس کانفرنس نے بنگلا دیش میں شدید غم وغصے کی لہرکو جنم دیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ڈھاکا کا کہنا ہے کہ  پریس کانفرنس نے ماحول  خراب کیا، بنگلا دیشی وزیراعظم کے دورے کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔ بنگلا دیش کی نئی حکومت  بھارت سے  سزایافتہ  حسینہ واجد کی حوالگی کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہے۔ بی جے پی سرکارکی بنگلا دیش سرحد پر باڑ لگانے کی کوشش اور اشتعال انگیز بیانات سے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے  ہیں۔

تجزیہ نگارسری رادھا دتہ کے مطابق بھارت کو نئی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بنگلا دیش کی موجودہ حکومت اس کے لیے حسینہ واجد دور جیسی گرمجوشی نہیں رکھتی۔ بھارت کے ساتھ خطے کے ممالک کے بگڑتے تعلقات نے واضح کردیا کہ پڑوسی ممالک  اس کی بالادستی قبول کرنے کو تیار نہیں۔