پمز کے ایم سی ایچ نرسری آتشزدگی سانحے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیوٹی روسٹر اور متعلقہ عملے کے بیانات کی مدد سے آگ لگنے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ پمز انتظامیہ کی الگ تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چلڈرن اسپتال کے جوائنٹ ڈائریکٹر، نان میڈیکل کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کمیٹی کو تحریری بیانات جمع کروا دیے ہیں، پمز ہیلتھ مینجمنٹ اور نرسری کے عملے سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ نرسری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اپنی تحویل میں لے لی ہے، کمیٹی فوٹیج کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے مؤقف اور سی سی ٹی وی ریکارڈ کا موازنہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیٹی کو 26 اگست کا ڈیوٹی روسٹر بھی جمع کروا دیا گیا ہے جبکہ کمیٹی کے نمائندوں نے نرسری کے عملے سے سوالات بھی کیے ہیں، فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کی رپورٹس بھی تحقیقاتی کمیٹی کو پیش کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب پمز انتظامیہ نے بھی واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی دوبارہ تشکیل دے دی ہے، پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام شامی کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر انیزہ جلیل کمیٹی کی سیکریٹری ہوں گی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ انکوائری میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آتشزدگی کے وقت فائر سیفٹی کے انتظامات مناسب اور فعال تھے یا نہیں، ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کے ردعمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، کمیٹی کو ذمہ داروں کے تعین اور واضح سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم تحقیقاتی کمیٹی 48 گھنٹوں میں اپنی عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی اور پمز انتظامیہ کی نئی انکوائری کمیٹی بھی تفصیلی رپورٹ 48 گھنٹوں میں جمع کرانے کی پابند ہوگی۔
خیال رہے کہ پمز نرسری آتشزدگی سانحے کی تحقیقات اب اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج، عملے کے بیانات، ڈیوٹی روسٹر اور فائر بریگیڈ کی رپورٹ کی روشنی میں واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
سیکرٹری وزارت صحت کیپٹن (ر) محمد محمود نے کہا کہ پمز کے انتظامی مسائل کا حل میری پہلی ترجیح ہے، پمز میں بیٹھ کر مریضوں اور شہریوں کی شکایت سنوں گا۔
مزید بتایا گیا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ 48 گھنٹوں میں وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پمز انتظامیہ نے سی ڈی اے کی جانب سے دسمبر میں جاری رپورٹ ردی کی ٹوکری میں ڈال دی ہے، جس میں سی ڈی اے نے پمز میں سیفٹی آلات پر سنگین سوالات اٹھائے تھے اور آلات کو عصر حاضر کے مطابق بنانے کی ہدایت کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسپتال میں فائر فائٹر آلات پرانے، ناقص الارم سسٹم اور کوئی بھی حفاظتی اقدام نہیں تھا، سی ڈی اے نے پمز انتظامیہ کو کسی بڑے سانحہ کے رونما ہونے کا الرٹ بھی جاری کیا تھا۔