کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے اہل خانہ نے متوفی کے نکاح کے روز احتجاجی مقام پر تعزیتی و دعائیہ اجتماع کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کو موصول میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے جاری دعوت نامے کے مطابق 29 اگست کو میر رضا کے نکاح کے روز شارع فیصل پر قائم نرسری بس اسٹاب (احتجاج) کے مقام پر شب رضا کے نام سے دعائیہ اجتماع منعقد کیا جائے گی۔
اہل خانہ کی جانب سے شادی کے دعوت نامے کی جگہ تعزیتی و دعائیہ تقریب کا کارڈ جاری کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق میر رضا علی خان کی یاد میں 29 اگست کو شارع فیصل، نرسری بس اسٹاپ پر تعزیتی و دعائیہ اجتماع شبِ رضا کا انعقاد ہوگا۔
مقتول کے نکاح کی تقریب 29 اگست 2026 کو طے تھی تاہم ناگہانی و اندوہناک واقعے کے بعد اب اسی تاریخ پر غمزدہ اور انصاف کے متلاشی اہل خانہ متوفیہ کیلیے دعائے مغفرت، انصاف کا اہتمام کررہے ہیں۔
دعوت نامے کے مطابق شب رضا کا آغاز رات 8 بج کر 30 منٹ سے ہوگا جبکہ 9 بج کر 30 منٹ پر تلاوتِ قرآن پاک، پھر نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی جائے گی پھر 9 بجکر 35 پر دعائے مغفرت کی جائے گی۔
اس کے بعد رات 10 بجے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے خیالات کا اظہار کیا جائے گا جبکہ 10 بج کر 30 منٹ پر متوفی تاجر کو خراج تحسین اور اُن سے جڑی یادوں کو بیان کیا جائے گا۔
پھر تاثرات اور خیالات کے اظہار کے لیے رات 11 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے جبکہ اجتماع میں رات 12 بج کر 30 منٹ پر دعائے الوداع کی جائے گی۔
دوسری جانب احتجاج کا انعقاد کرنے والے ایک منتظم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر نرسری بس اسٹاپ پر ہمیں اجازت نہیں ملتی تو احتجاج اور اجتماع کیلیے کسی نئے مقام کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج نرسری کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا جس کے بعد اہل خانہ نے بھی مظاہرین کو آنے سے روک دیا ہے تاہم جلد ہی اگلے لائحہ عمل اور مقام کا اعلان کیا جائے گا۔
اُدھر پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی پریشانی اور شارع فیصل کو بلاک کرنے کی شکایات آنے کے بعد متعدد بار مظاہرین سے رابطہ کر کے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ مگر وہ نہ مانے جس پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم جب اُن سے یہ سوال کیا گیا کہ احتجاج کی اجازت صرف آج نہیں یا پھر آگے بھی نہیں ہوگی تو انہوں نے کسی بھی قسم کا جواب دینے سے گریز کیا۔ اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ میر رضا واقعے کے بعد جس مقام سے احتجاج شروع کیا گیا تھا مظاہرین وہاں بیٹھیں گے تاہم حتمی فیصلہ فیملی کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔