تاریخ کا رخ اور بدلتا ہوا عالمی شعور

مسلمانوں کے خلاف نفرت کسی کا فطری تہذیبہ تصادم نہیں بلکہ طاقت کے بھوکے حکمرانوں کا سیاسی ہتھیار تھا


اکرم ثاقب August 28, 2026

نئی صدی کے شروع ہوتے ہی انسانی تاریخ کا دھارا ایک ایسے موڑ پر آ لگا جہاں دنیا کی سیاست، باہمی تعلقات اور سوچ کے انداز یکسر بدل گئے ہیں۔

11 ستمبر 2001ء کا دن وہ ہولناک لمحہ تھا، جب دنیا کی بڑی معاشی اور عسکری طاقت کے قلب پر حملہ ہوا، جس نے ایک ہی پل میں پوری دنیا کو دنگ کر کے رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کے ذہنوں میں جو سوالات اٹھے، وہ حکومتی ایوانوں کی طرف سے ملنے والے روایتی اور گھسے پٹے جوابات سے ہرگز حل نہ ہو سکے۔

اسی خلاء نے اس گہری سوچ کو جنم دیا کہ یہ سانحہ محض کسی خفیہ ایجنسی کی ناکامی نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی چال تھی جسے کسی بڑے مقصد کے تحت خود ترتیب دیا گیا تھا۔

اس تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ حادثہ وہ طے شدہ بہانہ تھا جس کی آڑ میں عالمی نقشے کو بدلنا، دنیا کے بچے کچھے وسائل پر قبضہ جمانا اور مغربی دنیا کی اجارہ داری کو ایک نئے دشمن کی طرف موڑنا مقصود تھا۔

جب معاشرے کو ایک بہت بڑے خطرے سے ڈرا دیا جائے، تو حکمرانوں کے لیے یہ آسان ہو جاتا ہے کہ وہ شہریوں کی نجی زندگیوں میں دخل اندازی کریں، ان کی آزادیوں پر قدغنیں لگائیں اور دنیا بھر میں ایسی جارحانہ پالیسیاں نافذ کریں جو ایک نئے عالمی نظام کے خواب کو پورا کرتی ہوں۔

اس پورے کھیل کا سب سے بڑا اور ہدف بنایا جانے والا نشان اسلام اور دنیا بھر کے مسلمان بنے، جن کی پوری تہذیب کو دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کے ساتھ اس طرح پیش کیا گیا گویا وہ جدید ترقی، روشن خیالی اور جمہوریت کے دشمن ہوں۔

میڈیا، سیاسی تقاریر اور سرکاری پالیسیوں کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میں ایک ایسا منفی اور یک طرفہ تاثر عام کیا گیا جس نے ان کی صدیوں پرانی تاریخ، تہذیب اور معاشی حقیقتوں کو پسماندگی اور دہشت گردی کے خانے میں قید کر دیا۔

اس زہریلے پروپیگنڈے کی بنیاد پر دنیا بھر میں جنگوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ایشیا کے کئی خودمختار ملکوں کو خاکستر کر دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مبہم اور لچکدار نعرے تلے افغانستان، عراق، لیبیا، شام، سوڈان اور صومالیہ جیسے ممالک کو یا تو براہ راست فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا یا پھر وہاں اندرونی خانہ جنگی اور معاشی ناکہ بندیوں کے ذریعے تباہی پھیلائی گئی۔

صدیوں پرانی تہذیبوں اور شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا، کروڑوں انسانوں کو دربدر کر دیا گیا اور یہ سب کچھ مغرب کے عام عوام کو خوفزدہ کر کے اور ان کے اندر حب الوطنی کا جذبہ ابھار کر کیا گیا، تاکہ کوئی سوال نہ اٹھا سکے۔

ان تمام اقدامات کا سب سے خطرناک اور دور رس نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر میں اسلام دشمنی یعنی اسلامو فوبیا کو باقاعدہ ایک پالیسی کے طور پر اپنا لیا گیا اور اسے معاشرے کا معمول بنا دیا گیا۔

سرکاری بیانیے اتنے گہرے سرایت کر گئے کہ فلموں، خبروں، قوانین اور روزمرہ کے میل جول میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ چاہے وہ مغرب میں رہنے والی اقلیتیں ہوں یا اپنے ہی دیس میں بسنے والی اکثریت، ہر مسلمان کو اجتماعی گناہ کا مجرم ٹھہرایا جانے لگا۔

مساجد، تعلیمی اداروں اور عام انسانوں پر کڑی نظر رکھی جانے لگی، جبکہ باہر کے ملکوں میں جو کچھ ہو رہا تھا اس پر پردہ ڈال دیا گیا۔ یہ نفرت اور شک کا ماحول اس یک قطبی دنیا کو چلانے کے لیے ناگزیر بن چکا تھا، جہاں اتنے بڑے دفاعی بجٹ اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے ایک مستقل دشمن کی ضرورت تھی۔ کئی سالوں تک کسی میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اس سرکاری کہانی پر انگلی اٹھائے یا ان جنگوں پر سوال کرے، اور جو بھی ایسا کرتا اسے معاشرے سے کاٹ دیا جاتا اور غدار قرار دے دیا جاتا۔

تاہم، تاریخ کبھی بھی صرف طاقتوروں کے لکھے ہوئے فسانوں پر نہیں رکتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جھوٹی عمارت میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ سالہا سال کی لامتناہی جنگوں، معاشی بدحالی اور ان تباہ کن مداخلتوں کے جو بھیانک نتائج سامنے آئے، انہوں نے عام لوگوں کی آنکھیں کھول دیں۔

اب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مغربی معاشروں کے اندر رہنے والے عام غیر مسلم شہری بھی اس سچائی کو سمجھنے لگے ہیں۔ محققین، ایماندار صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور عام لوگ اس گہرے تعلق کو صاف دیکھنے لگے ہیں جو حکومتوں کی پالیسیوں اور دنیا بھر میں پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کے بحرانوں کے درمیان موجود ہے۔

اس بیداری نے اس جھوٹ کے پرخچے اڑا دیے ہیں جن پر 9/11 کے بعد کی سیکیورٹی ریاستیں کھڑی کی گئی تھیں۔ آج مغرب کے اندر بھی ایسے باشعور لوگوں کی آواز بلند ہو رہی ہے جو اس تعصب کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں اور وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت کوئی فطری تہذیبی تصادم نہیں تھا، بلکہ طاقت کے بھوکے حکمرانوں کا ایک ایسا سیاسی ہتھیار تھا جسے انہوں نے دنیا کو جھکانے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

تحریر کردہ
اکرم ثاقب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔