لارڈز اور امریکی پاکستانی شائقین

پاکستان کرکٹ کے انداز ہی نرالے ہیں یہاں کچھ بھی ممکن ہے


سلیم خالق August 28, 2026

لندن:

ورک، ویمن اور ویدر، کہتے ہیں برطانیہ میں ان تینوں کا کوئی بھروسہ نہیں، ابتدائی دو کا تو پتا نہیں البتہ موسم کی حد تک یہ بات بالکل درست لگتی ہے۔

 جب میں براستہ دبئی کراچی سے لندن پہنچا تو دھوپ نے استقبال کیا، اوبر ڈرائیور نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے سخت ترین گرمی پڑ رہی ہے، اس دوران نہ ہونے کے برابر بارش  ہوئی، مجھے اس کا تھوڑا بہت اندازہ بھی تھا، البتہ  ٹیسٹ میچ  والے دن بارش  کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا، میں عام شرٹ پہن کر ہوٹل سے نکلا لیکن موسم دیکھ کر اپر ساتھ رکھ لیا۔

 لارڈز پہنچنے کے بعد میڈیا منیجر کو فون کیا تو وہ میرا ایکریڈیٹیشن کارڈ لے کر باہر آگئے، میرا ساڑھے چار سال بعد انگلینڈ آنا ہوا  ہے، حسب توقع میچ میں تاخیر ہوئی، لارڈز کے دلکش ڈیزائن کے حامل کیپسول نما میڈیا سینٹر میں ایک صحافی سے ملاقات ہوئی، جب ٹیم میں تبدیلیوں پر باتیں ہوئیں تو میں نے بتایا کہ اوپننگ پیئر تو برقرار رہے گا ہاں شاید سلمان علی آغا کو ڈراپ کر دیا جائے، اس پر وہ کہنے لگے کہ  گزشتہ میچ میں وہ کپتان تھا ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن بعد میں یہی ہوا۔

 پاکستان کرکٹ کے انداز ہی نرالے ہیں یہاں کچھ بھی ممکن ہے، البتہ سلمان کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ درست ہی لگتا ہے، جب میڈیا سینٹر کی لفٹ سے نیچے گیا تو وہاں ہر طرف شائقین کرکٹ ہی نظر آ رہے تھے، ہمارے ملک میں اتنے لوگ  ٹی ٹوئنٹی میچ دیکھنے نہیں آتے جتنے انگلینڈ میں ٹیسٹ میں آتے ہیں، یہاں کے لوگ کھیلوں سے بیحد محبت کرتے ہیں، انہیں اسٹیڈیمز میں سہولتیں بھی خوب ملتی ہیں، کرکٹ کے ساتھ تفریح کیلیے دیگر سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں، لارڈز میں ہر طرف کھانے پینے کی اشیا کے اسٹالز لگے ہوئے تھے۔

 یہاں کی روایتی شاپ  تو ہے ہی ساتھ مختلف عارضی شاپس بھی بنائی گئی ہیں جہاں شرٹس، کیپس و دیگر مرچنڈائس کی فروخت جاری تھی، سب پر بیحد رش بھی تھا، البتہ سستی ترین شرٹ بھی 40 پائونڈ (تقریبا 15 ہزار پاکستانی روپے) کی تھی، ظاہر ہے دیکھنے کے کوئی پیسے نہ تھے اسی لیے میں بھی دیکھ کر ہی باہر آ گیا، وہاں احمر نامی ایک پاکستانی کرکٹ شائق ملے جنہوں نے مجھے پہچان لیا اور بنانے لگے کہ وہ خاص طور پر کینیڈا سے لارڈز ٹیسٹ دیکھنے آئے ہیں، میں  ویڈیوز بنانے کےلیے باہر گیا تو وہاں بھی مختلف پاکستانی کرکٹ شائق ملے۔

 ایک لڑکا امریکا سے آیا تھا، اس نے بتایا کہ دیگر 2 دوستوں نے تو ہیڈنگلے میں شکست دیکھ کر ٹور سے انکار کر دیا لیکن اس نے پروگرام تبدیل نہ کیا، ایک اور باپ بیٹا بھی  ملے وہ بھی امریکا سے میچ دیکھنے آئے تھے، ان کو یقین تھا کہ بابر اعظم  کی واپسی سے ٹیم کی کارکردگی اچھی رہے گی، وہ کہنے لگے  کہ پاکستان سے تو کوئی میچ دیکھنے نہیں آیا ہوگا دیکھیں ہم امریکا سے آ گئے، میں نے جواب دیا کہ آپ کے پاس ریسورسز بھی تو ہیں، پاکستانی بیچارے عام زندگی کے مسائل سے باہر آئیں  تو میچ دیکھنے باہر جانے کا سوچیں، وہ کہنے  لگے دیکھیں جی ہم محنت بھی تو بہت کرتے ہیں، اس پر میرا کہنا تھا کہ پاکستانی بھی بہت محنت کرتے ہیں لیکن وہ صلہ نہیں ملتا۔

 واپس میڈیا سینٹر جاتے ہوئے میں نے شائقین کو دیکھا  جو گرائونڈ کی جانب جاتے ہوئے راستے کے دونوں جانب  ترتیب سے کھڑے تھے، انھیں انتظار تھا کہ کرکٹرز  وہاں سے گزریں تو ملاقات کریں، ان کے پاس اسٹارز کو قریب سے دیکھنے کا تو موقع تھا لیکن سیکیورٹی اہلکار  سیلفی کی اجازت نہیں دے رہے تھے، میں جب دوبارہ میڈیا سینٹر آیا تو ڈائنگ ایریا میں رمیز راجہ کو دیکھا جو فون پر کسی سے محو گفتگو تھے، ان کے ساتھ عروج ممتاز بھی کمنٹری کیلیے آئی ہوئی ہیں، وسیم اکرم اس بار نہیں آئے، چند روز قبل ان سے فون پر بات ہوئی تھی تب ہی انہوں نے یہ بتا دیا تھا، پاکستان سے بھی  بہت کم صحافی ہی آئے ہیں، مرزا اقبال بیگ، اعجاز باکھری اور عقیل احمد میڈیا سینٹر میں نظر آئے، لنچ کے وقت لندن میں مقیم پاکستانی میڈیا پرسنز سے بھی ملاقات ہوئی۔

اس وقت مجھے لارڈز کا وہ منظر یاد آ گیا جب اسی جگہ پر اس وقت کے چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، وسیم اکرم و دیگر کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، مرحوم صحافی قمر احمد کی بھی کمی  محسوس ہوئی، میڈیا باکس کا ان کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے، اس وقت ایک بکٹ میں انرجی ڈرنکس  بھرے ہوتے تھے، ایک پاکستانی صحافی روز عٹاغٹ  انھیں پیے جا رہا تھا، قمر صاحب نے اسے ٹوکا کہ یہ صحت کیلیے ٹھیک نہیں ہے، وہ نہ مانا، اگلے 2 دن بیچارہ اسٹیڈیم ہی نہ پہنچا، پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ  پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔

 کھانے میں گرل چکن و دیگر ایسی ڈشز تھیں جو میرے جیسے دیسی کو راس نہیں آتیں، میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ بیٹا جو مل رہا ہے شکر کر کے کھا لو، اب لارڈز میں تمہارے لیے بریانی، قورمہ یا چکن تکہ تھوڑی رکھا جائے گا، میں نے کھانا تو تھوڑا کھایا لیکن دلچسپ شخصیت کے مالک عقیل احمد و دیگر سے باتیں دل بھر کر ہوئیں۔

 میچ شروع ہونے سے قبل روایتی طور پر گھنٹی بجانے کا موقع اس بار سابق اسٹار ظہیرعباس کو ملا ، ٹاس جیت کر پاکستان نے بولنگ کا درست فیصلہ کیا، محمد عباس نے زبردست بولنگ کی، میں جب درمیان میں ”ایکسپریس نیوز“ کے شو  اسپورٹس ورلڈ کیلیے باہر گیا تو  اس میں  ساتھی صحافی یوسف انجم اور  سابق کرکٹر عامر سہیل کا تبصرہ سنا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنی چاہیے تھی، میں نے مذاق میں (درحقیقت سنجیدگی سے) کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو پہلے سیشن میں ہی ہمارے 6،7 بیٹرز رخصت ہو چکے ہوتے، ہماری ٹیم کا مسئلہ یہی ہے کہ ابتدا میں وکٹیں گرا کر پھر شراکتیں بنوا لیتی ہے، اب بھی ڈر ہے کہ یہی نہ ہو جائے، حسب روایت فیلڈرز بھی حریف کو خوب مواقع دے رہے ہیں، خیر اب تک تو ہماری ٹیم بہتر پوزیشن میں ہے دیکھتے ہیں  آگے کیا ہوگا۔

تحریر کردہ
سلیم خالق

saleem-khaliq

مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔