امریکی خلائی ادارے ناسا کی نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ لانچ کے لیے تیار ہے اور اس کی روانگی میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں۔ یہ مشن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے بعد ناسا کا اگلا اہم فلگ شپ ایسٹرو فزکس مشن قرار دیا جا رہا ہے۔
رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ فلوریڈا کے کیپ کیناورل سے خلائی سفر کا آغاز کرے گی جبکہ اس کے سائنسی مشاہدات جنوری 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ یونیورسٹی آف ایریزونا کے اساتذہ اور طلبا بھی لانچ کے موقع پر کیپ کیناورل میں موجود ہوں گے۔
جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جہاں کائنات کے نسبتاً چھوٹے حصوں کا انتہائی گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، وہیں رومن بہت وسیع رقبے پر تیزی سے سروے کرے گی۔ دونوں دوربینیں انفراریڈ روشنی کا مشاہدہ کر سکتی ہیں، جس سے سائنس دان دونوں مشنز کے مشاہدات کو ملا کر کائنات کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کرسکیں گے۔
رومن کا مرکزی آئینہ 7.9 فٹ قطر کا ہے جو ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے آئینے کے برابر ہے۔ اس میں دو بڑے سائنسی آلات شامل ہیں۔ کورونوگراف انسٹرومنٹ ستاروں کی روشنی کو روکنے اور فلٹر کرنے میں مدد دے گا تاکہ ماہرین فلکیات ایکسپوپلینٹس اور ان کے گرد موجود ڈسکس کا مطالعہ کرسکیں جبکہ وائیڈ فیلڈ انسٹرومنٹ ہبل کیمروں جیسی حساسیت کے ساتھ تقریباً 100 گنا زیادہ وسیع علاقے کی تصاویر حاصل کرے گا۔
ناسا کے مطابق ہبل نے 30 سال سے زائد عرصے میں رات کے آسمان کے تقریباً 0.1 فی صد حصے کا مشاہدہ کیا ہے جبکہ رومن اسی نوعیت کی ریزولوشن کے ساتھ اصولاً پورے آسمان کا سروے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔