گندم بھرے کھیت اور روٹی سے خالی دسترخوان: کیسا زرعی پاکستان؟

آخر ایک زرعی ملک کے عوام کو روٹی کے لیے کیوں پریشان ہونا چاہیے؟


روہیل اکبر August 30, 2026

’پاکستان ایک زرعی ملک ہے‘۔ یہ بات ہمیں بچپن سے پڑھائی جاتی رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بنیادی انحصار زراعت پر ہے۔

ہمارے میدان زرخیز ہیں، ہمارے دریا زمینوں کو سیراب کرتے ہیں، پنجاب کو ملک کا اناج گھر کہا جاتا ہے اور سندھ و خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں لاکھوں کسان گندم، چاول، گنا اور دیگر فصلیں پیدا کرتے ہیں لیکن افسوس کہ آج اسی زرعی ملک میں عام آدمی کو سب سے بنیادی خوراک یعنی آٹا بھی مہنگا مل رہا ہے۔

اس وقت روشنیوں کے شہر کراچی میں آٹے کی قیمت 6400 روپے فی من تک پہنچ جانا صرف ایک عدد نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشی، زرعی اور انتظامی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس ملک کے پاس لاکھوں ایکڑ زرعی زمین، دریاؤں کا پانی، نہری نظام، کسانوں کی بڑی تعداد اور گندم پیدا کرنے کی طویل روایت موجود ہو، وہاں عام شہری کے لیے آٹا اتنا مہنگا کیوں ہو گیا؟ آخر گندم پیدا کرنے والا ملک اپنے ہی عوام کو مہنگا آٹا کیوں کھلا رہا ہے؟

یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں ہے۔ کراچی میں آٹے کی قیمت میں اضافے کا اثر اس لیے زیادہ نمایاں ہوتا ہے کہ یہ ملک کا سب سے بڑا شہر اور سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے۔ یہاں مہنگائی کی ہر لہر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کو متاثر کرتی ہے۔ ایک متوسط یا کم آمدن والے گھرانے کے لیے آٹے کی قیمت بڑھنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ روٹی مہنگی ہو گئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کا پورا بجٹ بگڑ گیا۔

پہلے ہی بجلی کے بل، گیس کے بل، بچوں کی فیس، علاج، کرایہ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے اور اب اگر آٹا بھی عام آدمی کی پہنچ سے دُور ہونے لگے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غریب آخر زندہ کیسے رہے؟

ہمارے حکمران اکثر ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ کہیں میگا پراجیکٹس کی بات ہوتی ہے تو کہیں بڑی شاہراہوں کا ذکر ہوتا ہے۔ کہیں سرمایہ کاری کے اعدادوشمار سنائے جاتے ہیں اور کہیں معاشی استحکام کی نوید دی جاتی ہے، لیکن ایک عام پاکستانی کی نظر سے ترقی کا سب سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ کیا اس کے گھر میں چولہا جل رہا ہے؟ کیا وہ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر روٹی کھلا سکتا ہے؟۔

اگر ایک مزدور، ریڑھی بان، رکشہ ڈرائیور یا دیہاڑی دار شخص اپنی روزانہ کی کمائی سے آٹا خریدنے میں ہی مشکلات محسوس کرے تو پھر ترقی کے دعوے اس کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں؟

پاکستان میں آٹے کی قیمت بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں اور ان میں صرف ایک حکومت یا ایک ادارہ ذمہ دار نہیں، بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری غلط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گندم کی پیداوار اور عوام تک سستے آٹے کی فراہمی دو الگ الگ معاملات ہیں۔ ملک میں گندم پیدا ہو جانا کافی نہیں، اصل مسئلہ اس کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل، سرکاری پالیسی اور منڈی تک رسائی کا ہے۔

ہمارے ہاں کسان بھی مطمئن نہیں اور صارف بھی خوش نہیں کسان شکوہ کرتا ہے کہ اسے اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا، جبکہ شہری شکایت کرتا ہے کہ اسے آٹا مہنگا مل رہا ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں گندم کی خرید و فروخت کے پورے نظام میں تلاش کرنا ہوگا۔ جب کسان کی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا، مگر آٹا مہنگا ہوتا جاتا ہے تو درمیان میں موجود نظام پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔

ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کا معاملہ بھی پاکستان میں نیا نہیں ہے۔ ہر سال کسی نہ کسی ضروری اشیائے خورونوش کے بارے میں یہی خبریں سامنے آتی ہیں کہ پیداوار موجود ہے لیکن منڈی میں قیمت بڑھ گئی۔ کہیں چینی مہنگی ہو جاتی ہے، کہیں گھی، کہیں دال اور کہیں آٹا۔ پھر حکومت کے بعض ادارے حرکت میں آتے ہیں، چھاپے پڑتے ہیں، چند گودام پکڑے جاتے ہیں۔ کچھ جرمانے عائد ہوتے ہیں اور کچھ عرصے بعد معاملہ دوبارہ اپنی جگہ آ جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ذخیرہ اندوزی ایک جرم ہے تو یہ ہر سال کیوں ہوتی ہے؟ اگر حکومت کے پاس قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظام موجود ہے، تو عام شہری بار بار مہنگائی کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟

ایک بڑا مسئلہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان بھی ہے۔ گندم کے حوالے سے کبھی خریداری کی پالیسی تبدیل کر دی جاتی ہے، کبھی امدادی قیمت پر بحث شروع ہو جاتی ہے، کبھی درآمدات کا فیصلہ ہوتا ہے اور کبھی درآمد شدہ گندم یا آٹے کے اثرات پر سوال اٹھتے ہیں۔ کسان کو وقت پر یہ یقین ہی نہیں ہوتا کہ اگلی فصل میں اسے کیا قیمت ملے گی اور حکومت کو کب، کتنی گندم درکار ہوگی؟۔ اس غیر یقینی صورتحال کا نقصان بالآخر پورا ملک اٹھاتا ہے۔

گندم صرف ایک فصل نہیں، بلکہ پاکستان میں یہ قومی غذائی سلامتی کا معاملہ ہے۔ دنیا میں وہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں جو اپنے عوام کو بنیادی خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی بناتی ہیں۔ اگر کسی ملک میں روٹی مہنگی ہو جائے تو اس کے اثرات صرف کچن تک محدود نہیں رہتے، بلکہ مہنگا آٹا غربت بڑھاتا ہے، غذائی قلت میں اضافہ کرتا ہے، بچوں کی نشوونما متاثر کرتا ہے اور سماجی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔

جب والدین اپنی اولاد کو پیٹ بھر کر کھانا نہ کھلا سکیں تو پھر معاشرے میں مایوسی اور بے بسی بڑھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

کراچی جیسے شہر میں آٹے کی قیمت 6400 روپے من تک پہنچنا اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ یہ شہر ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والی اشیا کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ یہاں اگر بنیادی خوراک مہنگی ہے تو اس کے اثرات ملک بھر کی معیشت پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

کراچی میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان کی آمدن میں اضافہ اُس رفتار سے نہیں ہوتا، جس رفتار سے آٹا، دال، گھی اور بجلی مہنگی ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی اپنی خوراک میں کمی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

ریاست کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی پر صرف بیانات سے قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ضرورت ایک جامع اور مستقل پالیسی کی ہے۔ سب سے پہلے گندم کی پیداوار کے درست اعدادوشمار، ذخائر کی مکمل نگرانی اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ کسان کو ایسی قیمت ملنی چاہیے جس سے وہ اگلی فصل اُگانے کے لیے حوصلہ افزائی محسوس کرے، مگر ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مڈل مین اور ذخیرہ اندوز عوام کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف وقتی کارروائیوں کے بجائے ایک شفاف ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے، جس سے معلوم ہو سکے کہ گندم کہاں سے خریدی گئی؟ کہاں ذخیرہ ہے؟ اور کس قیمت پر فروخت ہو رہی ہے؟۔ فلور ملوں کی نگرانی بھی مؤثر ہونی چاہیے تاکہ سرکاری یا رعایتی گندم کا فائدہ واقعی عوام تک پہنچ سکے۔ صرف کاغذوں میں سستا آٹا فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گندم کی نقل و حمل کے اخراجات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ بجلی، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافہ بھی آٹے کی قیمت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر ملک کی مجموعی معاشی پالیسی عام آدمی کی قوت خرید کو نظرانداز کرتی رہے گی تو کسی ایک چیز کی قیمت کم کرنے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

آج پاکستان کو ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہے۔ کیا ہمارا زرعی نظام عوام کو خوراک فراہم کرنے کے لیے ہے یا صرف اعدادوشمار اور تجارتی منافع کے لیے؟ اگر کسان پریشان ہے، صارف پریشان ہے اور حکومت بھی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہے تو پھر اس نظام میں کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی ضرور موجود ہے۔

6400 روپے من آٹا صرف ایک خبر نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے۔ یہ انتباہ ہے کہ پاکستان میں غذائی تحفظ کا مسئلہ سنگین ہو رہا ہے۔ یہ سوال ہے حکمرانوں سے، پالیسی سازوں سے اور ان تمام اداروں سے جو ملک کی معیشت اور خوراک کے نظام کے ذمہ دار ہیں۔ آخر ایک زرعی ملک کے عوام کو روٹی کے لیے کیوں پریشان ہونا چاہیے؟

پاکستان کو صرف بڑے منصوبوں کی نہیں بلکہ بڑی ترجیحات کی بھی ضرورت ہے۔ اس ملک میں سب سے پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کوئی پاکستانی بھوکا نہ سوئے اور عام آدمی کی بنیادی خوراک اس کی پہنچ میں رہے۔ جس دن ہم ایک مزدور کے گھر میں سستی روٹی، کسان کے کھیت میں مناسب معاوضہ اور منڈی میں شفاف نظام فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئے، شاید اُسی دن ہم واقعی کہہ سکیں گے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے فائدے اپنے عوام تک پہنچا رہا ہے۔

ورنہ ہمارے پاس زرخیز زمینیں تو ہوں گی، گندم کے کھیت بھی ہوں گے، بڑے بڑے دعوے بھی ہوں گے، لیکن اگر عام آدمی کے دسترخوان سے روٹی غائب ہوتی گئی تو تاریخ ہم سے یہی سوال کرے گی کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود تم اپنے عوام کو سستی روٹی کیوں نہ دے سکے؟۔


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
روہیل اکبر
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔