نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب میں 550 سے زائد افراد کی ہلاکت کے چند روز بعد آج ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں تحقیق کرنے والے بین الحکومتی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ نے مارچ 2026 میں دو رپورٹس جاری کی تھیں۔
38 گلیشیئرز کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ان رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اس خطے کے گلیشیئرز بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سال 2000 کے بعد برفانی تودوں کے ضائع ہونے کی رفتار تقریباً دو گنا ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں کیا گیا گلیشیئرز کے ضائع ہونے کی رفتار میں نمایاں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمالیائی برفانی نظام کے بعض حصے ایسے اہم موڑ کے قریب پہنچ سکتے ہیں جہاں گلیشیئرز کا سکڑاؤ ناقابلِ واپسی ہوجائے۔
رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ 1975 سے اب تک بعض گلیشیئرز کی برف کی موٹائی 27 میٹر تک کم ہوچکی ہے جبکہ 1990 سے 2020 کے دوران ہندوکش ہمالیہ کے گلیشیئرز نے مجموعی رقبے کا تقریباً 12 فیصد اور اندازاً برفانی ذخائر کا 9 فیصد کھو دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خطے میں گلیشیئرز کی نگرانی کے حوالے سے ڈیٹا کی شدید کمی ہے۔
زیرِ مطالعہ 38 گلیشیئرز میں سے صرف 7 گلیشیئرز عالمی معیار کے مطابق نگرانی کے معیار پر پورا اترتے ہیں جبکہ قراقرم، سکم، زنسکار اور بھوٹان جیسے گلیشیئرز سے بھرپور کئی علاقوں میں نگرانی کا نظام انتہائی محدود ہے۔
نیپال میں حالیہ سیلاب کی اصل وجہ کا تعین ابھی جاری ہے تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری کے بجائے بارش ہونا ایک اہم عنصر سمجھا جارہا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 4 ہزار میٹر اور اس سے زیادہ بلندی پر ان علاقوں میں بارش ہونا جہاں پہلے برف باری ہوتی تھی، گلیشیئرز اور پہاڑی ڈھلوانوں کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کررہا ہے۔
سیلاب کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے؟
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے محققین اب اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کی وجہ کسی بلند پہاڑی مقام سے آنے والا برف اور چٹانوں کا تودہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے بقول بڑی مقدار میں برف اور چٹانی ملبہ لینڈے کھولا ندی میں گرا ہوگا، جو بھوٹے کوشی دریا کی معاون ندی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی، مٹی، برف اور بڑے پتھروں کا ایک اچانک سیلابی ریلا نیچے کی جانب بہا ہوگا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
سینئر کریوسفیئر اسپیشلسٹ محمد فاروق اعظم کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اس عمل سے منسلک ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ برف کی تہہ کم ہونے، گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے اور زیادہ چٹانی و بنجر زمین سامنے آنے سے پہاڑ زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں، جس سے پہاڑی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیلاب کی حتمی وجہ ابھی واضح نہیں ہوئی، تاہم شواہد بتدریج اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ گلیشیئرز کے سکڑنے، برف کی کمی اور پرم فراسٹ کے پگھلنے نے صورتحال کو مزید خطرناک بنایا ہوسکتا ہے۔
ایشیا کے اربوں افراد کے لیے خطرہ
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے مطابق دنیا کے قطبی علاقوں سے باہر سب سے زیادہ برفانی ذخائر ہندوکش ہمالیہ میں موجود ہیں۔ خطے میں 63 ہزار 700 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جو تقریباً 55 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔
یہ گلیشیئرز ایشیا کے 10 بڑے دریائی نظاموں کا بنیادی ذریعہ ہیں اور اربوں افراد کے لیے پانی، خوراک، توانائی اور روزگار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ادارے کے مطابق ان گلیشیئرز کے رقبے کا کم از کم 78 فیصد حصہ 4,500 سے 6,000 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور بلند علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے شدید متاثر ہورہا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کے اثرات پورے خطے میں یکساں نہیں۔ مشرقی ہینگ ڈوان شان پہاڑی سلسلے میں بعض علاقوں نے صرف تین دہائیوں کے دوران اپنے گلیشیئر رقبے کا 33 فیصد تک کھو دیا۔
تاہم رقبے کے لحاظ سے سب سے زیادہ مجموعی نقصان دریائے سندھ، گنگا اور برہم پتر کے طاس میں ہوا، جہاں خطے کے 74 فیصد سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں۔