ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ڈیفنس کی رہائشی عمارت میں 2 فیملیز کی درمیان جھگڑے میں سی سی ٹی ویڈیوز وائرل ہونے کے مقدمے میں ملزمان کی ضمامت منظور کرلی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت کے روبرو ڈیفنس کی رہائشی عمارت میں 2 فیملیز کی درمیان جھگڑے میں سی سی ٹی ویڈیوز وائرل ہونے کے مقدمے میں ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
وکیل صفائی ارشاد شاہ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواست گزاروں کو غلط طور پر کیس میں ملوث کیا گیا ہے۔ درخواستگزار اپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر رہتے ہیں جبکہ مدعی مقدمہ چوتھی منرل پر رہتے ہیں۔
مدعی مقدمہ اپنے بیٹے پولیس آفیشل اور سیکورٹی گارڈ کے ہمراہ تیسری منزل پر آئے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے مدعی جارحانہ انداز میں تیسری منزل پر آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس کوئی پرائیویٹ گواہ بھی نہیں ہے۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد نور العین اور علی حسن کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 ,20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
پولیس کے مطابق درخواستگزاروں کیخلاف درخشان تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ درخواستگزاروں پر خواتین بے حرمتی، دھمکیاں دینے اور زخمی کرنے کے الزامات ہیں۔
اس سے قبل متاثرہ فیملی کی سربراہ (والدہ) حمیرا نے بھی عبوری ضمانت حاصل کی۔ حمیرا تشدد کا نشانہ بننے والے بھائی بہن کی والدہ ہیں۔