پمز آتشزدگی؛ تحقیقات، فائرسیفٹی قوانین کے عدم نفاذ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر

اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو عہدے ہٹانے کی استدعا کی گئی ہے


فیاض محمود August 29, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی اموات کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے کرانے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو عہدے سے ہٹانے اور فائر سیفٹی قوانین کے عدم نفاذ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں الگ الگ درخواستیں دائر کر دی گئیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہری نے بلال مغل اور وقاص ملک ایڈوکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی ہے، جس میں وفاق، وزارت صحت، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ، ایف آئی اے اور کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پمز واقعے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کا حکم دیا جائے اور پمز اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ کو تحویل میں لیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو عہدے اور ملازمت سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

فائر سیفٹی قوان کے عدم نفاذ کے خلاف درخواست

پمز سمیت اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین کے عدم نفاذ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں تجارتی، تعلیمی اور طبی عمارتیں بغیر فائر این او سی کے فعال ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہر کی عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی راستے اور فائر الارم تک موجود نہیں ہیں لہٰذا عدالت اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010ء پر عمل درآمد کرانے کے احکامات جاری کرے۔

وکیل ملک نوید عاشق نے افراسیاب احمد ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پمز اسپتال میں 26 اگست کو آگ لگنے سے شیرخوار زندہ جل گئے تھے، پمز جیسے بڑے اسپتال کے پاس فائر ڈپارٹمنٹ کی این او سی تک موجود نہیں تھی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کروانے کا حکم دیا جائے، بغیر فائر این او سی کام کرنے والی تمام عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا جائے اور فائر سیفٹی این او سی نہ رکھنے والی عمارتوں کی اپ ڈیٹ شدہ فہرست عام کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی، طبی اور غذائی اداروں کی رجسٹریشن کو فائر این او سی سے مشروط کیا جائے، غیر قانونی اور غیرمحفوظ عمارتوں کی مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ انسپکشن کا نظام قائم کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وفاق، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر، ایم سی آئی، سی ڈی اے کے ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی، ایچ ای سی، فیڈرل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔