امریکا سے معاہدہ بھی ہوا تو ایران پر حملہ کریں گے، اسرائیل کی کھلی دھمکی

اسرائیل نے ایران کے خلاف حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہوتا، ایلی کوہن


ویب ڈیسک August 30, 2026

اسرائیل نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنا جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل ایک بار پھر حملہ کرے گا، چاہے ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے ہفتے کے روز اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی کوشش کو اسرائیل برداشت نہیں کرے گا۔

ایلی کوہن نے کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ یہ پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرے گا، چاہے اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاچکا ہو۔

اسرائیلی وزیر نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہوتا۔ ان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کے جائزے میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام دو سے چار سال پیچھے چلا گیا ہے۔

ایلی کوہن نے کہا کہ اسرائیل اپنی فوجی صلاحیت ثابت کرچکا ہے اور اگر ایران نے دوبارہ جوہری یا میزائل پروگرام کی تعمیر نو کی کوشش کی تو اسرائیل کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم خطرہ سمجھتا ہے۔