لندن:
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے پاکستان کی بیٹنگ لائن اَپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے دوسرے درجے کی کاؤنٹی کرکٹ سے تشبیہ دے دی۔
بی بی سی ٹیسٹ میچ اسپیشل پر گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے کہا کہ انگلینڈ کے بولرز کو پاکستانی بیٹرز کی جانب سے کسی خاص چیلنج کا سامنا نہیں، پاکستان کی موجودہ بیٹنگ لائن اَپ طویل عرصے میں دیکھی جانے والی آسان ترین لائن اَپس میں سے ایک ہے۔
مائیکل وان نے کہا کہ انگلینڈ کے بولرز جانتے ہیں کہ پاکستانی بیٹنگ میں وکٹیں موجود ہیں، اس لیے ہر بولر وکٹ لینے کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بیٹرز کی جانب سے انگلش بولرز کو نقصان پہنچانے کا کوئی خاص خطرہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انگلینڈ کے بولرز جانتے ہیں کہ پاکستان بڑے اسکور نہیں کرے گا، اس لیے وہ ہر اسپیل میں بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور مزید اوورز کروانے کے لیے کپتان جو روٹ سے بھی گیند مانگ رہے ہیں۔
مائیکل وان نے انگلش بولنگ اٹیک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بولرز اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں اور اگر وہ اسی انداز میں بولنگ جاری رکھتے ہیں تو بہتر بیٹنگ لائن اَپس کو بھی مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
سابق انگلش کپتان نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ دوسرے درجے کی کاؤنٹی کرکٹ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کسی بھی معیار سے ایسی نہیں لگ رہی جو ٹیسٹ میچ کی بیٹنگ لائن اَپ کہلائے۔
واضح رہے کہ پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی تھی جبکہ خراب بیٹنگ کے باعث دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی 290 رنز کے جواب میں 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔