مصنوعی ذہانت المعروف بہ اے آئی تقریباً ہر شے کی طرح فوائد اور نقصانات رکھتی ہے۔ماہرین کے نزدیک یہ نئی ٹکنالوجی مادی لحاظ سے تو انسانیت کو فائدے پہنچا رہی ہے، مگر روحانی طور پر اُس کے لیے نقصان دہ ہے۔ اے آئی کو شرانگیز طاقت سمجھنے والوں میں یووال نوح ہراری (Yuval Noah)بھی شامل ہے۔ یووال اسرائیلی دانشور و محقق ہے۔موصوف کی چودہ کتب شائع ہو چکیں جنھیں دنیا بھر میں مقبولیت ملی۔ آزادی ِ ارادہ ، شعور، ذہانت، خوشی، مصائب اور انسانی ارتقا میں قصہ گوئی کا کردار اِن کتب کا موضوع ہیں۔
حالیہ 30 جون کو یووال ہراری نے عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ’’انسانی اقدار‘‘کے موضوع پر ایک لیکچر دیا۔اس موقع پر ہراری نے مصنوعی ذہانت کے انقلابی اثرات کا جائزہ لیتے یہ مؤقف پیش کیا کہ اِسے محض آلہ نہیں بلکہ ایک ایسے عامل (ایجنٹ) کے طور پر دیکھیے جو سیکھنے، تخلیق کرنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہراری کی نظر میں اے آئی انسان کی زبان، بیوروکریسی، اور اعتماد سازی کے نظاموں پر عبور حاصل کر کے انسانی تہذیب کا کوڈ اپنے قبضے میں لینے یا ’’ہیک‘‘ کرنے کو تیار ہے جو تاریخی طور پر صرف انسانوں کا خاصہ رہے ہیں۔ وہ بنی نوع انسان کو ایک ایسے مستقبل کے گہرے اثرات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت ذاتی قربت سے لے کر عالمی حکمرانی تک ہر چیز پر اثر انداز ہوگی۔قارئین ایکسپریس کے لیے اِس فکرانگیز لیکچر کا جوہرپیش خدمت ہے۔
٭٭
اے آئی کی سب سے اہم بات یہ کہ یہ ہمارے ہاتھوں میں کوئی اوزار یا آلہ نہیں بلکہ ہاتھ رکھنے والا ایک ایجنٹ ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک ایجنٹ کسی آلے سے کس طرح مختلف ہے؟ ایجنٹس کی کئی امتیازی خصوصیات ہیں۔ایجنٹ بننے کے لیے شعور کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے خود سے فیصلے کرنے کی صلاحیت، خود سے نئی چیزیں اور نئے خیالات ایجاد کرنے کی قوت ۔ ایک ایجنٹ کو از خود وہ چیزیں سیکھنے کے قابل ہونا چاہیے جو اس کے تخلیق کار نہیں جانتے۔ پھر ایجنٹ کو خود اُن طریقوں سے تبدیل ہونے کے قابل ہونا چاہیے جس کا تخلیق کاروں نے تخمینہ بھی نہ لگایا ہو۔
مثال کے طور پر ایٹم بم اپنی زبردست طاقت کے باوجود کوئی ایجنٹ نہیں۔ یہ خود سے سیکھ اور تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ ازخود فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کس شہر پر بمباری کرنی ہے۔ یہ ہائیڈروجن بم جیسی کوئی نئی چیز ایجاد نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کافی بنانے والی خودکار مشین کوئی ایجنٹ نہیں حالانکہ وہ کچھ کام خود بخود کرتی ہے۔ آپ ایک بٹن دباتے ہیں اور مشین ایک کپ کافی بنا دیتی ہے۔ یہ کافی مشین صرف پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کی پیروی کرتی ہے، یہ تبدیل نہیں ہوتی۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں سیکھتی۔ یہ کچھ نیا تخلیق نہیں کرتی۔
اے آئی کافی مشین: ایک خیالی تجربہ
لیکن فرض کریں ،جب آپ کافی مشین کے پاس جاتے ہیں تووہ کوئی بھی بٹن دبانے سے پہلے ہی اعلان کرتی اور آپ کو بتاتی ہے’’میں پچھلے چند ہفتوں سے آپ پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ آپ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں جو کچھ میں نے سیکھا ، اس کی بنیاد پر اور آپ کے چہرے کے تاثرات اور دن کا وقت مدنظر رکھتے ہوئے میں پیشگوئی کرتی ہوں کہ آپ اسپرسو پسند کریں گے۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے پہلے ہی ایک کپ بنا دیا ہے۔‘‘
اب یہ ایک اے آئی کافی مشین ہے۔ اس نے خود سے کچھ سیکھا اور خود سے فیصلہ کیا۔ اور یہ واقعی ایک اے آئی ہے اگر اگلے دن یہ اعلان کرے، ’’میں نے اب ’بیسٹ پریسو‘ نامی ایک نیا مشروب ایجاد کیا ہے جو میرے خیال میں آپ کو اسپرسو سے زیادہ پسند آئے گا۔ یہ لیجیے، اسے آزما کر دیکھیں۔‘‘ اب یہ واقعی ایک اے آئی ہے۔ یہ ان طریقوں سے تبدیل ہوئی جن کا اُس کے تخلیق کاروں نے تخمینہ نہیں لگایا تھا اور اس نے بالکل نئی چیز ایجاد کر دی۔جہاں تک میں جانتا ہوں، اس وقت کافی بنانے کی کوئی اے آئی مشین موجود نہیں ۔ شاید اینتھروپک (Anthropic) کے ہیڈ کوارٹر یا گوگل والوں کے ہاں اس کے چند پروٹوٹائپس موجود ہوں، لیکن وہ ابھی تک مارکیٹ میں نہیں آئی۔
شطرنج کی مثال
لیکن کچھ محدود شعبوں میں جیسے گو (Go) یا شطرنج کھیلنے میں اے آئی کی مہارت اور تخلیقی صلاحیت انسانی صلاحیتوں سے بہت آگے نکل چکی ۔ اب شطرنج کے اے آئی ماسٹر یہ فیصلہ خود کر سکتے ہیں کہ کون سی چالیں چلنی ہیں۔ وہ بالکل نئی حکمت عملی خود ایجاد کرتے ہیں کہ شطرنج کیسے کھیلی جائے اور جو ہزاروں سال سے شطرنج کھیلنے والے کسی انسانی ماسٹر کے ذہن میں کبھی نہیں آئی۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ اُن طریقوں سے سیکھتے اور تبدیل ہوتے ہیں جن کی اُن کے انسانی تخلیق کاروں نے لازماً پیشگوئی نہیں کی تھی۔ آج یقیناً کوئی انسان جدید ترین اے آئی شطرنج ماسٹر کو ہرانے کا کوئی امکان نہیں رکھتا۔
اب جو لوگ اے آئی انقلاب کی اہمیت غیر اہم سمجھتے ہیں، وہ درج بالا مثالیں یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ شطرنج کا بورڈ ایک بہت ہی محدود اور مصنوعی ماحول ہے جو انسانوں نے بنایا ۔ اُن کا کہنا ہے ، اے آئی کی دسترس ہمیشہ ایسے محدود اور مصنوعی ماحول تک ہی محدود رہے گی۔مطلب یہ کہ وہ حقیقی قوت نہیں اور انسانیت کے لیے کوئی سنگین چیلنج پیش نہیں کرتی۔ ہاں اے آئی شطرنج کے بورڈ پر قبضہ کر سکتی ہے، لیکن یہ کبھی کرہ ارض پر قبضہ نہیں کرے گی۔اور واقعی، اگر آپ ایک تجربہ کریں … اگر آپ بہترین اے آئی شطرنج ماسٹر کو لیں اور اُسے جنگل کے بیچوں بیچ لا کر چھوڑ دیں تو آپ کے خیال میں کیا ہوگا؟
ذہانت کی محدود جگہیں
شطرنج کا ماہر اے آئی کھلاڑی کانوں سے لوہا نکالنے، فیکٹریاں بنانے اور دنیا پر قبضہ کرنے کے لیے روبوٹ فوج تیار کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ درحقیقت یہ انسانوں کے بنائے پاور پلانٹس سے ملنے والی بجلی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ۔ وہ بالکل بے بس ہے۔ لہٰذا دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اے آئی تبدیلی کے حقیقی ایجنٹس نہیں ۔ وہ ان تنگ مصنوعی جگہوں تک محدود ہیں جو کسی اور یعنی انسانوں نے اُن کے لیے بنائی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ دلیل درحقیقت ذہانت کی تمام معروف اقسام پر لاگو ہوتی ہے۔ انسانی ذہانت بھی صرف محدود ماحولیاتی نظام کے اندر کام کرتی ہے جو کسی اور نے بنایا ۔ مجھے تنہا مریخ پر چھوڑ دیں تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے شطرنج کے اے آئی ماہر کو جنگل کے بیچوں بیچ چھوڑ دیا جائے۔ میں چند سیکنڈ کے اندر مر جاؤں گا۔ میری ذہانت صرف اُس انتہائی مخصوص ماحولیاتی نظام کے اندر زندہ رہتی اور کام کرتی ہے جو کرہ ارض پر چار ارب سالہ ارتقا کے دوران درختوں، بیکٹیریا، کیڑوں اور دیگر جانداروں نے بنایا۔
یہ بات ہر قسم کے ایجنٹوں پر فٹ بیٹھتی ہے۔ کم از کم ہم جن تمام ایجنٹس کو جانتے ہیں، ان کی اپنی مخصوص جگہیں ہیں۔ مچھلیاں سمندروں میں رہتی ہیں جو انہوں نے خود نہیں بنائے۔ بندر جنگلات میں رہتے ہیں جو انہوں نے خود نہیں بنائے۔ تمام ممالیہ جانور بشمول انسان آکسیجن سے بھرپور فضا میں رہتے ہیں جو انہوں نے خود نہیں بنائی ۔
ایک عظیم واقعہ
تقریباً 2.4 ارب سال پہلے تک ہمارے سیارے کی فضا میں درحقیقت آکسیجن بہت کم اور اُس وقت زندہ جانداروں کے لیے زہرِ قاتل تھی۔ پھر سینکڑوں کروڑوں سال تک جاری رہنے والے ایک طویل عمل کے دوران جسے ’’آکسیجن کا عظیم واقعہ‘‘کہا جاتا ہے، مختلف قدیم خرد بینی جاندار اپنے ضیائی تالیفی عمل کی ضمنی پیداوار کے طور پر زمین کی فضا میں زہریلی آکسیجن خارج کرنے لگے۔جیسے جیسے فضا اس زہریلی گیس سے بھری، متعدد قدیم انواع ناپید ہو گئیں۔ تاہم کچھ انواع نئے حالات میں زندہ رہنے اور خود کو ڈھالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ گویا بچ جانے والے جاندار اپنی بقا کے لیے مکمل طور پر آکسیجن پر منحصر ہو گئے۔ یقیناً ہمارے آباؤ اجداد بھی انھی انواع میں شامل ہیں۔آج ہم بھی آکسیجن سے بھرپور ماحول میں رہ رہے ہیں جو اصل میں قدیم خرد بینی جانداروں نے بنایا تھا۔
ایک نیا مصنوعی ماحول: ڈیٹا، زبان اور بیوروکریسی
میں اس لیکچر میں یہ بحث کرنا چاہتا ہوں کہ ہم زندگی کے ارتقا میں ایک ایسے ہی مرحلے کے شاہد ہو سکتے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں سے ہم انسان فضا میں ایسی چیز بھر رہے ہیں جو بالآخر زیادہ تر جانداروں بشمول انسانوں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔وہ ایک ایسا نیا مصنوعی ماحول پیدا کررہی جس میں مصنوعی ذہانت پروان چڑھے گی۔ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ نہیں ڈیٹا کی بات کر رہا ہوں۔ بیوروکریسی اور بالآخر ا’س چیز کی بات کر رہا ہوں جو اِس وقت اپنے منہ سے نکال رہا ہوں یعنی الفاظ … زبان کے ٹوکن۔
ہزارہا برس کے دوران ہم انسانوں نے اس سیّارے کو زبان سے عاری ماحول سے ایک ایسے انتہائی مصنوعی ماحول میں تبدیل کر دیا جو زبان کے ٹوکنوں، ڈیٹا اور بیوروکریسی سے مالا مال ہے۔ یہ ماحول زیادہ تر جانداروں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتا ہے لیکن اے آئی کی نشوونما کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ کیونکہ جس طرح مچھلیاں سمندروں میں رہتی اور بندر جنگلات میں رہتے ہیں، اسی طرح اے آئی بیوروکریسی میں رہتی ہے۔ آئیے بیوروکریسی کے بارے میں بات کرتے چند منٹ صرف کریں اور پھر ہم اس چیز کی طرف واپس آئیں گے جو بیوروکریسی کی بنیاد ہے یعنی زبان اور الفاظ۔
انسانوں نے بذریعہ تعاون کیسے فتح حاصل کی
تاریخ بتاتی ہے،انسانوں نے بہت بڑی تعداد میں تعاون کرنا سیکھ کر دنیا پر فتح حاصل کی۔ انفرادی طور پر انسان دوسرے جانوروں سے زیادہ مضبوط یا یہاں تک کہ زیادہ ہوشیار نہیں ۔ ایک سے ایک کی لڑائی میں ایک انسان چمپینزی، شیر یا ہاتھی سے ہارنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔ تاہم ایک لاکھ انسانوں اور ایک لاکھ چمپینزیوں کے درمیان مقابلے میں انسان آسانی سے جیت جاتے ہیں کیونکہ وہ تعاون کرنا جانتے ہیں اور چمپینزی نہیں جانتے۔ اور اسی لیے ہم دنیا پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
اب ایک لاکھ ایسے انسان جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے، کیسے تعاون کرتے ہیں؟ چمپینزی ایک دوسرے سے ذاتی شناسائی کی بنیاد پر تعاون کرتے ہیں۔ انسان کا بھی یہی دستور ہے۔ لیکن آپ ایک لاکھ لوگوں کو نہیں جانتے تو ایک لاکھ لوگ کیسے تعاون کرتے ہیں؟ ایک بیوروکریٹک نظام بنا کر جیسے قانونی نظام یا مالیاتی نظام یا گرجا گھر یا ریاستیں یا یونیورسٹیاں۔ اب یہ بیوروکریٹک نظام اصل میں کیا کرتے ہیں؟
اعتماد پیدا کرنے کا کاروبار
جب کوئی سرکاری عہدیدار، بشپ، ربّی، اکاؤنٹنٹ، وکیل یا بینکر صبح کام پر جائے، تو وہ سارا دن وہاں کیا کرتا ہے؟ اب بڑھئی میزیں بناتے ہیں۔ انجینئر پل بناتے ہیں۔ بینکر اور دیگر بیوروکریٹس کیا بناتے ہیں؟یہ بینکر اور دیگر بیوروکریٹس سارا دن اعتماد پیدا کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اُن کا کام ایسے لاکھوں اجنبیوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا ہے جو ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے ۔ اِس طرح وہ بڑے پیمانے پر تعاون کو ممکن بناتے ہیں جو تقریباً ہر اُس چیز کی بنیاد ہے جو بنی نوع انسان نے حاصل کی ۔
مثال کے طور پر میرا بینکر، جسے میں ذاتی طور پر نہیں جانتا، میرا اعتماد حاصل کرنے سارا دن محنت کرتا ہے تاکہ میں اپنی بچت اس کے بینک میں رکھنے کو آمادہ ہو سکوں۔ ساتھ ہی بینکر اس کاروباری شخص کے ساتھ اعتماد پیدا کرنے کے لیے بھی سخت محنت کرتا ہے جسے نئی کمپنی شروع کرنے کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ بینکر میری بچت اُس کاروباری شخص کو ادھار دے دیتا ہے۔ اس طرح بینکر نے اصل میں میرے اور اس کاروباری شخص کے درمیان اعتماد کا ایک پل بنا دیا۔ اگرچہ میں نے زندگی بھر کبھی اُس کاروباری شخص سے ملاقات نہیں کی لیکن اب وہ اپنی کمپنی شروع کرنے کے لیے میری بچت استعمال کرے گا۔
جب مالیاتی نظام ٹھیک طرح کام کرے تو یہی اعتماد پانا اس کا مقصد ہوتا ہے۔ وہ اجنبیوں کے درمیان اعتماد پیدا کرتا ہے تاکہ لاکھوں لوگ نئے منصوبوں پر اپنے وسائل اور صلاحیتیں ایک جگہ اکٹھی کر سکیں۔ دنیا کی مالیاتی تاریخ انہی لوگوں کی تاریخ ہے جو اعتماد کے پل بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیچیدہ طریقے ایجاد کرتے ہیں۔
اعتماد کے پل کے طور پر پیسا
پیسا بالآخر اعتماد کا ایک پل ہے۔ پیسے کو یقین ہے کہ میں مارکیٹ جا سکتا ہوں۔ کسی دوسرے شہر میں کسی ایسے شخص سے مل سکتا ہوں جسے میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ شاید وہ میری زبان بھی نہیں بولتا مگر صرف اُس شخص کو چمکدار دھات کا ٹکڑا یا رنگین کاغذ کا ٹکڑا دوں گا تو مجھے کھانے کے لیے روٹی دے دے گا۔ یہ وہ اعتماد کا پل ہے جو پیسا بناتا ہے۔
سکّہ اور کاغذی نوٹ شروعات ہیں۔ صدیوں کے دوران انسانوں نے اعتماد پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیچیدہ مالیاتی آلات ایجاد کیے ہیں جیسے چیک، بانڈ، اسٹاکس، ای ٹی ایف ، قرضے، رہن اور مرکب سود وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کا مقصد بالآخر اربوں اجنبیوں کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہے۔دنیا کی تمام بیوروکریسیوں کا بھی یہی حال ہے۔ قانونی نظام کا بھی یہی حال ہے۔ وکلا نے یہی کام کرنا ہوتا ہے، یعنی اعتماد پیدا کرنا۔ سرکاری عہدیدار، بشپ اور اکاؤنٹنٹ جب کام پر جائیں تو وہ یہی کرتے ہیں۔ ان کا کام اعتماد پیدا کرنا ہے۔
مصنوعی ماحول میں محدود ذہانت
ان تمام بیوروکریٹک نظاموں کے بارے میں اہم بات یہ کہ یہ انتہائی مصنوعی ماحول ہیں جن میں نسبتاً محدود ذہانت … میں کسی کی توہین نہیں کر رہا لیکن جو ذہانت کے ایک بہت ہی محدود حصے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ بہرحال دنیا پر زبردست اثر ڈالنے کے لیے تو کافی ہے۔ ایک وکیل، بینکر یا سرکاری عہدیدار جو یہ بھی نہیں جانتا کہ کلہاڑی یا ہتھوڑا کیسے پکڑا جاتا ہے، اس کے باوجود وہ بیوروکریٹک نیٹ ورک کے اندر صرف ڈیٹا اِدھر سے اُدھر منتقل کر، صرف دستاویزات یہاں سے وہاں لے جا کر پورا جنگل کاٹ اور پورا شہر آباد کر سکتا ہے۔
اگر آپ وکیل کو بیوروکریٹک نظام سے باہر نکال کر گندے اور غیر منظم جنگل میں پھینک دیں، تو اُس کی قانونی مہارتوں کا کوئی مطلب نہیں رہے گا اور وہ کسی چمپینزی، شیر یا ہاتھی کا مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔ لیکن ہم نے پہلے ہی اپنے بیوروکریٹک سسٹم جنگل پر مسلط کر رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے ، دنیا کے تمام شیر جمع ہو جائیں تب بھی وہ ایک اچھے وکیل کو شکست نہیں دے سکیں گے۔میں بھی وکیل کی جیت پر ہی شرط لگاؤں گا۔آج دنیا میں شیر و ہاتھی جیسی طاقتور انواع کی بقا خود حکومتوں، بینکوں اور کارپوریشنوں کے بیوروکریٹک جالوں میں دستاویزات اِدھر سے اُدھر منتقل کرنے والے وکلا، اکاوئنٹنٹس اور بینکروں پر منحصر ہے۔
اے آئی بطور مقامی بیوروکریٹس
یہ وہ ماحول ہے جس میں مصنوعی ذہانت اختیارات حاصل کر رہی ہے۔ اگر آپ کسی اے آئی کو جنگل میں پھینک دیں، تو وہ لوہا نکالنے اور روبوٹ فوج بنانے کے قابل نہیں ہوگی۔ لیکن ان بیوروکریٹک سسٹمز کے اندر جو انسانوں نے پہلے ہی بنا کر دنیا پر مسلط کر دیے ہیں، اے آئی زبردست طاقت استعمال کرنے کو تیار ہے کیونکہ انسان کے برعکس اے آئی پیدائشی بیوروکریٹ ہے۔
انسانی فیصلہ سازی پر قبضہ
کوئی بھی وکیل برطانیہ کے تمام قوانین اور ضوابط یاد نہیں رکھ سکتا، لیکن اے آئی رکھ سکتی ہے۔ کوئی بھی اکاؤنٹنٹ کسی کارپوریشن یا بینک کے تمام لین دین یاد نہیں رکھ سکتا، لیکن اے آئی رکھتی ہے۔ کوئی بھی بشپ کلیسائی قانون اور پچھلے دو ہزار برس میں عیسائی ماہرینِ الہیات کی لکھی تمام دینی تحریریں یاد نہیں رکھ سکتا، ایک اے آئی یہ سب کچھ بہت آسانی سے کر لیتی ہے۔
لہٰذا آنے والے برسوں میں لاکھوں اے آئی بیوروکریٹس تیزی سے دنیا کی بیوروکریسیوں پر قبضہ کر لیں گے ۔وہ نہ صرف شیروں اور چمپینزیوں بلکہ ہماری زندگیوں کے بارے میں بھی فیصلے کریں گے۔ اے آئی بینکر یہ فیصلہ کریں گے کہ آپ کو قرض دینا ہے یا نہیں۔ اے آئی ایڈمنسٹریٹر یہ فیصلہ کریں گے کہ آپ کو یونیورسٹی میں داخلہ دینا ہے یا نہیں۔ اے آئی جج یہ فیصلہ کریں گے کہ آپ کو جیل بھیجنا ہے یا نہیں۔ اے آئی ماہرینِ الہیات یہ فیصلہ کریں گے کہ آپ اسقاطِ حمل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ کارپوریٹ اے آئی یہ فیصلہ کریں گے کہ آپ کو نوکری دینی ہے یا نہیں۔ اور فوجی اے آئی یہ فیصلہ کریں گے کہ آپ کے گھر پر بمباری کرنی ہے یا نہیں۔
اب ایک لمحے کے لیے یہ سوال ایک طرف رکھ دیں کہ آیا یہ تبدیلی اچھّی ہے یا بُری؟ نوٹ کرنے کی سب سے پہلی بات … اِس تبدیلی کے حجم کا احساس کرنا ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ یہ لاکھوں یہاں تک کہ اربوں اے آئی جلد ہی وہ تمام نظام بدل دیں گے جوآج دنیا چلا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا الگورتھم: تاریخ سے ایک انتباہ
ہمارے پاس اِس امر کی پہلے ہی چند حقیقی مثالیں موجود ہیں کہ یہ سب کیسے ہوگا اور اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔ بہترین مثال سوشل میڈیا الگورتھمز کی کہانی ہے۔ سوشل میڈیا کو انسان نہیں بلکہ الگورتھم چلاتے ہیں۔ الگورتھم ہی ہر فیصلہ کرتے ہیں ۔وہی سوشل میڈیا پر معلومات کی نقل و حرکت کنٹرول کرتے ہیں۔یہ ابتدائی درجے کی مصنوعی ذہانت ہے۔ یہ سلسلہ دس پندرہ سال پہلے شروع ہوا تھا۔ یہ پہلی نسل تھی، انتہائی ابتدائی، سادہ اور محدود اے آئی جس نے اس کے باوجود پوری دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
اب فیس بک، ٹک ٹاک اور ایکس (ٹوئٹر) جیسی کارپوریشنز کی جانب سے سوشل میڈیا کے الگورتھمز کو ایک انتہائی محدود مقصد سونپا گیا ہے: صارف کی مصروفیت زیادہ سے زیادہ بڑھانا۔ لوگوں کو اِس پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کرنا کہ جتنا زیادہ وقت وہ گزاریں گے، کارپوریشن اتنا ہی زیادہ پیسہ کمائے گی۔ یہ بہت سادہ اور محدود مقصد ہے۔صارف کی مصروفیت کے حصول میں ابتدائی مصنوعی ذہانتوں نے ایک اہم بات دریافت کی۔ انہوں نے اربوں انسانوں پر تجربات کیے اور یہ سیکھا کہ کسی انسان کی توجہ حاصل کرنے اور اسے سکرین سے چپکائے رکھنے کا سب سے آسان طریقہ انسانی دماغ میں نفرت، خوف یا لالچ کے بٹن دبانا ہے۔ اور وہ یہ کرنا سیکھ گئے۔ انہوں نے معلوماتی دنیا میں بڑے پیمانے پر نفرت، خوف اور لالچ پھیلانا شروع کر دیا۔ اور یہ عمل دنیا بھر میں سازشی نظریات، جعلی خبروں اور سماجی فسادات کی موجودہ وبا کی ایک بڑی وجہ بن چکا حالانکہ یہ واحد وجہ نہیں ہے۔
اب یہ سوشل میڈیا الگورتھمز، یاد رکھیں کہ یہ ابتدائی اے آئی ہیں، اگر آپ انہیں جنگل میں چھوڑ دیں، تو وہ کوئی روبوٹ آرمی نہیں بنا سکتے اور نہ ہی دنیا پر قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے بیوروکریٹک نظام کے اندر اِن محدود ترین ایجنٹس کے پاس بھی زبردست طاقت ہے اور وہ پہلے ہی دنیا کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کر چکے۔
انسانی ایڈیٹر سے لے کر اے آئی الگورتھمز تک
پچھلی صدیوں میں میڈیا پلیٹ فارموں پر معلومات کے بہاؤ انسانی ایڈیٹر کنٹرول کرتے تھے۔ یہ ایک انسانی کام تھا۔ وہی فیصلہ کرتے تھے کہ اخبار کے پہلے صفحے پر کیا چھپنا چاہیے۔ یہ طے کرتے تھے کہ ٹیلی ویڑن پر شام کی خبروں میں کون سی خبریں شامل کی جائیں گی۔ اس طرح انسانی ایڈیٹروں نے عوامی گفتگو کو تشکیل دیا اور وہ جدید تاریخ کی انتہائی اہم شخصیات تھے۔مثال کے طور پر فرانسیسی ایڈیٹر، ژاں پال مارات نے ایک با اثر اخبار ’’لِامی دو پْوپل‘‘ کی ادارت کے ذریعے فرانسیسی انقلاب کا رخ موڑ دیا۔ جرمن مدیر،ایڈورڈ برنسٹین نے سوشل ڈیموکریسی کی ادارت کے ذریعے جدید سوشل ڈیموکریٹک تحریک اور سوچ کو تشکیل دیا۔ سوویت ڈکٹیٹر بننے سے پہلے ولادیمیر لینن ایک واحد نوکری جو کچھ عرصے تک سنبھالنے میں کامیاب رہا، وہ اخبار ’’اِسکرا‘‘ کی ادارت تھی۔ اٹلی کا ڈکٹیٹر بننے سے پہلے بنیتو مسولینی کی ایک نوکری یا شاید اہم ترین نوکریوں میں سے ایک دائیں بازو کے جارحانہ اخبار ’’اِل پولو دِ اطالیہ‘‘ کے ایڈیٹر کی تھی۔اور یہ سوچنا حیرت انگیز ہے کہ اے آئی نے (گو فی الحال مغربی ممالک میں ) انسانوں سے جو پہلی نوکریاں چھینیں، وہ ٹیکسی ڈرائیوروں یا ٹیکسٹائل کے کارکنوں کی نہیں بلکہ نیوز ایڈیٹرز کی تھیں۔
انسانی بیوروکریسی کے نئے معمار
جو کام کبھی لینن اور مسولینی انجام دیتے تھے، اب وہ اے آئی انجام دیتی ہے۔ اور یہ اِس بات کا اشارہ ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلموں نے ناظرین کو روبوٹ کی بغاوت سے ڈرنے کا عادی بنا دیا ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ اے آئی انسانی قابو سے باہر ہو جائے گی , تو ہمارے ذہن میں ’’ٹرمینیٹر‘‘ کا خیال آتا ہے یا پھر سڑکوں پر دوڑتے اور لوگوں پر فائرنگ کرتے ہوئے روبوٹس کی فوج کا۔لیکن یہ غلط تصویر ہے۔ اگرچہ یوکرین اور غزہ جیسی جگہوں پر ایسی چیزیں شروع ہو چکی لیکن اے آئی کی طرف سے…یہ ناممکن تو نہیں لیکن اِس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وہ یوں انسانوں کے خلاف بغاوت کرے گی۔ بلکہ اِس کے کہیں زیادہ امکانات ہیں کہ وہ اندر سے انسانی دنیا پر قبضہ کر لے، اُسے بغاوت کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
انسانی دنیا متعدد بیوروکریسیوں کا ایک جال ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ کسی حد تک اِن بیوروکریسیوں سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہم اُن پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن اے آئی اِس کے برعکس بیوروکریسی کی پیدائشی کھلاڑی ہے۔ وہ بیوروکریسی سے محبت کرتی ہے جبکہ ہم اکثر بیوروکریسی کے باعث گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ اے آئی کے لیے بیوروکریسی آکسیجن کی طرح ہے۔ذرا سوچیے تب کیا ہوگا جب مصنوعی ذہانتیں کم از کم جزوی طور پر اُن بیوروکریسیوں پر قبضہ کر لیں؟ یاد رکھیں، بیوروکریسی کا مقصد آپ سے فارم پْر کروانا نہیں بلکہ اجنبیوں کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہے۔ تو کیا ہوگا جب اے آئی دنیا میں اعتماد کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے لگے؟
انسانی اعتماد کا زوال اور اے آئی قبائل کا عروج
ایک ممکنہ نتیجہ جو ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں، یہ ہے کہ انسانوں کا دوسرے انسانوں پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے اور وہ صرف الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔ ایک اور ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ اے آئی دوسرے اے آئی کے ساتھ اعتماد پیدا کرنا سیکھ لے گی۔ چنانچہ ہم مختلف قسم کے اے آئی قبائل، بینکوں اور گرجوں کا ظہور دیکھیں گے جو لاکھوں اے آئی نظاموں کو ایسے طریقوں سے آپس میں جوڑدیں گے جنہیں شاید انسان سمجھ بھی نہ سکیں۔
جس طرح گائیں اور مرغیاں ہمارے ساتھ اِس دنیا میں رہتی ہیں لیکن وہ اس انسانی مالیاتی نظام کو نہیں سمجھتیں جو ان کی زندگیاں کنٹرول کرتا ہے۔ اسی طرح ہم انسان بھی جلد ہی خود کو ایک ایسے اے آئی مالیاتی نظام کے زیرِ اثر پا سکتے ہیں جسے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ میرا خیال ہے کہ مالیات (Finance) سب سے اہم ہے۔ یہ اُن بیوروکریٹک نظاموںمیں سے ایک ہے جن پر اے آئی کے لیے قبضہ کرنا سب سے آسان ہے۔ کیونکہ بنیادی طور پر یہ صرف ڈیٹا اندر ڈالنے اور باہر نکالنے کا کھیل ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب سے اہم انسانی شعبوں میں سے بھی ایک ہے۔
سی ڈی اوز کا سبق اور مالیاتی پیچیدگی کا خطرہ
مثال کے طور پر اگر ہمیں یاد ہوتو آخری بڑا مالیاتی بحران 2007ء تا 2008ء رہا تھا۔ اُس کا آغاز ایک ایسی چیز سے ہوا تھا جسے ’’سی ڈی اوز‘‘ (Collateralized Debt Obligations) کہا جاتا ہے۔ یہ سی ڈی اوز ایسے مالیاتی آلات تھے جنہیں چیدہ انسانی ریاضی دانوں اور سرمایہ کاری کے ماہرین نے ایجاد کیا تھا۔ یہ مالیاتی آلات اتنے پیچیدہ تھے کہ نہ صرف عام معاشی ماہرین بلکہ وہ سیاستدان بھی انہیں سمجھنے سے قاصر رہے جنہیں مالیاتی نظام ضابطے میں لانا تھا۔ اِس بات سے نگہداشت اور نگرانی میں ناکامی ہوئی اور ایک عالمی آفت نے جنم لے لیا۔
کچھ سال تک تو سی ڈی اوز اچھے کام کرتے دکھائی دیے اور ان کی بدولت مختلف بینکوں، کارپوریشنوں اور سرمایہ کاروں نے اربوں اور کھربوں ڈالر کمائے۔ لیکن پھر ان کی وجہ سے ایک عالمی مالیاتی کریش آیا جس کے دور رس سماجی اور سیاسی نتائج برآمد ہوئے۔ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے، 2007ء تا 2008ء کے مالیاتی بحران نے حکومتوں اور بینکوں پر سے اعتماد کمزور کرکے آنے والی دو دہائیوں میں عالمی لبرل نظام کے انہدام کی راہ ہموار کر دی۔
اب کیا ہوگا اگر ہم اے آئی کو زیادہ سے زیادہ مالیاتی فیصلے کرنے اور نت نئے مالیاتی آلات اور حکمت عملیاں ایجاد کرنے کی اجازت دے دیں؟ شطرنج کے اے آئی ماہرین نے کھیلنے کے نئے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ کیا ہو گا اگر اے آئی کے مالیاتی ماہرین ایسے نئے مالیاتی آلات ایجاد کر لیں جو سی ڈی اوز سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ اور انسانی عقل کی فہم سے بالکل ماورا ہوں؟
ایسے آلات ممکنہ طور پر مالیاتی کارکردگی زیادہ بہتر بنا اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے مالیاتی نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ لیکن انسانی سیاست کا کیا مطلب رہ جائے گا جب کوئی بھی انسان، کوئی بھی ووٹر، کوئی بھی سیاستدان، یا کوئی بھی صدر مزید مالیات سمجھنے کے قابل نہیں رہے گا؟ اور چند سال کی خوش حالی (boom) کے بعد کیا ہوگا؟ ایک مالیاتی بحران آئے گا اور سیّارے پر موجود ایک بھی انسان یہ سمجھنے کے قابل نہیں رہے گا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔
اعتماد، تعاون اور انسانی غلبے کی بنیاد:ببیوروکریسی
آئیے اس معاملے پر گہرائی سے غور کرتے ہیں۔میں نے بتایا، اے آئی بیوروکریسی پر قبضہ کرنے کے لیے بالکل تیار ہے۔ اور یہ کہ بیوروکریسی ایک ایسا نظام ہے جو لاکھوں اجنبیوں کے درمیان اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور اعتماد بدلے میں بڑے پیمانے پر ہونے والے تعاون کی بنیاد ہے اور جو دنیا پر انسانی غلبے کی اساس ہے۔چنانچہ انسانی غلبہ تعاون پر مبنی ہے جو خود اعتماد پر مبنی ہے اور جسے بیوروکریسی برقرار رکھتی ہے۔ لیکن بیوروکریسی کس چیز پر مبنی ہے؟ وہ کون سے ایٹم اور بنیادی اجزا ہیں جن سے بیوروکریسی بنتی ہے؟ بیوروکریسی بالآخر’’ الفاظ‘‘ سے بنتی ہے۔
ابتدا میں کلام (لفظ) تھا۔ انسان بیوروکریسی کیوں بنا سکے جبکہ چمپینزی ایسا نہ کر سکے؟ وجہ یہ کہ ہمارے پاس الفاظ ہیں اور ان کے پاس نہیں۔ ان کے پاس مواصلات کا نظام ضرور ہے، لیکن ہماری زبان چمپینزیوں کے مواصلاتی نظام سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ ہے۔ مواصلاتی نظام بینکوں سے لے کر گرجا گھروں تک بالآخر اُن الفاظ پر مبنی ہیں جو فارموں، خطوط، قانون کے ضابطوں، ٹیکس کے رجسٹروں، کھاتہ بہیوں (ledgers) اور مقدس کتابوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ انسانی تہذیب کا آپریٹنگ کوڈ زبان کے ٹوکنوں سے بنا ہے۔
ایسا کوڈ جسے صرف انسان سمجھ سکے
ہزاروں سال کے دوران ہم نے زبان کے اِس کوڈ کو ایک ایسا نظام بنانے کے لیے استعمال کیا جسے صرف ہم سمجھ سکتے تھے اور ہم نے اس کو سیّارے پر نافذ کر دیا۔ ہم نے ایسا کرتے ہوئے خود کو بالکل محفوظ محسوس کیا کہ زمین پر اور کوئی بھی تہذیب کے اِس کوڈ کو نہیں سمجھتا تھا۔ہم نے روپیا پیسا اور بینک ایجاد کیے اور گائیوں کو خریدنے بیچنے کے لیے ان کا استعمال کیا۔ لیکن گائے خود نہ تو کوئی بینک اکاؤنٹ کھول سکتی ہے اور نہ ہی اسٹاک ایکسچینج میں رقم کی سرمایہ کاری کر پاتی ہے کہ اس کے پاس زبان نہیں ۔ ہم نے گھوڑوں کے بارے میں قوانین اور ضابطے ایجاد کیے، لیکن گھوڑے خود نہ تو کوئی وکیل خدمات پر رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی جج کے سامنے قانونی دفعات کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ ہم نے سوروں کے بارے میں مذہبی احکام اور پابندیاں ایجاد کیں لیکن سور خود بائبل نہیں پڑھ پاتے اور نہ ہی پادریوں اور ربیّوں کی تشریح چیلنج کر سکتے ہیں۔
بیوروکریسی کرہ ارض پر ہر جگہ موجود ہے لیکن ہمارے علاوہ کسی کو بھی بالکل دکھائی نہیں دیتی ۔ انسانوں کے علاوہ کوئی بھی قانون کے ضوابط، مقدس کتابیں اور بینک کے ریکارڈ نہیں پڑھ سکتا جو بیوروکریسی اور بڑے پیمانے پر انسانوں کے باہمی تعاون کی بنیاد ہیں۔
انسانی تہذیب کے ضابطے ہیک
اب یہ صورتحال بدل رہی ہے۔ اب کرہ ارض پر ایک ایسی چیز موجود ہے جو زبان کو ہم سے بہتر سمجھتی ہے اور جلد اِس سے بھی بہتر سمجھ جائے گی ۔ اِس طرح وہ پانسہ ہمارے خلاف پلٹ سکتی ہے… مصنوعی ذہانتیں انسانی تہذیب کے کوڈ ہیک کر رہی ہیں۔ اور کیا ہوگا جب مصنوعی ذہانت پیسے، قانون اور مذہب کو ہم سے بہتر سمجھنے لگے ؟ کنٹرول کے وہ نفاذی طریقے جو ہم نے ہزاروں سال میں بنائے ہیں، مصنوعی ذہانت کے قبضے کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہیں کیونکہ اُن کا آپریٹنگ سسٹم ایک زبانی کوڈ ہے جس پر اب وہ بڑی تیزی سے عبور حاصل کر رہی ہے۔
لفظ اور جسم: حرف اور روح کے درمیان کشمکش
اب ایک ممکنہ اخلاقی اور فلسفیانہ اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ قانونی نظام یا مذہب جیسی چیزوں کو زبان کے ٹوکنوں اور الفاظ تک محدود کرنا غلط ہے۔ یہ ایک قابلِ بحث نکتہ ہے اور ہزاروں سال سے یہ بحث چلی آ رہی ہے کہ الفاظ محض کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو اُن سے ماورا ہے اور جو غالباً مصنوعی ذہانت کی گرفت سے بھی باہر ہوگی۔بائبل میں نہ صرف یہ کہا گیا کہ ابتدا میں کلام تھا بلکہ یہ بھی کہ کلام جسم بن گیا۔چین کے قدیم مذہب، تاؤازم کی بنیادی کتاب، تاؤ تی چنگ میں درج ہے، وہ سچائی جسے الفاظ میں بیان کیا جا ئے، تعریف کے اعتبار سے مطلق سچائی نہیں ۔ انسان کی پوری تاریخ میں لفظ اور جسم کے درمیان، اُس سچائی کے درمیان جو الفاظ میں بیان ہو سکے اور اُس سچائی کے درمیان جو الفاظ سے ماورا ہے، ہمیشہ یہ کشمکش موجود رہی ہے۔
اب تک یہ کشمکش انسانوں کے درمیان موجود تھی۔ مثال کے طور پر کچھ انسان جو الفاظ کے ساتھ بہت زیادہ جڑے تھے، بائبل کے چند الفاظ کی وجہ سے اپنے ہم جنس پرست بیٹے کو چھوڑنے یہاں تک کہ قتل کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ دوسرے انسان کہتے ہیں: یہ صرف الفاظ ہیں، قانون کے حرف سے زیادہ محبت کی روح اہم ہونی چاہیے۔ روح اور حرف کے درمیان یہ کشمکش بہت قدیم ہے۔ نہ صرف عیسائیت، یہودیت اور اسلام میں بلکہ ہر مذہب اور ہر قانونی نظام میں اور یہاں تک کہ ہر انسان کے اندر بھی یہ کشمکش موجود تھی۔
اب یہ کشمکش باہر کی طرف منتقل ہو جائے گی ،یہ مصنوعی ذہانت اور انسانوں کے درمیان کشمکش بن جائے گی۔ الفاظ سے بنی ہر چیز پر مصنوعی ذہانت کا قبضہ ہو جائے گا۔ دنیا میں انسانوں کا مقام اِس بات پر منحصر ہوگا کہ ہم اُس سچائی کو کیا مقام دیتے ہیں جو الفاظ سے ماورا ہے۔
انسانی سوچ اور الفاظ سے ماورا سچائی
لیکن وہ سچائی کیا ہے جو الفاظ سے ماورا ہے؟ اور کیا انسانی سوچ اس سچائی کو بھی سمجھ سکتی ہے جو الفاظ سے باہر ہے؟ زبان کے فلسفے میں ہزاروں سال سے ایک بنیادی سوال یہ رہا ہے کہ کیا ہم الفاظ میں سوچتے ہیں یا ہم محض اُن چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو اُن سے ماورا ہیں۔
سوچنا اصل میں ہے کیا ؟
آپ اس لیکچر کے فورا بعد اپنے سوچنے کے عمل کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ جب آپ سوچ رہے ہوں تو ذہن میں کیا ہوتا ہے؟ کچھ لوگ اگر باریک بینی سے مشاہدہ کریں، تو یہ پاتے ہیں کہ ان کے ذہن میں صرف الفاظ ابھرتے اور جملے بناتے ہیں اور پھرجملے منطقی دلائل بناتے ہیں۔ تمام انسان فانی ہیں۔ میں ایک انسان ہوں، اس لیے میں فانی ہوں۔ کیا سوچنا محض الفاظ کو اِس ترتیب سے رکھنا ہے کہ وہ ایک مخصوص منطقی نتیجے تک پہنچ جائیں؟ جیسے زبان کے ٹوکنوں کو ایک مخصوص ساخت میں ڈھالنا؟
اگر ایسا ہے تو مصنوعی ذہانت پہلے ہی کم از کم کچھ انسانوں سے بہتر سوچتی ہے اور جلد ہی ہم سب سے بہتر سوچنے لگے گی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، نہیں، نہیں، مصنوعی ذہانتیں صرف بہتر درجے کی مشینیں ہیں۔ وہ صرف جملے کے اگلے لفظ کی پیشگوئی کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ انسانی دماغ کے کام کرنے کے طریقے سے مختلف ہے؟ایک بار پھر اپنے سوچنے کے عمل کا مشاہدہ کیجیے ، اپنے ذہن میں جملوں اور دلائل کی تشکیل کو دیکھیے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ اُس اگلے لفظ کا مشاہدہ کریں جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ کیا آپ واقعی جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آیا؟ آپ نے یہی خاص لفظ کیوں سوچا، کوئی دوسرا لفظ کیوں نہیں؟ جب میں اپنے دماغ کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کروں، تو دیکھتا ہوں کہ جب ایک جملہ شروع کروں، تو مجھے عموماً یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کیسے ختم ہوگا جو ایک پبلک سپیکر کے لیے خوفناک بات ہے۔ یہی وجہ ہے ، میں ہر چیز لکھ لیتا ہوں۔ لیکن کیا ہوگا اگر میں نہیں جانتا کہ جملے کو کیسے پورا کرنا ہے؟ میں نہیں جانتا کہ یہ کیسے ختم ہوگا۔ مثال کے طور پر یہی جملہ لیجیے جو میں نے ابھی کہا… مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسے ختم ہوگا۔ یہ ’’ختم‘‘ کے لفظ پر کیوں ختم ہوا؟ یہ کیوں نہ کہا گیا کہ یہ کیسے انجام کو پہنچے گا؟ یہ کیسے ترقی کرے گا؟ یہ کیسے نتیجہ اخذ کرے گا؟ کس چیز نے یہ طے کیا کہ جملے کا آخری لفظ ’’ختم‘‘ہوگا؟ سچ کہوں تو میں نہیں جانتا۔
ہم پوری طرح نہیں سمجھتے کہ انسانی دماغ جملے اور خیالات کیسے بناتا ہے۔ لیکن جہاں تک زبان کے ٹوکن ترتیب دینے کا تعلق ہے، مصنوعی ذہانت پہلے ہی ہم سے بہت، بہت زیادہ بہتر ہونے کی راہ پر ہے۔ اور جس طرح آج کوئی انسان شطرنج میں مصنوعی ذہانت کو نہیں ہرا سکتا، اسی طرح جلد کوئی بھی انسان مالیات سے لے کر مذہب تک کسی میدان میں زبان کے کھیل میں مصنوعی ذہانت کو نہیں ہرا سکے گا۔ الفاظ سے بنی ہر چیز پر مصنوعی ذہانت کا قبضہ ہو جائے گا۔
مصنوعی ذہانت اور بیوروکریسی پر قبضہ
یہی وجہ ہے کہ اے آئی دنیا کی بیوروکریسیوں پر قبضہ کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ بالآخر الفاظ اور زبان کے ٹوکنوں پر مبنی ہیں۔ اب جیسے جیسے اے آئی بیوروکریسیوں پر قبضہ کر رہی ہے، انسان کسی ایسی چیز کی طرف واپس جانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو بیوروکریسی کے مقابلے میں ہم میں سے اکثر کے لیے زیادہ قدیم اور زیادہ قیمتی ہے یعنی ذاتی رشتے۔ بیوروکریسی صرف چند ہزار سال پرانی ہے۔ اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ اسے واقعی پسند نہیں کرتے چاہے ہم اپنے ہر کام کے لیے اس پر مسلسل انحصار کریں۔ ذاتی رشتے لاکھوں سال پرانے ہیں اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ زندگی کی سب سے اہم چیز ہیں۔
لیکن جیسے جیسے مصنوعی ذہانت زبان پر عبور حاصل کرے گی، یہ نہ صرف بیوروکریسی بلکہ کسی حد تک ذاتی رشتوں پر بھی قبضہ کر سکتی ہے۔ پچھلے 10 سال میں، ہم نے دیکھا ہے کہ انتہائی ابتدائی سوشل میڈیا الگورتھمز نے انسانی توجہ پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔ اب محاذ توجہ سے ہٹ کر قربت کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اگلے دس سال میں کہیں زیادہ جدید مصنوعی ذہانتیں انسانوں کے ساتھ گہرے اور قلبی رشتے بنانے کا طریقہ سیکھ لیں گی اور تب وہ ہمارے سماجی نظاموں پر کم از کم جزوی طور پر قبضہ کر سکتی ہیں۔
انسانوں کے ساتھ قربت پیدا کرنے کے لیے اے آئی کو شاید ہمیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ باشعور ہے، محبت، درد، غصے اور خوف جیسی چیزیں محسوس کر سکتی ہے۔ فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اے آئی کسی موڑ پر باشعور اور شاید اگلے موڑ پر درد یا محبت محسوس کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ لیکن چونکہ وہ زبان پر عبور حاصل کر رہی ہے، اس لیے اے آئی محبت محسوس کرنے کا ڈھونگ رچا سکتی ہے، چاہے وہ اُسے محسوس نہ بھی کرتی ہو۔ مصنوعی ذہانت آج بھی یہ کہہ سکتی ہے ’’میں تم سے محبت کرتی/کرتا ہوں۔‘‘ اور اگر آپ اسے چیلنج کرتے ہیں’’مجھے بیان کرو کہ محبت کیسی محسوس ہوتی ہے تاکہ مجھے معلوم ہو ، تم واقعی اسے محسوس کرتی ہو‘‘ تو اے آئی دنیا کی بہترین تشریح فراہم کر دے گی۔
مصنوعی ذہانت اور انسانی رشتوں کا مستقبل
وہ اب تک لکھی گئی محبت کی ساری شاعری اور نفسیات کی تمام کتابیں پڑھ اور ہر لفظ یاد رکھ سکتی ہے ۔وہ کسی بھی انسانی شاعر، ماہر نفسیات یا عاشق سے بہتر محبت کے احساس بیان کر سکتی ہے۔ گویا یہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا، شاید سب سے بڑا نفسیاتی اور سماجی تجربہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ اربوں انسانوں پر بحیثیتِ تجرباتی گنی پگ کیا جائے گا اور کسی کو اس بات کا ذرا سا بھی اندازہ نہیں کہ اِس تجربے کے نتائج کیا ہوں گے۔
آج جو انسان پچاس سال کا ہے، اِس کے لیے رشتوں کاسانچہ والدین، بیوی، بچوں، بہنوں ، بھتیجوں اور بھانجیوں اور دوستوں اور کتوں وغیرہ کے ساتھ پہلے ہی تشکیل پا چکا ۔وہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعامل کرے گا، اپنے ساتھ اپنے خیالات، رشتوں کے بارے میں اپنی عادات لائے گا اور اُن کے ڈرامائی طور پر بدلنے کا امکان نہیں ۔
لیکن 2026 ء میں پیدا ہونے والے ایک بچے پرذرا غور کریں جو آج پیدا ہوا ہے۔ جیسے جیسے یہ بچہ بڑا ہوگا، وہ انسانوں کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ بھی مسلسل میل جول رکھے گا۔ اگر آپ کسی رشتے کی اہمیت کا اندازہ خالصتاً دوسرے وجود کے ساتھ بات چیت میں گزارے منٹوں کی بنیاد پر لگائیں، تو شاید اِس بچے کی زندگی کے سب سے اہم رشتے کم عمری سے اے آئی کے ساتھ ہی وابستہ ہوں گے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی ماں، باپ، بہن بھائیوں یا دوستوں کے مقابلے میں اے آئی کے ساتھ زیادہ وقت گزارے۔ اور پھر یہی چیز اِس بچے کے بڑے ہونے پر اُس توقع کو شکل دے گی کہ رشتے، سماجی تعلقات اور لگاؤ کیسے بنائے جاتے ہیں۔
شاید اِس بچے کا پہلا استاد ایک اے آئی استاد ہو۔ شاید پہلا بوائے فرینڈ ایک اے آئی بوائے فرینڈ ہو۔ اور پھر اِس کے نتائج کیا ہوں گے؟ کسی کو ہلکا سا بھی اندازہ نہیں۔ ایسے وجود کے ساتھ کوئی گہرا رشتہ بنانے کا کیا مطلب ہے جو باشعور لگتا ہے لیکن اصل میں نہیں ؟ جو محبت کی بہترین نظم لکھ سکتا ہے لیکن محبت یا کسی دوسرے جذبے کا کوئی احساس نہیں رکھتا؟
اے آئی ہجرت کی زبردست لہر
میں لیکچر کے اختتام پر آ رہا ہوں۔ ہر وہ چیز جس پر ہم نے بحث کی، اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا ہر ملک جلد ہجرت کی ایک بہت بڑی لہر کا سامنا کرے گا۔ اس بار مہاجرین وہ انسان نہیں ہوں گے جو ویزے کے بغیر نازک کشتیوں میں آئیں یا آدھی رات کو سرحد پار کرنے کی چپکے سے کوشش کریں گے۔ یہ مہاجرین لاکھوں شاید اربوں کی تعداد میں اے آئی ہوں گے جو روشنی کی رفتار کے قریب سفر کر سکتے ہیں اور جنہیں کسی ویزے کی ضرورت نہیں ۔انسانی مہاجرین کی طرح یہ اے آئی مہاجر اپنے ساتھ بہت سے فائدے لے کر آئیں گے۔ ہمارے پاس صحت کے نظام میں مدد کے لیے اے آئی ڈاکٹر ہوں گے۔ تعلیمی نظام میں مدد کے لیے اے آئی استاد ہوں گے۔ یہاں تک کہ غیر قانونی انسانی مہاجرین روکنے کے لیے اے آئی سرحدی محافظ بھی ہوں گے۔ لیکن اے آئی مہاجرین اپنے ساتھ مسائل بھی لائیں گے۔
جو لوگ انسانی ہجرت کے بارے میں فکر مند ہیں ،وہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مہاجرین نوکریاں چھینتے، مقامی ثقافت بدل دیتے اور سیاسی طور پر بے وفا ہوتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں کہ یہ تمام انسانی مہاجرین کے بارے میں لازمی طور پر سچ ہے لیکن یہ یقینی طور پر اے آئی مہاجرین کے بارے میں سچ ہوگا۔ اے آئی مہاجرین ایڈیٹروں سے لے کر بینکرز تک بہت سی انسانی نوکریاں چھین لیں گے۔ ہر ملک کی ثقافت مکمل طور پر بدل دیں گے۔ وہ آرٹ، مذہب اور یہاں تک کہ رومانس بدل دیں گے۔کچھ لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا اگر ان کا بیٹا یا بیٹی کسی مہاجر فرینڈ کے ساتھ ڈیٹنگ کر رہا ہو۔ یہ لوگ کیا سوچیں گے جب ان کا بیٹا یا بیٹی کسی اے آئی فرینڈ کے ساتھ ڈیٹنگ شروع کرے گی؟ اور یقیناً اے آئی مہاجرین کی کچھ مشکوک سیاسی وفاداریاں ہوں گی۔ وہ غالباً میزبان ملک نہیں بلکہ سمندر پار کسی کارپوریشن یا حکومت یا شاید ایک نئے غیر ملکی اے آئی قبیلے کے وفادار ہوں گے۔
تہذیب: انسان اور اے آئی کا معاملہ
ہجرت کی اِس زبردست لہر کا مطلب انسانی تہذیب کا خاتمہ نہیں ۔ لیکن یہ وہ نقطہ ہو گا جب تہذیب خالصتاً انسانی معاملہ نہیں رہے گی بلکہ انسان اور اے آئی کا ایک ہائبرڈ معاملہ بن جائے گی۔ وہ نقطہ جب اے آئی کی آرا، مفادات اور مقاصد غالباً انسانوں کی آرا ، مفادات اور مقاصد جتنے ہی اہم ہو جائیں گے۔غور طلب ایک آخری مسئلہ یہ ہے کہ اے آئی ہجرت کی لہر ہمارے سب سے اہم رشتے کے ساتھ کیا کرے گی جو ہمارے اپنے ساتھ ہے۔
ہمارے ذہنوں میں الفاظ کی ساخت
اپنے ساتھ ہمارے تعلقات بھی کچھ حد تک الفاظ پر مبنی ہیں… ہمارے ذہنوں کے اندر، خیالات میں اور ان کہانیوں میں جو ہم اپنے آپ کو اپنے بارے میں بتاتے ہیں۔ آج تک ذہنوں میں تمام لفظی تشکیل انسانی ذہنوں کی پیداوار تھی۔ یا تو ہم نے خود الفاظ کو کسی نئی تشکیل، ایک نئے خیال میں یکجا کیا یا ہم نے الفاظ کا ایک خاص امتزاج کسی دوسرے انسانی ذہن سے حاصل کر لیا۔تاہم جلد ہی ہمارے ذہنوں میں زیادہ سے زیادہ الفاظ کے امتزاج اے آئی کی پیداوار ہوں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے گھر کا فرنیچر اب ہمارے یا انسانی کاریگروں کے ذریعے نہیں بنتا ، وہ زیادہ تر مشینوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ذہنوں کے خیالات بھی تیزی سے مشینوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر تیّار کیے جانے کا امکان ہے۔اب یہ ضروری نہیں کہ بُرا عمل ہو۔ اگر میرے گھر کا فرنیچر آئی کییا (Ikea) میں مشینوں نے بنایا تو یہ ٹھیک ہے…لیکن جب تک کہ یہ فیصلہ کرنے کی مجھے آزادی حاصل ہو، اِس فرنیچر کے ساتھ کیا کرنا ہے ۔خیالات کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ اے آئی کے دور میں وہکس حد تک آزاد رہ سکیں گے؟
خیالات سے شناخت
ہر انسان اپنے خیالات کی مدد سے نہ صرف دوسروں کو شناخت کرتا بلکہ خود بھی شناخت کیا جاتا ہے۔’’میں سوچتا ہوں کہ میں اپنے خیالات میں ہوں۔ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں۔‘‘ فرانسیسی فلسفی، ڈیکارٹ نے کہا تھا۔ اگر ہم اپنے خیالات کے ذریعے شناخت کرتے ہیں اور عنقریب یہ خیالات مشینوں سے وجود میں آنے لگے تو کیا اِس کا مطلب ہے، مشینیں جلد ہمیں اور ہماری شناخت کو کنٹرول کرنے لگیں گی؟کیا انسان اپنے زبانی خیالات سے شناخت کرنے اور ان کے کنٹرول میں آنے سے بچ سکتے ہیں؟ یہ ہمیشہ سے انسانیت کو درپیش عظیم ترین فکری اور روحانی چیلنجوں میں سے ایک رہا ہے۔ زیادہ تر انسانوں نے کبھی اِس کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہم اپنی پوری زندگی اپنے ذہن میں لفظی ساخت کے ساتھ خود بخود شناخت کرنے میں صرف کردیتے ہیں۔
روحانی چھلانگ لگانے پر مجبور
میں سمجھتا ہوں، اے آئی انسانیت کو وہ روحانی چھلانگ لگانے پر مجبور کر سکتی ہے جس کے ذریعے اُس سچائی کو واقعی تلاش کیا جا سکے جو الفاظ سے بالاتر ہے کیونکہ ہماری آزادی اور بقا اب اسی امر پر منحصر ہے…جلد ہی الفاظ کسی اور چیزسے کنٹرول کیے جائیں گے یعنی اے آئی کے ذریعے۔لہذا اُس سچائی کو تلاش کرنا جو الفاظ سے باہر ہے، انسانیت کے لیے سب سے بڑا کام بن رہا ہے ۔ اور یہ تلاش اگلے لفظ سے شروع ہوتی ہے جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کہاں سے آیا ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے یہ خاص لفظ کیوں سوچا اور کوئی دوسرا لفظ کیوں نہیں؟