کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔
سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی کی درخواست اس لیے دائر کی گئی کیونکہ موجودہ تفتیشی ادارے نے کیس میں مؤثر انداز میں کام نہیں کیا۔ ان کے مطابق اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی جبکہ کرائم سین بھی متاثر کیا گیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ پولیس ابتداء میں کیس کو خودکشی قرار دے رہی تھی، واقعے کے دو روز بعد جائے وقوعہ سے گولی کا خول ملنا بھی سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ خودکشی کے امکان کو خارج کرچکی ہے جبکہ پولیس افسران جن پر شواہد خراب کرنے کے الزامات ہیں وہ اب بھی متعلقہ عہدوں پر موجود ہیں۔
تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش دوبارہ شروع کی گئی اور ٹیم نے صفر سے کام کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق زیادہ تر شواہد ڈیجیٹل نوعیت کے ہیں، ایک خول ملا ہے تاہم پستول برآمد نہیں ہو سکا۔ فرانزک اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔
عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے واضح کیا کہ ’’ہم کلیئر ہیں کہ قتل ہوا ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور رپورٹ جمع کرانے کے لیے 7 ستمبر تک کا وقت ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے کیس کو اہم قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی کیس میں شامل کی جاسکتی ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ اہلخانہ کے خدشات دور کیے جائیں۔
پراسیکیوٹر جنرل شبیر شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش کو مکمل ہونے کا موقع دیا جائے، ابھی یہ واضح نہیں کہ واقعہ قتل ہے یا خودکشی۔ ان کے مطابق تفتیشی رپورٹ آنے سے پہلے ہی حکومت اور انتظامیہ پر کیس کو سبوتاژ کرنے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جوڈیشل کمیشن اور جے آئی ٹی میں کیا فرق ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ کمیشن فیکٹ فائنڈنگ اور تفتیش میں معاونت کرتا ہے جبکہ جے آئی ٹی قانون کے مطابق تفتیش کر سکتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم قانون کی خلاف ورزی تو نہیں ہوگا، اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ عدالت نے تفتیش روکنے کا حکم دینے سے متعلق بھی واضح کیا کہ موجودہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
سندھ ہائیکورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔
کیس سے متعلق دستاویزات جمع
حکومت سندھ نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر دستاویزات جمع کروا دیں، تفتیشی افسر سراج لاشاری نے دستاویزات رجسٹرارعبد الماجد کے پاس جمع کروائیں۔
جمع کرائی گئیں دستاویزات میں مقدمے سے منسلک افسران کی فہرست شامل ہے جبکہ مشیر نامے اور دیگر رپورٹس بھی شامل ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکومت سندھ کے فوکل پرسن کو دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
وکلاء کی میڈیا سے گفتگو
سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری کوشش اب یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن پر اعتراض نہیں ہے بلکہ اسکو مضبوط کیا جائے، سرکاری وکیل نے واضح کر دیا کہ جوڈیشل کمیشن کا کام تفتیش کرنا نہیں ہے۔ سرکاری وکیل نے جے آئی ٹی کی مخلافت کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کے شکر گزار ہے کہ ہمیں سن لیا گیا ہے، عدالت پابند نہیں ہے کہ ہماری استدعا کو منظور کرے، عدالت کے مشکور ہیں ایک ہفتے میں ہی ہمیں تفصیلی سن لیا گیا ہے، بہتر ہے کہ تفتیشی افسر نے واضح کر دیا ہے یہ واقعہ قتل کا ہی ہے۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ عجیب بات ہے اے جی سندھ نے کہا جے آئی ٹی کے لیے آئی جی سندھ کو لکھیں، وہ کس طرح سے وفاقی اداروں کو جے آئی ٹی کے لیے لکھ سکتے ہیں، جوڈیشل کمیشن کو مزید ٹی او آرز دیکر مزید مضبوط کیا جائے۔
پراسیکوٹر جنرل سندھ شبیر شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ نے بھی یہ کہا ہے کہ یہ درخواست ابھی قبل از وقت ہے، ہمیں ابھی تفتیش کرنی ہے، اگر ہمیں لگے گا کہ تفتیش ٹھیک نہیں تو ہم اسے رد بھی کر سکتے ہیں، جب کورٹ میں تفتیشی رپورٹ آئے گی تو ہم جمع کروائیں گے۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس مقدمے میں 24 گھنٹوں میں مقدمہ درج کرکے لاش برآمد کی، لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید حکومت ملوث ہے لیکن ایسا نہیں، مقدمہ درج ہونے کے باوجود احتجاج اور روڈ بلاک کرنے کا سلسلہ جاری ہے، تفتیشی ٹیم چالان پیش کرے گی تو ہم جائزہ لیں گے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام مقدمات کے اندر قانون میں جے آئی ٹی کی گنجائش نہیں ہے، جے آئی ٹی صرف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے مقدمات میں بنائی جاتی ہے، جے آئی ٹی وفاقی قانون کے مطابق بنتی ہے لیکن سی آر پی سی میں جے آئی ٹی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ اس کیس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے حقائق جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے، جوڈیشل کمیشن ایک غیر جانبدار فورم ہے، جسے چیف جسٹس نے اپائنٹ کیا ہے، اس کیس میں حکومت ضروری سمجھے گی تو جے آئی ٹی بنا دے گی۔ اگر جوڈیشل کمیشن نے تجویز دی تو مقدمے میں انسداد دہشتگردی کا اضافہ کر دیا جائے گا۔