چین میں پھیپھڑوں کے کینسر سے اموات میں اضافے کا امکان

2030 تک پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی اموات 7 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ سکتی ہے: تحقیق


ویب ڈیسک September 01, 2026

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین میں 2030 تک پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی اموات 7 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

چین میں پھیپھڑوں کا کینسر بدستور کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی کے باعث مجموعی اموات میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

چینی محققین نے 2013 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں کینسر سمیت مختلف وجوہات سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں 605 نگرانی مراکز سے حاصل ہونے والے تقریباً 2 ارب 37 کروڑ شخصی سال (person-years) کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا جبکہ مختلف شماریاتی طریقوں کے ذریعے پھیپھڑوں کے کینسر کی شرحِ اموات میں تبدیلی کی وجوہات کا تجزیہ کیا گیا۔ پرسن ایئر دورانیے کی ایک اکائی ہے جس میں 10 لوگوں پر کی گئی ایک سال کی تحقیق 10 سال پرسن ایئر بنتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشی اب بھی چین میں ایک اہم خطرے کا عنصر ہے۔ 2018 کے اعداد و شمار میں تقریباً 26.6 فی صد بالغ افراد سگریٹ نوشی کرتے تھے جبکہ بڑی تعداد میں غیر تمباکو نوش افراد بھی بالواسطہ دھوئیں کا سامنا کرتے تھے۔ فضائی آلودگی اور صنعتی ترقی کے اثرات بھی اس بیماری کے مجموعی بوجھ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق صورتحال میں ایک اہم تضاد سامنے آتا ہے: عمر کے مطابق شرحِ اموات کم ہو رہی ہے لیکن آبادی میں اضافے اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے سے مجموعی اموات بڑھ سکتی ہیں۔

تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پھیپھڑوں کے کینسر سے نمٹنے کے لیے تمباکو نوشی اور دیگر خطرے کے عوامل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے اثرات کو بھی صحتِ عامہ کی منصوبہ بندی میں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔